https://is.gd/NSBDl9
قصہ مشہور ہے کہ بالی وڈ انڈسٹری کے لیجنڈری ایکٹر ششی کپور نے ساتھی اداکارہ ممتاز کے ساتھ کام کرنے سے انکار کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ تو اسٹنٹ فلموں کی ہیروئن ہے، میں ان کے ساتھ کام کیوں کروں۔
31 جولائی 1947ء کو ممبئی میں پیدا ہو نے والی ممتاز کو بچپن سے ہی فلموں میں کام کرنے کا شوق تھا وہ ہمیشہ سے ہی اداکار ہ بننے کا خواب دیکھا کرتی تھیں ۔اسی لیے محض 12سال کی عمر میں ممتاز نے فلم انڈسڑی میں اپنا قدم رکھ دی
ممتازنے بھارتی فلم انڈسٹری میں بطور اسٹنٹ ہیروئن شروعات کی اور پھر ایکشن فلموں میں کام کرتے کرتے یہ بہترین رومانٹک ہیروئن بن گئیں۔
بھارتی فلم انڈسٹری کے مشہور اداکار دارا سنگھ جو کہ پہلوان بھی تھے، ان کے ساتھ کوئی بھی ہیروئن کام کرنا نہیں چاہتی تھی۔ پروڈیوسر اور ڈائیریکٹرز پریشان تھے کہ ہیروئن کہاں سے لائیں۔اتنے میں ڈائیریکٹر کی نظر ممتاز پر پڑی تو ڈائیریکٹر نے دارا سنگھ سے پوچھا کہ کیا یہ ہیروئن چلے گی تو اس پر دارا سنگھ نے جواب دیا کہ مجھے اپنی فلم سے مطلب ہے ہیروئن کوئی بھی ہواور یوں ممتاز ایکسٹراز سے ہیروئن بن گئی ۔
دارا سنگھ کے ساتھ ممتاز نے جن فلموں میں کام کیا ان میں ’ہرکیولیس‘، ’فولاد‘، ’ویر بھیم سین‘،’سیمسن ‘ ،’ٹارجن کم ٹو دہلی‘ ،’آندھی اور طوفان‘،’سکندر اعظم ‘،’ ٹارجن ایند کنگ کانگ ‘،’رستم ہند‘،’باکسر‘،جوان مرد‘،’ ڈاکو منگل سنگھ‘ وغیرہ شامل ہیںاور اس طرح ممتاز کے اوپر لیبل لگ گیا کہ وہ صرف ایکشن ہیروز کے ساتھ ہی کام کرسکتی ہیں۔

ایسے میں کوئی بھی بڑا پروڈیوسر اور کوئی بھی بڑا ہیرو ممتاز کیساتھ کیوں کام کرتامگر آہستہ آہستہ سپورٹنگ رول کرتے ہوئے ممتاز نے اپنی جگہ مین اسکرین رومانٹک سینما میں بھی بنالی۔
1965ءکی فلم’’ میرے صنم‘‘ میں ممتاز کے کام کو اتنا سراہا گیا اور قسمت نے وہ پلٹی کھائی کہ ان کو دلیپ کمار کی ہیروئن بنا دیا گیا ۔
یہ باتیں بھی مشہور ہوئیں کہ شمی کپور اور ممتاز ایک دوسرے سے بے انتہا محبت کرتے ہیںاور یہ دونوں جلد شادی کرنے والے تھے لیکن یہ شادی کیوں نہیں ہوئی اس کی وجہ ممتاز نے کئی سالوں بعد بتائی ۔

وجہ یہ تھی کہ شمی کپور چاہتے تھے کہ ممتاز گھر پر رہیں اور فلموں سے کنارہ کشی اختیار کرلیں۔یہ وہ وقت تھا جب ممتاز دھیرے دھیرے کامیابی کی سیڑھیا ں چڑھ رہی تھیں اور اسی وجہ سے ممتاز نے شمی کپور سے شادی کا ارادہ ترک کردیا۔
ایسے میں ہندی فلم انڈسٹری کے پہلے سپر اسٹار راجیش کھنا نے ان کا ہاتھ تھامااور پھر فلم ’’دوراستہ ‘‘میں ان کی جوڑی سپر ہٹ ہوگئی۔ اور پھر دونوں نے ایک کے بعدایک 8 سپر ہٹ فلمیں دی۔
وہ دور بھی آیا کہ جب ششی کپور نے ممتاز جی سے گزارش کی کہ وہ ان کیساتھ فلم کر لیں ۔شروعات میں ممتاز نے منع کردیا لیکن بعد میں انہوں نے ششی کپور کی بات مان لی اور اس طرح ’’چور مچائے شور ‘‘میں ان کے کام کو کافی پدیرائی ملی ۔
ممتاز نے 15 سال کے طویل کیرئیر میں 108 فلمیں کی اور پھر1970ءکی فلم ’’کھلونا‘‘ کے لیے تو ان کو بہترین اداکارہ کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
ممتاز کی جوڑی دھرمیندر جی ، سنجیوکماراور بھی کئی سپر اسٹارز کیساتھ ممتاز کی جوڑی خوب جمی۔

1974ءمیں جب ممتاز فلم انڈسٹری میں راج کر رہی تھیں تب ممتاز نےمیور مدھوانی سے شادی کرکے فلموں سے دور چلی گئیں۔حالانکہ شادی کے 12 سال کے بعد انہوں نے پھر فلم ’’اندھیاں‘‘سے فلموں میں واپسی کی کوشش کی لیکن وہ فلم زیادہ چل نہ سکی اور پھر ممتاز ہمیشہ کے لیے فلموں سے دور چلی گئیں۔

ممتاز کی دو بیٹیاں ہیں جن میں نتاشا اورتانیا ہیں جن میں نتاشا کی شادی فروز خان کے بیٹے فردین خان سے ہوئی ہے۔
ممتاز ہمیشہ سے فائٹر رہیں ہیں اسی لیے جب ان کو کینسر سے جیسی محلق بیماری نے گہراتو انہوں نے اس کا سامناایک فائٹر کی طرح کیا کینسر جیسی بیماری کو مات دے دی۔
Urdu Khabrain
No comments:
Post a Comment