Tuesday, 31 July 2018

شیشے کا پل چین کا تعمیراتی شاہکار

https://is.gd/qBvLLv




میدان سائنس کا ہو ،ٹیکنالوجی کایا تعمیرات کا !چین نت نئی اور حیرت انگیزتعمیرات اور ایجادات کے حوالے سےدنیا بھر میں مشہور ہے۔ حالیہ برسوں میں چین کی سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں حیران کن کامیابی نے دنیا بھر میںجہاں اس کا نام روشن کیا ہے، وہاں چین کےحیرت میں مبتلا کردینے والےتعمیراتی شاہکار، عجائبات سے کم نہیں۔

دنیا میں پل تو آپ نے بہت دیکھے ہوں گے، تاہم چین دنیا کا سب سے بڑا اور حیرت انگیز پل تعمیر کرکے نئی تاریخ رقم کردی ہے۔ اس پل کی خصوصیت ہے کہ یہ دنیا کا سب سے طویل پل ہونے کے علاوہ شیشے سے تعمیر کیا گیا ہے۔ اس پل پر چلنے والے افراد کے لیےمضبوط دل ہونا بے حد ضروری ہے، کیونکہ کمزور دل افراد کےلیے اس پر چلنا ناممکن ہے۔آئیے جانتے ہیں کہ یہ پل کیسا ہےاور اس کی تعمیرات سے متعلق حقائق کیا ہیں۔

مقام

یہ پل چین کے مرکزی صوبے ہونان میں ’’شینجیاجی ‘‘کے مقام پرواقع نیشنل پارک میں 11,900ایکڑ رقبے پرتعمیر کیا گیا ہے،جو’اوتار‘ (جہاں ہالی ووڈ کی کامیاب فلم اوتارفلمائی گئی ) نامی دو پہاڑی چوٹیوں کو آپس میںملاتا ہے۔گزشتہ برس اس پل کو عوام کے لیے کھولا گیاتھا۔ اس پل کی لمبائی 430 میٹر ہے، جبکہ اسے300میٹر گہری کھائی پر تعمیر کیا گیا ہے، جس کے سبب اس پل کو دنیا کانا صرف سب سے لمبا بلکہ سب سے اونچا پل بھی کہا جاتا ہے۔

ڈیزائن اور تعمیراتی لاگت

اس پل کا تعمیر اتی ڈیزائن بنانےکے لیےدنیا بھر میںمشہور اسرائیلی آرکیٹیکٹ ہیم دوتان کاانتخاب کیاگیا۔ ہیم دو تان نے دنیا کے سب سے طویل اور 4میٹر چوڑےپل کو ڈیزائن کیا۔ پل کی تعمیرچائنا کے ہیبے بیلو گروپ (Hebei Bailu Group)کی جانب سے کروائی گئی۔ پل کی تعمیر 18ماہ کے دوران مکمل کی گئی اور اس پر460ملین یو آن (48ملین پاؤنڈ) کی تعمیراتی لاگت آئی۔اس پل کی تعمیر کے لیے تلےTitanium Alloyنامی مضبوط ترین شیشے کا انتخاب کیا گیا۔ یہ شیشہ اتنا شفاف ہے کہ ہزارو ں فٹ نیچے کا منظر صاف دکھائی دیتا ہے۔

محفوظ ہونے سے متعلق خدشات کیسے دور کیے گئے؟

یہ پل استعمال کے لیے کتنا محفوظ ہے؟ اس حوالے سے آرکیٹیکٹ ہیم دوتان کہتے ہیںکہ اس میں شیشے کی تین شفاف تہوں کے 99 حصے ہیں۔ تعمیرسے قبل 40 ٹن وزن کےہمراہ بھاری ٹرک گلاس پینل سے گزاراگیا ۔ہیم دوتان کے مطابق، یہی نہیں ہم نے پل کو عوام کے لیے کھولنے سے قبل مختلف تقریبات میںلوگوں کودعوت دی کہ وہ آئیں اور پانچ منٹ تک اس پل پر ہتھوڑے برسائیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پانچ منٹ تک ہتھوڑے برسانے سےشیشے کی پہلی تہہ پر خراش آئی جبکہ باقی دو تہیں محفوظ رہیں ۔ہیم دوتان کا کہنا ہے کہ پل پر 2200مسافر ایک ساتھ بآسانی چل سکتے ہیں،تاہم حفاظت کو یقینی بنانے کے پیش نظر اس پل پر صرف 500سیاحوں کو بیک وقت آنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ اس دوران انھیں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ ٹھوس زمین پر چل رہے ہوں ۔

شیشے کا پل چین کا تعمیراتی شاہکار

ہیم دوتان کا کہنا ہے کہ میں نے پل کوکسی تعمیراتی شاہکار کے طور پر ڈیزائن نہیں کیا بلکہ اس کی تعمیر کچھ غائبانہ انداز سے کی۔آرکیٹیکٹ کے مطابق پل کے ارد گرد ایک تھیٹر (بیضوی طرز کی تماش گاہ ) بنائے جانے کا ارادہ ہے، جس کے بعد پل کو میوزک کنسرٹ اور فیشن شو کے لیے مختص کردیا جائے گا۔اس پل کی تعمیر کے بعد چینی حکومت کی جانب سے سیکیوریٹی خدشات کے پیش نظر دو چیزوں پر پابندی عائد کی گئی ہے، جس میں سے ایک( Stiletto Heel)ہےاوردوسری سیلفی اسٹک، جس سے متعلق حکام کو خدشہ ہے کہ سیلفی اسٹک اور پینسل ہیل دونوں اس پل پرچلنےوالے افراد کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں۔

اگر بات کی جائے پل پر سیاحوں کے لیے موجود خاص بات کی تواس پل میں ایک ویو پوائنٹ بھی بنایا گیا ہے، جہاں سے پل کےنیچے بہتی آبشار کا نظارہ بھی کیا جا سکتا ہے، جبکہ قریب ہی مہم جوئی کے شوقین سیاحوں کے لیے Bungee Jump کی سہولیات بھی موجود ہیں۔تو ہماری مانیے، جب بھی آپ چین جائیں، اس شیشے کے پل کا نظارہ کرنے کے لیے وقت ضرور نکالیں



Urdu Khabrain

ششی کپور نے ممتاز کو ہیروئن بنانے سے انکار کیوں کیا؟

https://is.gd/NSBDl9



قصہ مشہور ہے کہ بالی وڈ انڈسٹری کے لیجنڈری ایکٹر ششی کپور نے ساتھی اداکارہ ممتاز کے ساتھ کام کرنے سے انکار کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ تو اسٹنٹ فلموں کی ہیروئن ہے، میں ان کے ساتھ کام کیوں کروں۔

31 جولائی 1947ء کو ممبئی میں پیدا ہو نے والی ممتاز کو بچپن سے ہی فلموں میں کام کرنے کا شوق تھا وہ ہمیشہ سے ہی اداکار ہ بننے کا خواب دیکھا کرتی تھیں ۔اسی لیے محض 12سال کی عمر میں ممتاز نے فلم انڈسڑی میں اپنا قدم رکھ دی

ممتازنے بھارتی فلم انڈسٹری میں بطور اسٹنٹ ہیروئن شروعات کی اور پھر ایکشن فلموں میں کام کرتے کرتے یہ بہترین رومانٹک ہیروئن بن گئیں۔

بھارتی فلم انڈسٹری کے مشہور اداکار دارا سنگھ جو کہ پہلوان بھی تھے، ان کے ساتھ کوئی بھی ہیروئن کام کرنا نہیں چاہتی تھی۔ پروڈیوسر اور ڈائیریکٹرز پریشان تھے کہ ہیروئن کہاں سے لائیں۔اتنے میں ڈائیریکٹر کی نظر ممتاز پر پڑی تو ڈائیریکٹر نے دارا سنگھ سے پوچھا کہ کیا یہ ہیروئن چلے گی تو اس پر دارا سنگھ نے جواب دیا کہ مجھے اپنی فلم سے مطلب ہے ہیروئن کوئی بھی ہواور یوں ممتاز ایکسٹراز سے ہیروئن بن گئی ۔

دارا سنگھ کے ساتھ ممتاز نے جن فلموں میں کام کیا ان میں ’ہرکیولیس‘، ’فولاد‘، ’ویر بھیم سین‘،’سیمسن ‘ ،’ٹارجن کم ٹو دہلی‘ ،’آندھی اور طوفان‘،’سکندر اعظم ‘،’ ٹارجن ایند کنگ کانگ ‘،’رستم ہند‘،’باکسر‘،جوان مرد‘،’ ڈاکو منگل سنگھ‘ وغیرہ شامل ہیںاور اس طرح ممتاز کے اوپر لیبل لگ گیا کہ وہ صرف ایکشن ہیروز کے ساتھ ہی کام کرسکتی ہیں۔

ششی کپور نے ممتاز کو ہیروئن بنانے سے انکار کیوں کیا؟
ریسلر اور بالی ووڈ اداکار دارا سنگھ اور بالی ووڈ اداکارہ ممتاز

ایسے میں کوئی بھی بڑا پروڈیوسر اور کوئی بھی بڑا ہیرو ممتاز کیساتھ کیوں کام کرتامگر آہستہ آہستہ سپورٹنگ رول کرتے ہوئے ممتاز نے اپنی جگہ مین اسکرین رومانٹک سینما میں بھی بنالی۔

1965ءکی فلم’’ میرے صنم‘‘ میں ممتاز کے کام کو اتنا سراہا گیا اور قسمت نے وہ پلٹی کھائی کہ ان کو دلیپ کمار کی ہیروئن بنا دیا گیا ۔

یہ باتیں بھی مشہور ہوئیں کہ شمی کپور اور ممتاز ایک دوسرے سے بے انتہا محبت کرتے ہیںاور یہ دونوں جلد شادی کرنے والے تھے لیکن یہ شادی کیوں نہیں ہوئی اس کی وجہ ممتاز نے کئی سالوں بعد بتائی ۔

ششی کپور نے ممتاز کو ہیروئن بنانے سے انکار کیوں کیا؟
شمی کپور اور ممتاز

وجہ یہ تھی کہ شمی کپور چاہتے تھے کہ ممتاز گھر پر رہیں اور فلموں سے کنارہ کشی اختیار کرلیں۔یہ وہ وقت تھا جب ممتاز دھیرے دھیرے کامیابی کی سیڑھیا ں چڑھ رہی تھیں اور اسی وجہ سے ممتاز نے شمی کپور سے شادی کا ارادہ ترک کردیا۔

ایسے میں ہندی فلم انڈسٹری کے پہلے سپر اسٹار راجیش کھنا نے ان کا ہاتھ تھامااور پھر فلم ’’دوراستہ ‘‘میں ان کی جوڑی سپر ہٹ ہوگئی۔ اور پھر دونوں نے ایک کے بعدایک 8 سپر ہٹ فلمیں دی۔

وہ دور بھی آیا کہ جب ششی کپور نے ممتاز جی سے گزارش کی کہ وہ ان کیساتھ فلم کر لیں ۔شروعات میں ممتاز نے منع کردیا لیکن بعد میں انہوں نے ششی کپور کی بات مان لی اور اس طرح ’’چور مچائے شور ‘‘میں ان کے کام کو کافی پدیرائی ملی ۔

ممتاز نے 15 سال کے طویل کیرئیر میں 108 فلمیں کی اور پھر1970ءکی فلم ’’کھلونا‘‘ کے لیے تو ان کو بہترین اداکارہ کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

ممتاز کی جوڑی دھرمیندر جی ، سنجیوکماراور بھی کئی سپر اسٹارز کیساتھ ممتاز کی جوڑی خوب جمی۔

ششی کپور نے ممتاز کو ہیروئن بنانے سے انکار کیوں کیا؟
ممتاز اور ان کے شوہر میور مدھوانی

1974ءمیں جب ممتاز فلم انڈسٹری میں راج کر رہی تھیں تب ممتاز نےمیور مدھوانی سے شادی کرکے فلموں سے دور چلی گئیں۔حالانکہ شادی کے 12 سال کے بعد انہوں نے پھر فلم ’’اندھیاں‘‘سے فلموں میں واپسی کی کوشش کی لیکن وہ فلم زیادہ چل نہ سکی اور پھر ممتاز ہمیشہ کے لیے فلموں سے دور چلی گئیں۔

ششی کپور نے ممتاز کو ہیروئن بنانے سے انکار کیوں کیا؟
ممتاز اور ان کی بیٹیاں نتاشا اورتانیا

ممتاز کی دو بیٹیاں ہیں جن میں نتاشا اورتانیا ہیں جن میں نتاشا کی شادی فروز خان کے بیٹے فردین خان سے ہوئی ہے۔

ممتاز ہمیشہ سے فائٹر رہیں ہیں اسی لیے جب ان کو کینسر سے جیسی محلق بیماری نے گہراتو انہوں نے اس کا سامناایک فائٹر کی طرح کیا کینسر جیسی بیماری کو مات دے دی۔


Urdu Khabrain

فٹ بال کا بڑا اعزاز، پاکستانی ٹیم کی منی ورلڈ کپ فٹ بال میں شرکت

https://is.gd/xqUS1G




پاکستانی فٹ بال ٹیم پرتگال میں ہونے والے سکس اے سائیڈ ورلڈ کپ میں شرکت کرے گی۔ پاکستانی ٹیم کو گروپ بی میں روس، اسپین اور مالڈوا کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ فٹ بال کے اس ایونٹ میں دنیا کے 32 ممالک کی ٹیمیں حصہ لیں گی اور اس کو منی ورلڈ کپ کا درجہ دیا جارہا ہے جو 23 تا29ستمبر پرتگال کے شہر لزبن میں کھیلا جائے گا۔ ورلڈ کپ میں پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز لیژر لیگس نیشنل چیمپئن شپ کی فاتح لاہور کی آئی سی اے ڈبلیو(آئی کین اینڈ وِل)کو حاصل ہوا ہے۔ چیمپئن شپ کے فائنل میں لاہور کی ٹیم نے پشاور کی شنواری ایف سی شکست دیکر منی ورلڈ کپ میں رسائی حاصل کی۔ سکس اے سائیڈ ورلڈ کپ میں بھارت کی ٹیم بھی شامل ہے جسے گروپ ’جی‘ میں جرمنی، کروشیا اور انگولا کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ دیگر ٹیموں میں گروپ ’اے‘ ُمیں پرتگال، پیراگوئے، ترکی، یونان، گروپ ’سی‘ بلجیم، چین، ویلز، اسکاٹ لینڈ، گروپ ’ڈی‘ فرانس، الجیریا، کینیڈا، آئرلینڈ، گروپ ’ای‘ انگلینڈ، یو ایس اے، قازقستان، سلو واکیہ، گروپ ’ایف‘ برازیل، مصر، بلغاریہ، لٹویا اور گروپ ’ایچ‘ میں پولینڈ، تیونس، اومان اور سلوانیہ کی ٹیموں پر مشتمل ہے۔ ہر گروپ کی 2ٹاپ ٹیمیں پری کوارٹرفائنل کیلئے کوالیفائی کریں گی۔ چیمپئن شپ کا فائنل 29ستمبر کو کھیلا جائے گا۔

انٹرنیشنل ساکا فیڈریشن کے سینئر نائب صدر شاہ زیب ٹرنک والا نے پاکستانی ٹیم کے سکس اے سائیڈ ورلڈ کپ فٹ بال میں شرکت کو پاکستانی فٹ بال کا سب سے بڑا اعزاز قرار دیا ہے۔ ٹرنک والا گروپ کے چیف ایگزیکٹو شاہ زیب ٹرنک والا نے کہا ہے کہ پاکستان کیلئے بڑے اعزازکی بات ہے کہ دنیائے فٹ بال کی تاریخ میں پہلی بار قومی ٹیم کسی بڑے فٹ بال ایونٹ میں شرکت کرے گی۔ پرتگال میں ہونے والا سکس اے سائیڈ منی ورلڈ کپ فٹ بال 23 ستمبر سے شروع ہوگا جس میں دنیا کی 32 ٹاپ ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں اس میں پاکستان کو بھی گروپ بی میں رکھا گیا ہے۔ پاکستانی ٹیم کے ساتھ اس گروپ میں روس میں ہونے والے ورلڈ کپ 2018 ء کی چیمپئن فرانس اور ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی میزبان روسی ٹیم اور مالڈوا شامل ہیں۔ ہم نے انٹرنیشنل ساکا فیڈریشن میں پاکستانی فٹ بال کا کیس انتہائی مضبوط دلائل کے ساتھ پیش کیا اور ورلڈ فٹ بال فیڈریشن نے ہماری پاکستان میں فٹ بال کیلئے کی جانے والی کوششوں کی تعریف کی اور پاکستان کو منی ورلڈ کپ میں شامل کیا۔ ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی شرکت اس لحاظ سے بھی بڑا اعزاز ہے کہ آج تک ہم صرف ساف ممالک کی چیمپئن شپ میں شرکت کرتے رہے ہیں کسی بڑے عالم ایونٹ میں ہماری شرکت ممکن نہیں ہوسکی ہے۔

توقع ہے کہ لاہور کی آئی سی اے ڈبلیو بہترین تیاری کے ساتھ عالمی ایونٹ میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرکے ملک و قوم کا نام روشن کرے گی۔ یہی نہیں ہم مستقبل میں بھی ورلڈ گروپ کی زیراہتمام دنیائے فٹ بال میں پاکستان ٹیم کو مختلف ایونٹس میں شامل کرانے کی بھرپور کوششیں کریں گے جس سے پاکستانی نوجوانوں کو نہ صرف عالمی فٹ بال میں کھیلنے کا موقع ملے گا بلکہ بہتر روزگار بھی میسر آئے گا۔

ورلڈ گروپ کے چیئرمین محمود ٹرنک والا نے بھی ورلڈ کپ میں پاکستان کی شرکت پر لیژر لیگس کے چیف آپریشن آفیسر اسحاق شاہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی ٹیم کےساتھ کیلنڈر ایئر کے اپنے تمام ایونٹ کو کامیابی کے ساتھ مکمل کیا اور تمام طے شدہ مراحل سے گزرنے کے بعد لاہور کی آئی سی اے ڈبلیو نے پرتگال میں ہونے والے بڑے ایونٹ میں کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا۔ اب اس ٹیم کی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائے اور ثابت کرے کہ پاکستان میں فٹبال کھیل کا بہترین ٹیلنٹ موجود ہے۔ میری خواہش تھی کہ ورلڈ کپ میں پاکستانی فٹبال کے ساتھ پاکستان کی ٹیم بھی شرکت کرے۔ اب وہ منزل قریب ہے جب پاکستان کا کھلاڑی دنیائے فٹبال کی عظیم ٹیموں کے مقابل اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرتا نظر آئے گا۔

منیر محمود ٹرنک والا اور انس محمود ٹرنک والا نے بھی ورلڈ کپ میں شرکت کرنے والی قومی ٹیم کی کامیابی کیلئے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ لیژرلیگس کے سی او او اسحق شاہ نے منی ورلڈ کپ میں شرکت کو پاکستانی فٹ بال کی سب سے بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر شاہ زیب نے پاکستانی فٹ بال کا کیس جس طرح لڑا ہے وہ قبل تعریف ہے۔ سکس اے سائیڈ ورلڈ کپ میں پاکستان کی نمائندگی کو بڑا اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ٹیم کو عالمی سطح کے ایونٹ میں براہ راست شرکت کا اعزاز حاصل ہونے جارہا ہے۔ انہوں نے ورلڈ کپ میں شرکت کرنے والی لاہور کی آئی سی اے ڈبلیو کو ایک مضبوط ٹیم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ لاہور کی ٹیم اپنی عمدہ کارکردگی سے نہ صرف لاہور کی چمپئن قرار پائی تھی بلکہ حالیہ نیشنل چیمپئن شپ میں بھی ناقابل شکست رہتے ہوئے قومی چمپئن ہونے کا اعزاز بھی اپنے نام کیا۔

بہت جلد ورلڈ کپ کی تیاری کیلئے تربیتی کیمپ لگا کر ٹیم کی فزیکل فٹنس پر کام کیا جائے گا تاکہ دنیا کی عظیم ٹیموں کے مقابل قومی ٹیم بھرپور مقابلہ کرنے کی اہل ثابت ہو۔ کپتان آئی سی اے ڈبلیو آفاق احمد اپنی ٹیم کی منی ورلڈ کپ ففٹ بال کیلئے کوالیفائی کرنے پر بہت خوش ہیں ان کا کہنا ہے کہ پوری تیاری کے ساتھ ورلڈ کپ میں شرکت کیلئے پرتگال جائیں گے۔ ہماری کوشش ہوگی کہ اپنے گروپ میں موجود روس اور اسپین کی ٹیموں کو شکست دے کر اگلے مرحلے کیلئے کوالیفائی کریں۔ منی ورلڈ کپ میں شرکت کرنا مجھ سمیت تمام کھلاڑیوں کیلئے اعزاز ہے۔ ہماری کوشش ہوگی کہ اپنے کھیل سے اپنے انتخاب کو درست ثابت کریں۔



 
Urdu Khabrain

بلجیئم ، سیاسی پناہ کی آڑ میں دھوکا دہی کرنے والے 115 افراد گرفتار

https://is.gd/VkVMYl
بلجیئم میں گزشتہ 6 ماہ کے دوران اسا ئیلم فراڈ یا سیاسی پناہ کی آڑ میں دھوکا دہی کرنے والے 115 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ۔ یہ وہ افراد ہیں جنہوں نے بلجیئم میں اس موقف کے ساتھ پناہ حاصل کی تھی کہ انہیں ان کے آبائی ملکوں میں جان کا خطرہ ہے ۔ اگر انہیں یہاں پناہ نہ دی گئی تو وطن واپسی پر انہیں ہلاک کردیا جائے گا ۔

گزشتہ 6ماہ کے دوران بلجیئم اور مختلف یورپین ائیرپورٹس سے 115 ایسے افراد پکڑے گئے جنہوں نے پناہ کی درخواست کی منظور ی کے بعد ضروری کاغذات ملتے ہی اپنے آبائی ملک چلے گئے اور جب واپسی پر ان سے پوچھا گیا کہ وہ کہاں اور کیوں گئے تھے تو ا نہوں نے جواب دیا کہ وہ تعطیلات گزارنے گئے تھے ۔

اس حوالے سے بیلجیئم کے پناہ گزینوں اور مائیگریشن کے معاملات کے وزیر تھیو فرانکن نے کہا کہ یہ عمل سراسر فراڈ ہے ۔ہم لوگوں کو انسانیت کی بنیاد پر پناہ دیتے ہیں لیکن وہ جھوٹ بولتے ہیں ۔

معلوم ہوا ہے کہ پکڑے جانے والے افراد میں سے اکثریت کا تعلق عراق، شام اور افغانستان سے ہے ۔ یاد رہے کہ باہمی تعاون کے یورپین نظام کے ذریعے بیلجیئم کا کوئی مسافر جب اندرون ملک کے ساتھ ساتھ کسی اور ملک کے ائیرپورٹ سے جا تا یا واپس آتا ہے تو بیلجین حکومت کے علم میں آجاتا ہے ۔

مذکورہ وزارت کے آفیشلز کے مطابق ان تمام افراد کے کاغذات کو مسترد کر دیا جائے گا ۔
Urdu Khabrain

اسکول کُھلنے سے پہلے چند مشورے

https://is.gd/2894xk



موسم گرما کی طویل چھٹیاں ختم ہونے والی ہیں اور کئی بچے اور ان کے والدین دوبارہ اسکول شروع ہونے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ ایسے میں کئی بچے ایسے بھی ہوں گے، جن کے لیے دوبارہ اسکول جانے کی سوچ ہی پریشان کن ہے۔ ’نیو اسکول ایئر‘ کا آغاز کئی بچوں کے لیے جہاں جوش و خروش کا باعث ہوتا ہے، وہاں ان میںایک عجیب سی بے چینی اور تشویش بھی پائی جاتی ہے۔ مندرجہ ذیل ’بیک ٹو اسکول‘ ٹپس پر عمل کرکے والدین اپنے بچوںاور خود اپنے اندر کے خوف پر قابو پاسکتے ہیں۔

ٹیچر سے ملاقات کریں

طالب علموں میں سب سے بڑا خوف یہ پایا جاتا ہےکہ ’کیا انھیں اپنا نیا ٹیچر پسند آئے گا یا نہیں‘؟ اس خوف اور خدشے کو دور کرنے کے لیے والدین کو نئے سال کے آغاز پر اپنے بچوں کے ٹیچر سے ضرور ملاقات کرنی چاہیے۔اس طرح سے ناصرف والدین کو تسلی ہوجائے گی بلکہ ٹیچر سے متعلق بچوں کے خدشات بھی دور ہوجائیں گے۔اگر ٹیچر آپ کے بچوں کے نام ’ویلکم لیٹر‘ بھیجے تو اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ لیٹر اپنے بچوں کے ساتھ مل کر پڑھیں۔

اس کے علاوہ، آپ اپنے بچوں کو بتاسکتے ہیں کہ ، صرف وہ واحد بچے نہیں، جو اسکول کے پہلے دن کے حوالے سے فکرمند ہیں، بلکہ تقریباً ہر بچے کے دل و دماغ میں اس حوالے سے خدشات پائے جاتے ہیں۔ آپ اپنے بچوں کو یہ کہہ کر بھی تسلی دے سکتے ہیں کہ ٹیچرز کو بھی پتہ ہوتا ہے کہ بچے اسکول کے پہلے دن کس قدر بے یقینی میں مبتلا ہوتے ہیں، اس لیے وہ بھی ان کے خدشات دور کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔

اسکول کا دورہ کریں

یہ بہت اہم ہے کہ آپ اور آپ کے بچے اسکول کے ماحول سے آشنا ہوں۔اگر اسکول میں ’اوپن ہاؤس‘ کا انعقاد کیا جارہا ہے تو والدین اس میں بھی یقینی شرکت کریں۔ والدین کو چاہیے کہ پہلے دن وہ اپنے بچوں کو ان کی کلاس اور ڈیسک تک لے جائیں،انھیں اسکول کا پلے گراؤنڈ دِکھائیںوغیرہ۔ اگر ضرورت محسوس ہو تو اسکول کا دورہ کرنے کے لیے کسی سینئر کلاس کے بچے یا انتظامیہ کی مدد بھی لے سکتے ہیں۔

دوستوں سے روابط بحال کریں

آپ نے اگر اپنے بچے کا کسی نئے اسکول میں داخلہ کروایا ہے تو اپنے دوستوں سے رابطہ کریں اور ان سے معلوم کریں کہ ان کے بچے کس اسکول میں اور کس کلاس میں پڑھتے ہیں۔ اگر ان کے بچے اس اسکول میں پہلے ہی زیرِ تعلیم ہیں تو یہ آپ کے لیے ایک اچھی خبر ہے۔ آپ اپنے بچوں کو ان سے ملوائیں اور پہلے دن اکٹھے اسکول جائیں، اس طرح اسکول کے ماحول کو سمجھنے کے لیے آپ کو کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

نئی کلاس کی تیاری

اپنے بچوں کو نئی کلاس کی تیاری کے لیے بیگ، کتابوں، کاپیوں اور دیگر چیزوں کی ایک فہرست بنائیں اور انھیں لے کر شاپنگ کے لیے نکل جائیں۔ مثلاً، اچھا خوبصورت بیگ اور ان کی مطلوبہ اسٹیشنری دلائیں، ایسا کرنابچوں میں اسکول جانے کاجوش و خروش بڑھا دے گا۔نئی کلاس کے وہ آلات جو بچوں نے پہلے استعمال نہیں کیے، ان کی پریکٹس کروائیں۔

آخری لمحے کا انتظار مت کیجئے

کوئی بھی کام آخری وقت کے لیے نہ چھوڑیں۔ بچوں کے ڈریس اور جوتوں سے لے کر، کتابوں تک، ہر چیز کی ایک حتمی فہرست بنائیں اور اس کے مطابق دیکھیں کہ کہیں کسی چیز کی کمی تو نہیں رہ گئی، یا آپ کوئی چیز خریدنا تو نہیں بھول گئے۔بسا اوقات، والدین نئی کلاس کی تیاری کا اس قدر دباؤ لے لیتے ہیں کہ وہ کئی چیزوں کو نظرانداز کردیتے ہیں۔ آخری وقت کے دباؤ اور چیزیں بھولنے کے ڈر سے بچنے کے لیے ہر ایک چیز کا قبل از وقت جائزہ لینا ضروری ہے۔

بچوں کے ساتھ خوش گپیاں کریں

یہ یاد رکھیں کہ اسکول کا نیا سال شروع ہونے سے پہلے، بچوں کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے، وہ فراغت کے لمحات ہیں۔ اسکول کے آغاز سے ایک روز پہلے بچوں پر نصابی دباؤ مت ڈالیں۔ اس کا منفی اثر یہ ہوگا کہ جو چیزیں ان کے کرنے سے رہ گئی ہیں، اس کی فکر میں انھوں نے جو کچھ پڑھا، سمجھا اور یاد کیا ہے، وہ بھی بھول جائیں گے۔

معمولات میں تبدیلی لائیں

اسکول کھلنے سے ایک ہفتہ پہلے اپنے روز مرہ معمولات میں تبدیلی لاکر اس پر عمل درآمد شروع کریں۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ پُرانی روٹین سے نئی روٹین پر آنا صرف بچوں ہی نہیں بلکہ والدین کے لیے بھی مشکل ہوتا ہے۔ گرمیوں کی چھٹیوں سے نکل کر اسکول شیڈول پر آنا، گھر میں سب کے لیے کافی چیلنجنگ ہوتا ہے۔ اسکول کے پہلے دن کی افراتفری سے بچنے کے لیے ایک ہفتہ قبل ریہرسل کا آغاز کردیں۔

صبح اُٹھنے کا الارم لگائیں اور صبح میں کرنے کے ضروری کاموں کی عادت ڈالیں۔ اسکول شیڈول پر چند دن پہلے سے عمل کرنے سے بچے اچھا محسوس کریں گے اور وہ اسکول کھلنے کے پہلے دن آسانی محسوس کریں گے۔ ان چیزوں پر عمل کرکے آپ اپنے اور اپنے بچوںلیے اسکول کا پہلادن اور ہر دن اچھا اور خوشگوار بناسکتے ہیں۔


Urdu Khabrain

تحریک انصاف کی متحدہ کو حکومت میں شمولیت کی دعوت، کئی نکات پر اتفاق

https://is.gd/lzSL5T




ملاقات میں ایم کیو ایم نے اپنے مطالبات پیش کیے، ذرائع (فوٹو:ایکسپریس)


ملاقات میں ایم کیو ایم نے اپنے مطالبات پیش کیے، ذرائع (فوٹو:ایکسپریس)



کراچی: تحریک انصاف نے ایم کیو ایم کو حکومتی اتحاد میں شمولیت کی دعوت دے دی ایم کیو ایم نے کئی نکات پر اتفاق کرتے ہوئے معاملہ رابطہ کمیٹی کے سپرد کردیا۔


ایکسپریس نیوز کے مطابق تحریک انصاف کا وفد کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کے عارضی مرکز بہادرآباد پہنچا جہاں وفود کی سطح پر دونوں جماعتوں کے درمیان ملاقات ہوئی۔ پی ٹی آئی کے وفد میں جہانگیر ترین، فردوس شمیم نقوی اور عمران اسماعیل جب کہ ایم کیو ایم کے وفد میں خالد مقبول صدیقی، فاروق ستار، خواجہ اظہار الحسن اور وسیم اختر  شامل تھے۔


ایم کیو ایم کے ساتھ کئی نکات پر اتفاق ہوا ہے، جہانگیر ترین


ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جہانگیر ترین نے کہا کہ کراچی کے عوام نے پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کو مینڈیٹ دیا ہے، ایم کیو ایم کے ساتھ مثبت مذاکرات ہوئے اور ان سے کئی چیزوں پر اتفاق ہوگیا ہے، آگے چلنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے اور پارٹی کے بجائے کراچی کے عوام کا سوچیں، ضروری ہے کہ کراچی میں پانی و سیوریج کا مسئلہ حل کیا جائے، ماس ٹرانزٹ منصوبے پر عمل کیا جائے، کچرے کی صفائی سمیت لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کیا جائے۔


رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ ہمارے منشور کے مطابق بلدیاتی نظام اہمیت کا حامل ہے، کے پی کے میں سب سے بہتر بلدیاتی نظام موجود ہے جسے پنجاب سمیت پورے پاکستان میں رائج کریں گے، طاقت کی نچلے طبقے تک منتقلی کے بغیر ترقی ممکن نہیں، وفاق بھرپور طریقے سے کراچی کی ترقی میں شریک ہوگا۔


جہانگیر ترین نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جنوبی پنجاب صوبے کا معاملہ ایک بہت پرانا معاملہ ہے فی الحال صوبوں میں بلدیات کا نظام اچھا لانا ضروری ہے اسے حل کرنے سے کراچی کے مسائل حل ہوں گے، ایم کیو ایم سے وزارت کے معاملے پر فی الوقت کوئی بات نہیں ہوئی۔


امید ہے تحریک انصاف بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنائے گی، خالد مقبول


ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ پی ٹی آئی جمہوریت کے ثمرات عوام تک پہنچائے گی، اختیارات وفاق سے صوبے تک تو آگئے تاہم صوبوں سے بلدیاتی اداروں تک نہیں پہنچے، درخواست کرتے ہیں کہ اختیارات کی منتقلی نچلی سطح تک کی جائے، پاکستان کی ترقی کراچی سے وابستہ ہے اسے طاقت اور ترقی دی جائے۔


رہنما ایم کیو ایم نے مزید کہا کہ ہم نے شخصی یا پارٹی مفادات کے بجائے قومی مفاد پر بات کی ہے، جمہوریت کا تقاضا ہے کہ جہاں جتنا مینڈیٹ ہو وہاں اتنے اختیارات ہونے چاہئیں، پورے ملک میں مزید صوبے بننے چاہییں، پورے ملک میں مضبوط بلدیاتی نظام ہونا چاہیے، حلقہ بندیوں پر اعتراضات کے معاملے کو بھی آگے بڑھائیں گے، تحریک انصاف کی پیشکش رابطہ کمیٹی کے سامنے رکھیں گے اور یقین ہے کہ ہمارے درمیان تعاون قائم ہوگا۔


خالد مقبول نے مزید کہا کہ وفاقی تعاون سے بننے والے منصوبوں میں حائل رکاوٹیں دور کرنے اور کوٹا سسٹم کے خاتمے کے لیے کمیشن بنانے پر بات کی جائے گی۔


فاروق ستار نے کہا کہ پولنگ میں دھاندلی کے معاملے پر ہمارا احتجاج جاری رہے گا کیوں کہ تحریک انصاف نے بھی کہا ہے کہ معاملہ شفاف ہوجائے تو بہتر ہے۔


ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم نے وفاق میں تحریک انصاف کا ساتھ دینے کے لیے پی ٹی آئی کے وفد کے سامنے جو مطالبات رکھے ہیں ان میں کراچی پیکیج، بلدیاتی اختیارات کے لیے آئین میں ترمیم، شہر کے 8 حلقے کھلوانے اور انتظامی یونٹس شامل ہیں۔



Urdu Khabrain

ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟

https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...