Monday, 20 August 2018

ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟

https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725



ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قانون منسوخ کردیاہے۔انہوں نے اپنی انتخابی مہم میں اس قانون کی منسوخی کا وعدہ کیا تھا۔

سابق وزیر اعظم نجیب رزاق کی حکومت میں بنائے گئے اس قانون کے مطابق جعلی خبروں کی اشاعت میں ملوث کسی بھی شخص کو  6سال قید اور ایک لاکھ30ہزار ڈالرتک جرمانے کی سزا دی جاسکتی تھی۔

موجودہ وزیراعظم مہاتیر محمد بھی ان لوگوں میں شامل تھے جن کو اس قانون کے تحت تحقیقات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔


Urdu Khabrain

تھری ڈی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت

https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39752




اُبھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں تھری ڈی اور مصنوعی ذہانت اس وقت دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بن گئی ہیں۔ اس وقت تقریباً ہر شعبے میں مصنوعی ذہانت کو بروئے کار لانے کے لئے کام جاری ہے اور اب تحقیق کاروں نے تھری ڈی کے شعبے میں بھی مصنوعی ذہانت سے استفادہ حاصل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اب مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کام کرنے والے تحقیق کار، دو جہتی میدان کی جگہ تھری ڈی میں مصنوعی ذہانت کی مدد لیں گے۔ تحقیق کاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ بجائے اس کے کہ وہ ایسا نظام وضع کریں جو تھری ڈی کی بنیادی منظر کشی کرے کیوں نہ وہ مصنوعی ذہانت کو اس شعبے میں براہ راست متعارف کروا دیں۔

اس طریقۂ کار کو اپنانے سے روبوٹکس اور بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں کے شعبے میں نمایاں بریک تھرو حاصل ہو گا اور اس طرح مشینوں کو زیادہ مؤثر انداز میں کام کرنے کی صلاحیت حاصل ہو گی۔ ایم آئی ٹی کے شعبےبرین اینڈکاگنیٹیوسائنسز کے پروفیسر جوش ٹینن بام جو اس نظریے کے خالق بھی ہیں، کا کہنا ہے کہ یہ لرننگ بیسڈ ویژن سسٹم کے لئے ایک بہترین اور پرجوش ٹرینڈ ہے اور اس کی مدد سے اشیا کو صرف تھری ڈی کے تناظر میں نہیں دیکھا جائے گا بلکہ ان ٹھوس اجسام کا گہرائی میں تجزیہ کرتے ہوئے اس کے پیٹرن کے بارے میں تمام تر جزئیات حاصل کی جائیں گی چاہے وہ کوئی جانور ہو، میز ہو یا پھر کرسی۔ پروفیسر جوش نے اس مقصد کے لئے مشین لرننگ کی تکنیک کو استعمال کیا جس کے ذریعے معاندانہ ماڈلنگ کو تخلیق کیا جاتا ہے۔

اس کمپیوٹر کو تھری ڈی کی خصوصیات کو جاننے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس طریقۂ کار کے تحت نئے آبجیکٹس تخلیق کئے جا سکتے ہیں جو تکنیکی اور فزیکلی بالکل درست ہوں۔ تحقیق کاروں کی ٹیم نے اپنی اس کاوش کے نتائج چند روز قبل بارسلونا (اسپین) میں ہونے والی کانفرنس میں پیش کئے ہیں۔ اس حوالے سے پروفیسر جوش کا مزید کہنا ہے کہ یہ وہ واحد تکنیک ہے جس کی مدد سے مادی دنیا کا احاطہ کیا جا سکتا ہے۔ کاگنیٹیو سائنسز میں ہونے والی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ انسان سہ جہتی اجسام کو خاص تناظر میں دیکھنے کے بعداسے کارروائی کے لئے استعمال کرتا ہے۔ اس کی مثال اس طرح دی جا سکتی ہے کہ فطری طور پر یہ تاثر ہے کہ میز کرسی سے زیادہ بھاری ہوتی ہے، اس کے علاوہ کرسی پر بیٹھے ہوئے پیچھے کی جانب زیادہ جھکنے سے گر سکتے ہیں، یہ وہ ادراک ہے جس کی بنا پر انسان معاملات کو خاص تناظر میں دیکھتا ہے اور پھر کوئی قدم اٹھاتاہے۔

جوش کے علاوہ بھی کئی تحقیق کار سہ جہتی شعبے کو مزید آسان بنانے کے لئے کام کر رہے ہیں، جس کے تحت سادہ اور آسان خیالات کو اس طرح ڈویلپ اور ٹیسٹ کیا جا سکتا ہے جس کی مدد سے اسے حقیقی دنیا میں درست انداز میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر مائیکرو سافٹ میں ایک گروپ نےایک ایسا مشین لرننگ سسٹم پیش کیاہے، جو کمپیوٹر گیم مائن کرافٹ کے تجرباتی ورژن کے اندر تیار کیا گیا ہے۔ پروفیسر جوش کا ماننا ہے کہ حقیقی دنیا میں پیش آنے والے عوامل ہی مصنوعی ذہانت کو بہتر انداز میں استعمال کرنے کا سبب بنتے ہیں۔

توقع ہے کہ مصنوعی ذہانت پر کام کرنے والے محققین کے لیے مستقبل میں تھری ڈی ٹیکنالوجی کی نئی جہتیں متعارف کرائی جائیں گی۔

ایک اور پروجیکٹ میں پہلے ہی روبوٹس پر توجہ مرکوز رکھی گئی ہے۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلی کی ایک ٹیم نے پروفیسر سرگی لیوائن کی سربراہی میں ایک ایسا سسٹم تیار کیا ہے ، جو ویڈیو اِمیجری اور تجربات کے اشتراک سے حقیقی دنیا کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پروفیسر سرگی لیوائن اور ان کی ٹیم اس پروجیکٹ کے ذریعے فزکس کو عام فہم بنانے کی کوشش کررہی ہے، جہاں ایک روبوٹ کسی چیز کو زور سے مُکا مارتا ہے اور پھر اس کے اثرات کو تصوراتی دنیا میں جانچا جاتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس طرح سے اس روبوٹ میں نئے نئے کام انجام دینے کی صلاحیت پیدا کی جاسکے گی۔

پروفیسر جوش ٹینن بام واحد محقق نہیں، جو اس خیال کے حامی ہیں کہ مصنوعی ذہانت کو ترقی دینے کے لیے ضروری ہے کہ کسی بھی ایکشن (عمل) کو حقیقی دنیا میں سمجھا جائے۔ یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے پروفیسر نینڈو ڈی فریٹاس بھی اسی نظریے کے حامی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ، حقیقی دنیا کو سمجھے بغیر مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی میں کہیں نہ کہیں، کوئی نہ کوئی کمی رہ ہی جائے گی۔پروفیسر نینڈو ڈی فریٹاس نے یونیورسٹی میں ایب بار تقریر کے دوران کہا تھا،’ ’فزکس کو سمجھنے کا ایک ہی طریقہ ہے، اور وہ یہ ہے کہ حقیقی دنیا کے ساتھ زیادہ سے زیادہ ’انٹرایکشن‘ رکھا جائے۔پکسلز کے ذریعے سیکھنا کافی نہیں ہے‘‘۔



Urdu Khabrain

عمران خان قوم کی امیدوں پر پورا اترنے کے لئے پُرعزم

https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39688




قومی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کے نامزد کردہ سپیکر اسد قیصر کی کامیابی پر ایوان میں مسلم لیگ (ن) کے ارکان کی جانب سے جو ہنگامہ آرائی ہوئی وہ پہلے سے طے شدہ حکمت عملی کے تحت تھی یا مسلم لیگ (ن) نے اپوزیشن کے متفقہ امیدوار سید خورشید شاہ سے اتنی توقعات وابستہ کرلی تھیں کہ اس کا شدید ردّعمل سامنے دیکھنے میں آیا۔ یہاں یہ بات بھی غیر معمولی نظر آتی تھی کہ شکست پاکستان پیپلزپارٹی کے سید خورشید شاہ کو ہوئی تھی اور ایوان میں احتجاج مسلم لیگ (ن) کے اراکین کررہے تھے ۔اس بحث سے قطع نظر اس موقع پر جو کچھ ہوا وہ کسی طور پر بھی مناسب نہیں تھا اور اس ساری صورتحال نے اس پارلیمانی ماحول کو گہنا دیا جو قومی اسمبلی کے ارکان کی حلف برداری کے موقع پر دیکھنے میں آیا تھا۔ بہرحال اس بدمزگی کا اب کیا ذکر۔۔اُسی خوشگوار ماحول کا ذکر کیا جائے جو حلف برداری کے موقع پر تھا۔

ملک میں سابقہ دو جمہوری ادوار کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے جس باوقار اور خوشگوار ماحول میں قومی اسمبلی کے منتخب اراکین نے جن میں تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندےشامل تھے ایوان کی رکنیت کا حلف اٹھایا اورافہام وتفہیم کی فضا میں جن پارلیمانی روایات اور اخلاقی اور سماجی روایات کی پاسداری کی وہ ہراعتبار سے جمہوریت کے لیے خوش آئند ہے وہ ارکان جنہیں ان کی شکست خوردہ اور ناراض قیادت نے حلف نہ اٹھانے یاایوان میں نہ جانے کا پہلے حکم دیا اور پھر ہدایت کی وہ بھی ایوان میں موجود تھے اپوزیشن کے جن ارکان کو بطور خاص کالی پٹیاں فراہم کی گئی تھیں کہ وہ ایوان میں اپنے بازئوں پر یہ پٹیاں باندھ کر انتخابات میں دھاندلی کے خلاف علامتی احتجاج کریں انہوں نے یہ کالی پٹیاں بازوں پر باندھنے کی بجائے لپیٹ کرجیب میں رکھ لیں اور انتخابی نتائج پر دھاندلی کا طوفان اٹھا دینےوالی جماعتوں کے اراکین حلف برداری کے افتتاحی اجلاس میں انتہائی خوش و خرم، ہشاش بشاش اپنے سیاسی مخالفین سے بھی معانقے کرتے، مصافحے کرتے نظر آرہے تھے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ ملک میں جمہوریت کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے حکومت سازی کے لیے پہلا مرحلہ یعنی اراکین کی حلف برداری پاکستان کے یوم آزادی کی سالگرہ14اگست سے محض ایک دن پہلے ہوا اور اس طرح بقول تحریک انصاف نئے پاکستان کا آغاز بھی ایک تاریخی موقعہ پر ہو رہا ہے۔ اس بات پر بھی حیرت کا اظہار یا استفسارات کرنے کی بجائے کہ جو جماعتیں اور ارکان انتخابات میں دھاندلی کے خلاف مسلسل شور و غوغا ٹی۔وی ٹاک شوز میں آہ و بکا اور احتجاج کررہے تھے انہوں نے قومی اسمبلی کے ایوان میں اس حوالے سے خاموشی کیوں اختیار کی ہوئی تھی؟ ان کے اس شائستہ طرز عمل پر ان کےتحمل یا حکمت عملی کی ہی سہی لیکن تعریف کرنی چاہیے کیونکہ ان کے اس طرز عمل کے باعث ہی پورے پاکستان میں ہی نہیں بلکہ بیرون ممالک بھی پاکستان میں جمہوریت کے حوالے سے ایک مثبت پیغام گیا ہے۔ قومی اسمبلی کے موجودہ ایوان میں جہاں مولانافضل الرحمان، چوہدری نثار علی خان، محمود خان اچکزئی ( ان کے خیالات سے قطع نظر) سمیت متعددسینئر تجربہ کار اورآئین و قانون پر دسترس رکھنے والے پارلیمنٹرینز موجودہ ایوان میں موجود نہیں ہیں۔ لیکن سابق صدر آصف علی زرداری، سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف، قومی اسمبلی کے سابق سپیکر سید فخرامام سمیت کئی نئے چہرے ایوان میں آئے ہیں جن میں سرفہرست پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین اور محترمہ بے نظیربھٹو کے صاحبزادے بلاول بھٹو میں شامل ہیں۔ ایوان کو پُرشوراورکارروائی کو ہنگامہ خیزبنانے والے مسلم لیگ(ن) کے دوارکان خواجہ سعد رفیق اور عابد شیر علی کی کمی بھی اس حوالے سے محسوس ہوگی تاہم دیکھنایہ ہوگا کہ پہلی مرتبہ قومی اسمبلی میں آنے والے پنجاب کے سابق وزیرقانون رانا ثنا اللہ اس کمی کو کس طرح پوراکرتے ہیں۔ لیکن خواجہ محمد آصف اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے بھی کئی ایسے مسلم لیگی ارکان کی کمی پوری کرنے کے لیے کافی ہیں۔

حلف برداری کے موقع پر ایوان میں دیکھے جانے والے بعض مناظر بالخصوص عمران خان کے آصف علی زرداری، بلاول بھٹو اور پیپلزپارٹی کے بعض دیگر راہنمائوں کے ساتھ مصافحوںنے کئی نئے مباحثوں، امکانات اور خدشات کوجنم دیاہے۔ قیاس کیاجارہاہے کہ باالخصوص قومی اسمبلی کے ایوان میں پاکستان پیپلزپارٹی کا کردار وہی ہوگا جو اس سے پہلے مسلم لیگ(ن) کی حکومت میں تھا یعنی ’’فرینڈلی اپوزیشن‘‘کاکیونکہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے ارکان آنے والے دنوں میں حکومتی بنچوں کو ٹف ٹائم دے سکتے ہیں لیکن یہ اسی صورتحال میں نتیجہ خیز اور مؤثر ثابت ہوگا جب ایوان کی تیسری بڑی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی ان کے ساتھ ہو اگر پیپلزپارٹی کے ارکان ایسے مرحلوں پر ’’فرینڈلی اپوزیشن‘‘ کا کردارادا کرتے ہوئے مسلم لیگ(ن) کا ساتھ دیتے ہیں تو اس کا فائدہ حکومتی جماعت یعنی پاکستان تحریک انصاف کو ہی جائے گا اس طرح جہاں ایوان میں پاکستان تحریک انصاف کو پیپلزپارٹی کی ضرورت ہے وہیں پیپلزپارٹی کو بعض معاملات میں حکومتی جماعت کی بالخصوص سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ، فریال تالپور پر منی لانڈرنگ اور بدعنوانیوں کے الزامات ہیں جبکہ آصف علی زرداری پر بعض ایسے سنگین الزامات بھی ہیں جن کا انکشاف عزیر بلوچ نے بھی کیا اور پھر تحقیقاتی اداروں نے تحقیقات کرنے کے بعد ان کی تعریف بھی کی اور ناقابل تردید شواہد بھی حاصل کر لیے۔

قومی اسمبلی میں پاکستان پیپلزپارٹی کے ارکان کی تعداد کم سہی لیکن سینٹ میں بہرحال ایسا نہیں ہے اس لیے یہ کہاجاسکتا ہے کہ آصف علی زرداری اگر ایک بار پھر نئی حکومت میںصدرکا منصب حاصل کرنے کے خواب ہی نہیںدیکھ رہے بلکہ تعبیر حاصل کرنے کی بھی کوشش کررہے ہیں تو شاید غلط نہ ہو۔ ’’برسبیل تذکرہ یا ازرہ تفنن‘‘ یہ بات بھی درست ہے کہ مولانا فضل الرحمان بھی الیکشن سے پہلے اور بعد میں بھی اس جستجو میں مصروف رہے ہیں اور انہوں نے ابھی حوصلہ نہیں ہارا اور وہ بنوں کے ضمنی انتخابات لڑنے کی تیاریوں میں مصروف تھے تاہم اب انہوں نے ضمنی انتخاب میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیاہے۔لیکن وہ موجودہ وفاقی حکومت کے خلاف احتجاجی اور مزاحمتی سیاست کرکے اپنا سیاسی وزن ضروربڑھائیں گے تاہم آصف علی زرداری اس حوالے سے خاصے سنجیدہ ہیں حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اپنی صحت کے پیش نظر وہ اب آرام کرتے اور بلاول کی راہنمائی کا فریضہ انجام دیتے لیکن بادی النظرمیں ان کی اس خواہش کی وجہ منصب کی شان و شوکت نہیں بلکہ وہ استثنیٰ حاصل کرنا ہے جو صدارت کے منصب پر متمکن ہو کر انہیں حاصل ہوجائے گا۔ پھر عدالتیں، نیب اور ایف آئی اے ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔

تین مرتبہ رہنے والے سابق وزیراعظم نواز شریف کو جو ان دنوں اپنی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کے ہمراہ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں اسیری کی زندگی گزار رہے ہیں ایک ماہ بعد انہیں جیل سے بکتر بند گاڑی میں جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد میں واقع احتساب عدالت میں لایا گیا۔ جب انہیں لندن سے وطن واپسی پر لاہور ایئر پورٹ سے گرفتار کرکے راولپنڈی اڈیالہ جیل میں منتقل کیا گیا تھا تو ابتدائی طور پر یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا یافتہ نواز شریف کے خلاف مقدمے کی سماعت جیل میں ہی لگائی جایا کرے گی جس پر اسے انتہائی اقدام قرار دیتے ہوئے غیر جانبدار حلقوں نے بھی اس فیصلے کی مذمت کی جس کے بعد نظرثانی کے بعد فیصلہ تبدیل کردیا گیا لیکن جس انداز سے پولیس، رینجرز اور ایلیٹ فورس کی گاڑیوں کے حصار میں احتساب عدالت لایا گیا اس طرح کے اقدامات تو کلبھوشن یادیو کو ایئرپورٹ سے اسلام آباد لائے جانے کے موقع پر بھی نہیں کئے گئےتھے۔ انہیں شدید گرمی اور حبس کے عالم میں بکتر بند گاڑی میں ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع احتساب عدالت میں لے جانا شاید تین مرتبہ ملک کے وزیراعظم کے ساتھ قدرے زیادتی ہے پھر عدالت تو کجا جوڈیشل کمپلیکس کے احاطے میں ہی میڈیا کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی اور پورے کمپلیکس میں کرفیو کا سا سماں تھا جس پر میڈیا کے نمائندوں نے شدید احتجاج بھی کیا۔

یہ سیاسی ’’طرہ امتیاز‘‘ پاکستان کو ہی حاصل ہے جہاں ملک میں عام انتخابات کے انعقاد سے قبل نگران حکومت قائم کی جاتی ہے اوریہ منفرد اعزاز بھی کہ انتخابات میں ایک امیدوار چار چار نشستوں پر الیکشن لڑتا ہے اور پھر ایک نشست اپنے پاس رکھ کر باقی پر دوبارہ ضمنی انتخابات ہوتا ہے جن پر خطیر رقوم کے اخراجات ہوتے ہیںاور متعلقہ علاقوں میں ایک بار پھر انتخابی ماحول سے نظام درہم برہم ہوجاتا ہے اس ناپسندیدہ روایت کے تحت اب ملک بھر میں قومی اسمبلی کی 11نشستوں پر ضمنی انتخابات آئندہ دو ماہ کے دوران منعقد ہوں گے ان گیارہ نشستوں میں سے 9 نشستیں ایسی ہیں جن پر انتخابی امیدواروں نے اضافی طور پر الیکشن لڑ کر کامیابی حاصل کی تھی جنہیں اب واپس کردیاگیا ہے جبکہ دو نشستوں میں راولپنڈی کی NA 60 جس پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حنیف عباسی نااہل ہوگئے تھے اور فیصل آباد کے حلقے NA 103 جہاں امیدوار کے انتقال کے باعث انتخابات ملتوی ہوگئے تھے۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران ان امیدواروں میں سرفہرست ہیں جنہوں نے بیک وقت پانچ نشستوں سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا اور پانچوں پر کامیاب ہوکر پاکستان کی سیاست میں ایک منفرد ریکارڈ قائم کیا عمران خان نے میانوالی کی نشست اپنے پاس رکھی جبکہ بنوں، اسلام آباد، لاہور اور کراچی کی نشستیں واپس کر دیں۔ ضمنی انتخابات کا ماضی تو یہی ہے کہ یہ نشستیں حکومتی جماعت کو ہی واپس مل جاتی ہیں اس طرح یہ چار نشستیں بھی تحریک انصاف کے حصے میں ہی آئیں گی۔



Urdu Khabrain

اینٹی اکسیڈنٹس: چہرے کیلئے انتہائی اہم

https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39597



جلد کی حفاظت انتہائی نازک معاملہ ہے، جو ہر وقت خواتین کی توجہ چاہتا ہے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ ایک ہفتہ جلد کا خیال رکھ کر یہ سمجھ لیا جائے کہ اب یہ خراب نہیں ہوگی اور اس کے بعد اسے فطرت کے حوالے کردیا جائے۔جلد ہمارے جسم کا سب سے بڑا حصہ ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اس کا پوری طرح سے خیال رکھا جائے۔ جلد کی حفاظت میں اینٹی آکسیڈنٹس اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ یہ جلد میں فری ریڈیکلز کی پیداوار کو روکتے ہیں جو جلد کے خلیوں کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ جلد کو خوبصورت اور صحت مندبنانے کے لیے اسکن کیئر پراڈکٹس میں ان کا استعمال کیا جاتا ہے۔ قدرتی ذرائع سے حاصل ہونے والے یہ اینٹی آکسیڈنٹس، جلد کی سوزش ،جلد پر عمر کے اثرات کو کم کرنے اورجلد کو لچکدار بنانے کا کام کرتے ہیں۔

اینٹی آکسیڈنٹس کے فوائد

سوزش کو ختم کرتے ہیں :اینٹی آکسیڈنٹس دوران خون اور میٹابولزم کے عمل کو بڑھا کر جلد کی سوزش کوکم کرتے ہیں ۔ سوزش کم ہونے سے جلد نا صرف ہموار ہوتی ہے بلکہ جُھریوں اورایکنی سے بھی محفوظ رہتی ہے۔

جلد میں کھنچائو پیدا کرتے ہیں :اینٹی آکسیڈنٹس جلد کو سخت اور جوان رکھتے ہیں۔ یہ جلد سے بڑھتی عمر کے اثرات کو ختم کرکے اس کو لچکدار بنانےکے ساتھ اس کی نمی بھی برقرار رکھتے ہیں۔ کو اینزائم کیو -10جلد کو سخت بناتا ہے، اس کا استعمال آنکھوں کی کریمز میں ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ جلد کو سخت بنانے کے لیے ایسا موائسچرائزر استعمال کریں، جس میں کو اینزائم کیو -10موجود ہو ۔

جُھریوں کو کم کرتے ہیں:یوں تو جھریوں کا ختم ہونا ناممکن ہوتا ہے لیکن اسکن پراڈکٹس میںاینٹی آکسیڈنٹس کی موجودگی جلد کو اُبھار کر اسے جوان بناتے ہیں۔ زیادہ تر اینٹی آکسیڈنٹس جُھریوں اور لکیروںکو کم کر تے ہیں لیکن وٹامن سی اور ای اس کے لیے بہت زیادہ مفید ہے۔ بہت سی اسکن پراڈکٹس اور آئی کریمز میں ان وٹامنز کا استعمال ہوتا ہے۔

نشان ختم کرنے کے لیے:اینٹی آکسیڈنٹس جلد پر پڑے نشان مٹانے کا اہم کام بھی انجام دیتے ہیں۔ یہ نشان الگ سیلز سے بنے ہوتے ہیں، اس وجہ سے الگ ہی نظر آتے ہیں۔ بہت سے اینٹی آکسیڈنٹس جن میں ایک ایلیئم بھی ہے ( جو ایلوویرا اور پیاز کے رس میں پایا جاتا ہے) نشانوں کی طرف دوران خون کو تیز کرتے ہیں جن سے یہ نشان ہلکے ہوکر جلد کی رنگت میں ہی مل جاتے ہیں ۔ نشانوں کو ختم کرنے کے لیے استعمال ہونے والے جیل اور کریموں میں اینٹی آکسیڈنٹس کا استعمال کیا جاتا ہے۔

دھوپ کے نقصان سے بچاتے ہیں:ہم سب جانتے ہیں کہ تیز دھوپ ہماری جلد کے لیے نقصان دہ ہے۔ تیز دھوپ جلد کو خشک کرکے اس کے خلیوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔ اینٹی آکسیڈنٹس خون میں شامل ہوکرنئے سیلز بنانے میں مدد دیتے ہیں،جو دھوپ سے پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کرکے جلد کو جوان بناتے ہیں۔ بہت سے کلینزر اور موائسچرائزر میں شامل اینٹی آکسیڈنٹس، سورج سے پہنچنے والے نقصان کے علاج میں کارآمدثابت ہوتے ہیں۔

اینٹی آکسیڈنٹس کے ذرائع

زیتون کا تیل: زیتون کا تیل اینٹی آکسیڈنٹس کا خزانہ ہوتا ہے اور یہ وٹامن اے اور وٹامن ای سے بھرپور ہوتا ہے۔ یہ دھوپ، آلودگی اور دھوئیں کی وجہ سے جلد کو پہنچنے والے نقصان کو صحیح کرکے اسے خوبصورت بناتا ہے۔ توانائی بخش یہ تیل، جس طرح اندرونی طور پر جسم کے لیے فائدہ مند ہے، اسی طرح جلد کی حفاظت کے لیے بھی نہایت مفید ہے۔ زیتون کا تیل لاتعداد خصوصیات کی بناء پر کئی طرح سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ زیتون کا تیل اچھا موائسچرائزر بھی ثابت ہوتا ہےکیونکہ یہ جلد میں گہرائی تک جذب ہوجاتا ہے۔

جلد کو نمی فراہم کرنے کے لیے جلد کی حفاظت کرتا ہےاور اسے نرم و ملائم رکھتا ہے۔ زیتون کا تیل ایکس فولی ایٹر بھی بہت اچھا ہوتا ہے۔پرانے زمانے میں لوگ اپنی خوبصورتی کو بڑھانے کے لیے زیتون کے تیل کا استعمال کرتے تھے، جس کی وجہ سے ان کی جلد بڑھتی عمر میں تروتازہ رہتی تھی۔ اگر آپ کی جلد خشک ہے تو زیتون کے تیل میں سمندری نمک ملا کر چہرے پر ملیں۔ یہ ایکس فولی ایٹر جلد کے ان حصوں پر لگائیں، جو حصے خشکی سے متاثر ہیں، اس طرح پرانی خشک جلد کی جگہ نئی جلد آجائے گی۔

سبز چائے:گرین ٹی میں وافر مقدار میں کیٹ چن ہوتی ہےجو جلد پر اینٹی آکسیڈنٹ، اینٹی انفلیمیٹری اور اینٹی ایجنگ اثرات مرتب کرتی ہے۔ گرین ٹی جلد کی سطح کو موٹا کرنے میں مدد دیتی ہے۔ یہ زخموں کو تیزی سے بھرنے اور ہموار کرنے میں مددگار ہوتی ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ایسا لوشن یا سیرم (جس میں گرین ٹی شامل ہو) باہر دھوپ میں نکلنے سے30منٹ پہلے لگالیا جائے تو دھوپ سے جلد کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ اگر آپ کئی گھنٹوں کے لیے باہر جائیں تو سن اسکرین کے ساتھ گرین ٹی ملا کر چہرے پر لگائیں۔

ہلدی:ہلدی کا استعمال مصالحہ کےطور پر کیا جاتا ہے لیکن اس میں وافر مقدار میں اینٹی آکسیڈنٹ کرسومن موجود ہوتاہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ متاثرہ جلد پر ہلدی کا استعمال ناصرف جلد کو صحت یاب کرتا ہے بلکہ اس پر پڑجانے والے سیاہ نشان بھی ختم کرتا ہے۔ اپنے کھانے، سبزی اور سوپ میں ہلدی کا استعمال کریں، اس کے علاوہ اسے دودھ کے ساتھ پکا کر پئیں۔ آپ ادرک اور ہلدی کی چائے بنا کر بھی پی سکتے ہیں۔


Urdu Khabrain

گوبھی کھایئے اور آنتوں کے سرطان سے بچیے

https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39627




گوبھی اور شاخ گوبھی کا استعمال آنتوں کو صحتمند رکھتے ہوئے کینسر سے بچاتا ہے۔ فوٹو: فائل


لندن: سبزیوں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور ہرے پتوں والی سبزیوں میں آئے دن نئے طبی خواص دریافت ہوتے رہتے ہیں۔ اب تازہ خبر یہ ہے کہ گوبھی، شاخ گوبھی (بروکولی) اور کرم کلاں کی ایک قسم کیل آنتوں کے سرطان کو لاحق نہیں ہونے دیتیں۔

لندن میں واقع فرانسِس کرِک انسٹی ٹیوٹ کے سائنسدانوں نے کہا ہے کہ سبزیاں ہضم ہوتے وقت جسم میں سرطان دورکرنےوالے اجزا خارج کرتی ہیں اور اسی لیے یہ سبزیاں اپنے اندر حیرت انگیز خواص رکھتی ہیں۔ اس کی آزمائش کے لیے گوبھی، کیل اور بروکولی کے اجزا کو تجربہ گاہوں میں آنتوں کے خلیات اور چوہوں پر آزمایا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آنتوں کی اندرونی دیواروں کے خلیات ہمارے جلد کے خلیات کے طرح تیزی سے جھڑتے اور پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ اگر اس عمل میں گڑبڑ ہوجائے تو کینسر کا مرض بھی لاحق ہوسکتا ہے۔

ماہرین نے اپنے تجربات کے دوران ان سبزیوں میں پائے جانے والے خاص کیمیائی مادے انڈول تھری کاربینول کو آزمایا، یہ کیمیائی مادہ آنتوں میں جاکر  اسٹیم سیلز کو بدلتا ہے، آنتوں کے نئے استر بناتے وقت سوزش کو روکتا ہے اور امنیاتی خلیات کو طاقت دیتا ہے۔ تجربات کے دوران مشاہدہ کیا کہ اس کیمیکل کی وجہ سے آنتوں کے کینسر کے قریب پہنچ جانے والے چوہے بھی بیماری سے محفوظ رہے۔  جن چوہوں کی آنتوں میں سرطانی پھنسیاں بن رہی تھیں سبزیوں سے ان کی افزائش بھی رک گئی جو ایک بہت عمدہ پیش رفت ہے۔ اسی بنا پر ماہرین عوام کو زیادہ سے زیادہ سبزیاں کھانے کا مشورہ دے رہے ہیں۔


Urdu Khabrain

ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟

https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...