Saturday, 30 June 2018

تھری باسیوں کا گھر ’چونئرا‘

https://is.gd/CD0dQH





 
تھری باسیوں کا گھر ’چونئرا‘

عبدالغنی بجیر،تھرپارکر

صحرائے تھر کے دیہات کی خوبصورت عکاسی و منظر نگاری تھری چونئروں (جھونپڑوں)سے ہی وابستہ ہے۔تھرکے کل 23سودیہات میں لاکھوں چونئرے ،تھر کی شناخت بنے ہوئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہر تھری مکین اپنا چونئرا خود ہی بنا تے ہیں، جس میںمرد و خواتین کی مشترکہ محنت ایک چاشنی کی مانند ہے جو ایک ساتھ کام کرنے کو جلا بخشتی ہے۔گھا س اور مٹی کے سنگم سے بنی اس عمارت کا نصف حصہ مرد اور نصف خواتین بناتی ہیں ۔بنیادی ڈھانچے کے لیے دیہی عورتیںگائوں کے مخصوص علاقے سے سخت مٹی کا چنائو کرتی ،اسے گوندھ کر اینٹیں بناتی ہیں۔ جس کے سوکھنے کے بعد گول دائر ہ نما دیوار کھڑی کی جاتی ہے، اس کی بلندی پانچ فیٹ اور گولائی 20سے 30 اسکوائر فیٹ ہوتی ہے۔

یہ مرحلہ کچی اینٹوں اور گارے کے مکسچر سے مکمل ہوتا ہے۔درمیان میںایک دروازہ بنایا جاتا ہے اور باقی دو نوں اطراف میں چھوٹی سی کھڑکیاں بنائی جاتی ہیں،چوں کہ اس کی چھت بھی ہوا کے گزر کے لیےموزوںہوتی ہے، اس لیے اکثر کھڑکیا ں برائے نام ہی چھوڑی جاتی ہیں ۔دیوار کے آخری حصہ پر چار انچ کی گول شیلف بھی بنایا جاتا ہے، جسے مقامی زبان میں ’’آلڑہ ‘‘کہا جاتا ہے ۔یہ مختلف چھوٹی بڑی اشیاء کورکھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، جیسے سرمے دانی ،چھوٹا آئینہ ،تیل کی شیشی،دستکاری کا سامان یا اس میں گھر کے برتن بھی سجائے جاتے ہیں۔

بالائی حصے کی چھت کی تعمیر تکون نما کی جاتی ہے ۔ لکڑیوں کو اوپر جوڑنے اور مضبوط رکھنے کے لیے ایک لکڑی کا سانچا تیار کیا جاتا ہے، جس کو مکڑہ کہتے ہیں۔جس چونئرے میں بارہ لکڑیا ںاوپر ستون کی طور استعمال ہوتی ہیں اس کے مکڑہ میں چھ سوراخ کیے جاتے ہیں، باقی چھ لکڑیوں کو سائیڈ سپورٹ کےطور پرلگایا جاتا ہے، تاکہ اوپر اس سانچہ کا توازن برقرار رہ سکے ۔اکثر لوگ چونئر کے اوپر ملنے والی چھت کی ایک فیٹ رہنے والی گولائی میں آر سی یعنی شیشیہ بھی لگا دیتے ہیں ،جس سے اس کی خوب صورتی میں چار چاند لگ جاتے ہیں،بعد ازاں اوپر تیز اور باریک سی مضبوط قسم کی لکڑیوں کا جال بچھایا جا تا ہے اور انہیں کھپ نامی جھاڑیوں سے بنی رسی سے پرویا جاتا ہے۔جس کے بعد آخری مرحلے میں گھاس کے تنکے جن کو پہلے کاٹ کر سیدھا لیول میں لایا جاتا ہے اور بعد میں اس کو ٹھیک طرح سے چو گرد گھیر کر مکمل طور پر ڈھانپ دیا جاتا ہے یوں ایک نئے بننے والے چونئرے کو دو سے تین تہہ دیئے جاتے ہیں ۔جس کو نیچے دیوار تک لے جانے کے بعد چھتری نما کاٹ کر مزید بہتری لائی جاتی ہے، تاکہ بارش کا پانی دیوار پر لگنے کے بہ جائے نیچے بہہ جائے۔

تھری باسیوں کا گھر ’چونئرا‘

عام طور پر ہر گھر میں دو سے تین چونئرے ہوتے ہیں اور کچن کی طور استعمال ہونے والے چونئرے کے علاوہ باقی فی چونئرے میں ایک خاندان رہتا ہے ۔جس میں کھانے پکانے کے لیےایک کونے میں چولہا اور بستر رکھنے کے لیے بھی صندوق کی طرح مٹی کی الماری بنائی جاتی ہے، جسے تھری زبان میں’’ پیھی یا ڈھانچی ‘‘کہتے ہیں۔جس کا بالائی حصہ بستر رکھنے اور اندرونی حصہ گھر کے برتن وغیرہ رکھنے کے کام میں لایا جاتا ہے، یوں یہ گھاس اور مٹی سے بنی یہ عمارت تھری باسیوں کے لیے ایک پُر آسائش گھر کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایک بڑے خاندان کے گھر میں یہ چھونپڑے قطار میں یا نصف گولائی میں ترتیب دیئے جاتے ہیں تا کہ گھر کے ایک طرف سے پردہ بھی ہو سکے اور آنگن بھی کھلا کھلا ہو۔

جس کو مویشیوں کے گوبر سے بنا کر ایک سے دو فیٹ کا کچا کٹہرہ لگا کر مٹی سے ڈیزائن بنائے جاتے ہیں۔جس کی نقش و نگاری میں گائوںکی ماہر خواتین کی بھی مدد لی جاتی ہے۔یہ چونئرے گھاس سے بننے کے بعد اور مینا برسنے سے قبل ہرے رنگ کے دکھائی دیتے ہیں، جب کہ بارش ہونے کے بعد یہ گھاس کالی ہو جاتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پورے گائوں پر نظر ڈالی جائے ، تو سرخ ریتیلے ٹیلوں کے درمیان بنے یہ سیکڑوں بلند و بالا چونئرے ایک سے نظر آتے ہیں ۔تھر کے کسی بھی ریتیلے ٹیلے پر چڑھا جائے، تو بآسانی کسی نہ کسی گائوں کا دھندلاتا منظر نظروں کو کھینچ کر اپنی جانب متوجہ کرالیتا ہے۔یوں بارش کے بعد ان کیخوب صورتی کو چار چاند لگ جاتے ہیں، کیوں کہ بارشوں سے ان کے اوپر سے جہاں مٹی دُھل جاتی ہے وہاں شجر اور ریت دھلنے سے ماحول انتہائی دلفریب نظر آتا ہے، اندر سے یہ گھر ٹھنڈے اور مزید فرحت بخش محسوس ہوتے ہیں۔

ان گھروں میں طرز رہائش بھی انوکھی اور پ اپنی مثال آپ ہے، اندر سونے یابیٹھنے کے دوران اس کی چھت کی طرف دیکھا جائے گا تو گھاس کے تنکوں کے ہلکے سوراخوں سے آسمان تاروں کی طرح نظر آئے گا ،مگر اس بات کی بھی سوفی صد ضمانت ہوتی ہے، کہ ان سوراخوں سے بارش کا ایک قطرہ بھی اندر نہیںآتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ پانی گھاس کی تکون نما ترتیب کے باعث نیچے اتر جاتا ہے۔ ٹھنڈی چھائوں کے ساتھ انتہائی ہوادار چونئرے صحرامیں گرمیوں کے دوران کسی نعمت سے کم نہیں لگتے ۔

تھری باسیوں کا گھر ’چونئرا‘

البتہ سردیوں میں جن چوئنروں پر گھا س کم ہوتی ہے، وہ سرد بن جاتے ہیں اور یوں یہاں کے باسی اندر آگ جلا کر اسے گرم رکھتے ہیں، مگر موسم سرما یہاں پر انتہائی کم اثر انداز ہوتا ہے۔اسے یہاں کے لوگوں کی فن تعمیر کا شاہ کار ہی کہنا چاہیے کہ صدیوں قبل تھری باسیوں نے اس طرز کے گھر بنانے شروع کیے، جو آج بھی اسی طرح بنائے جاتے اور تھر کی پہچان ہیں۔ صحرائے تھر کے باسی انتہائی سادہ ،مہمان نواز ،ملنساز اور محنت کش لوگ ہیں، جو کہ اپنے گھروں سے پانی کنووں تک اور مویشیوں کے چرانے سے کھیتوں کو آباد کرنے تک کے اہم کام آج بھی خود سر انجام دیتے ہیں ۔

البتہ وقت کی جدت کے ساتھ ان چونئروں کی تعمیر میں نت نئے طریقہ تعمیر بھی اپنائے جا رہیں، جو کہ شوقیہ طور پر تعمیر کیے جاتے ہیں ،چند اہل ثروت لوگ ہی بنا پاتے ہیں ،جو کہ پکے گھروں کے ساتھ یا دیہات میں بیٹھک کےطور پر استعمال ہوتےہیں، جس میں پکی دیوار کے اسٹرکچر کے ساتھ اوپر لکڑیوں کا کام کا انتہائی مہنگا اور نقش و نگار سے طےپاتا ہے۔جدید چوئنروں کو اندر سے ایک ہی قسم کی لکڑیوں سے سجانے کے بعد وسط میں ایک لکڑی کا جھومر بھی لگایا جاتا ہے۔یوں تھر میں جہاں سادہ قسم کے چونئرے صحرا کی شناخت بنے ہوئے ہیں، وہاں اس ثقافتی رہن سہن کو قائم و دائم رکھنے کے لیے جدید چونئرے بھی کردار ادا کر رہے ہیں۔

نقش ونگاری کے ساتھ تھری چوئنروں کی اوطاق بنوانے والے ساجن چارو اور عبداالسبحان سمیجو نے بتایا کہ ہم نے اپنے اوطاق کے چوئنروں کو اس لیے جدید طرز پر تعمیر کروایا ہے،تاکہ صحرائے تھر کی اس ثقافت اور رہن سہن کو نئے انداز سے زندہ رکھا جا سکے۔اپنے علاقائی ثقافتی رہن سہن کو جدید دور میں فروغ دے کر جو سکون ملتا ہے، وہ کئی منزلہ شان دار عمارتوں سے کہیں بڑھ کر ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ مقتدر حلقے تھری کلچر کے ان مثبت پہلوئوں کو دنیا کے سامنے پیش کریں تاکہ وطن عزیز کا یہ خطہ عالمی سطح پر سیر و سیاحت کے حوالے سے بھی نمایاں نظر آسکے۔



Urdu Khabrain
Magazine, باسیوں, تھری, مہران, وادی, چونئرا, کا, گھر

طالبان سے جنگ بندی کے خاتمے پرسیکورٹی فورسزآپریشن دوبارہ شروع کررہی ہیں ،اشرف غنی

https://is.gd/D03kp7



کابل : افغان صدراشرف غنی نے طالبان سے سیز فائر کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے  سیکورٹی فورسز کو طالبان کے خلاف آپریشن دوبارہ شروع کرنے کا حکم دے دیا اور کہا کہ  طالبان کو جنگجو گروپ سے سیاسی گروپ میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق افغان صدر اشرف غنی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کومحفوظ علاقے فراہم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، طالبان سے جنگ بندی کا معاہدہ کامیاب رہا، سیزفائر کے خاتمے پر سیکورٹی فورسز طالبان کے خلاف آپریشن دوبارہ شروع کررہی ہیں۔

افغان صدرکا کہنا تھا طالبان امن چاہتے ہیں، سیزفائرنے ثابت کیا کہ طالبان جنگ سے تھک چکے ہیں، طالبان امن عمل کا حصہ بنیں اور افغان عوام بھی یہی چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حال ہی میں ہونے والی پیش رفتوں سے ثابت ہوگیا ہے کہ اس ملک میں افغانیوں کے علاوہ کوئی بھی امن اور استحکام نہیں لاسکتا، شہری اور علماء امن عمل میں طالبان کی شرکت چاہتے ہیں اور قوم اس تنازع کے خاتمہ کا مطالبہ کر رہی ہے۔

اشرف غنی نے ایک بار پھر طالبان کو امن عمل میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ طالبان کو اب عوام اور مذہبی اسکالرز کے ردعمل کا سامنا ہے، اب دیکھنا ہے کہ وہ درپیش صورتحال پر کیسے قابو پاتے ہیں۔

واضح رہے کہ افغان حکومت نے رواں ماہ عیدالفطر کے موقع پر طالبان کے ساتھ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا تاہم ساتھ میں یہ بھی واضح کیا کہ اگر کسی بھی مسلح گروہ کی جانب سے دہشت گردی کی گئی تو سیکیورٹی ادارے بھرپور جواب دیں گے۔

جس کے بعد طالبان کی جانب سے بھی عید الفطر کے موقع پر تین دن کے لیے جنگی بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اس جنگ بندی کا اطلاق صرف مقامی فوجیوں کے لیے ہوگا جبکہ نیٹو اور امریکی فوج نے کوئی کارروائی کی تو طالبان اس کا جواب دیں گے۔

اس دوران افغانستان میں افغان طالبان اور سرکاری فوجی اہلکاروں کو ایک دوسرے سے گلے ملتے دیکھا گیا۔

جنگ بندی کے خاتمے کے آخری روز صدر اشرف غنی نے اس میں توسیع کا اعلان کیا تھا جبکہ طالبان نے مسترد کردیا تھا۔

افغان میڈیا کا کہنا تھا افغان طالبان کسی صورت جنگی بندی کے حامی نہیں ہیں، ان کا موقف ہے کہ جب تک خطے میں امریکی فوج موجود ہے اس موقت تک کسی صورت جنگی بندی نہیں ہوگی اور نہ ہی کسی قسم کا امریکی فوج کے ساتھ سمجھوتہ ہوگا۔


Urdu Khabrain
اشرف, بندی, جنگ, خاتمے, دوبارہ, سے, شروع, طالبان, غنی, فورسزاپریشن, پرسیکورٹی, کررہی, کے, ہیں

گھر میں پردوں کا استعمال دلکش بھی اور ضرورت بھی

https://is.gd/Nc3COV



گھر میں پردوں کا استعمال دلکش بھی اور ضرورت بھی

پردے کا استعمال گھروں میں عمومی طور پرروشنی سے بچاؤ اور آپ کی رازداری کو قائم رکھنے کے لیے کیاجاتا ہے، دن میں یہ سورج کی شعاعوں اورتپش سے بچا تاہے جب کہ رات کو کمرے میں اندھیرا کرنے کے کام آتاہے۔کھڑکیوں کے لیے بھاری پردے بنائے جاتے ہیںاور کوشش کی جاتی ہے کہ پردوں کو کھڑکی سے ممکنہ حد تک قریب لگایا جائے تاکہ وہ روشنی کو باآسانی روک سکیںاور آپ گھر کے درجہ حرارت کو بھی کنٹرول کریں۔کھڑکیوں کے لیے پردوں کا انتخاب بنیادی ہے کیونکہ وہ صرف گھر کی سجاوٹ کو مکمل کرنے کے لئے نہیں ہیں بلکہ ان کے ذریعہ ماحول زیادہ آرام دہ محسوس ہوتاہے۔

بیڈروم اور ڈائننگ روم میں ماحول کی خصوصیات کی وجہ سے وسیع پردے بہت اچھے معلوم ہوتے ہیں۔آپ کو آرام دہ اور پرسکون کمرے بنانے کے لئے کپڑے کی اچھی قسم کا انتخاب کرنا ہوگا۔ اگر جگہ بڑی ہے اور کپڑاچھوٹے طول وعرض کا ہے تو آپ ایک پردے کے ساتھ دوسرے پردے کو یکجا کر سکتے ہیں۔پردے کے ڈیزائن کو منتخب کرنے کے لئے کھڑکی کی شکل کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ کھڑکی کے طول و عرض کے مقابلے میں لمبائی اور کپڑے کی مقدارکے تناسب کو برقرار رکھا جانا چاہئے۔صحیح طریقے سے کپڑے کی مقدار کا حساب لگائیں تاکہ پردے اچھے لگیں اور کھڑکی کی پوری سطح کو ڈھانپ لین۔اس کے لیے آپ مندرجہ ذیل کام کرسکتے ہیں۔

فولڈ کی تعداد:آپ کوکھڑکی کی چوڑائی تک 30 سینٹی میٹر کا اضافہ کرنا ہوگااور اس کو 2 یا 3 سے ضرب دی جائے تاکہ آپ کے پاس پردے میں فولڈ یا قطاروں کی تعدادآجائے۔

لمبائی: عام کھڑکی کی لمبائی میں 15 سینٹی میٹر کا اضافہ کرنا ضروری ہے۔ اگر آپ کپڑے کی زیادہ مقدارکو ترجیح دیتے ہیں تو10سینٹی میٹر زیادہ شامل کرلیں۔

لٹکنے والا کپڑا: بھاری کپڑے کےپردے زیادہ جاذبِ نظر ہوتے ہیں۔ اگر آپ پردوں میں تازگی چاہتے ہیں تو کینوس، کاٹن اور لینن مثالی کپڑے ہیں۔

زیورات: پردوں کو باندھنے کے لیے خوبصورت ربن کااستعمال بہت عام ہے۔ آج کل مارکیٹ میں ایک سے ایک جھالروالے ربن دستیاب ہیں، جن کاانتخاب آپ کے کمرے کی طرز پر منحصر ہے۔ اس کے علاوہ ریلنگ کوکونوں پرلگانے کے لیے منفرد ڈیزائن کے اسٹاپر بھی مل جاتے ہیں جوپردوں کی خوبصورتی بڑھانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

مثالی رنگ: پردوں کے رنگ کا انتخاب بھی بہت اہمیت رکھتا ہے، کمرے کے رنگ وروغن اور فرنیچر کے رنگ سے مطابقت رکھتے ہوئے پردوں کے رنگ کا انتخاب بہتر ہوتا ہے۔ اگرچہ غیرمماثل رنگ کسی بھی انداز کے لئے بہترین ہیں۔

پردے کے انتخاب کے بعد انھیں لٹکانے کا مرحلہ آتا ہے اور کوشش کی جاتی ہے کہ جتنی محنت پردے کے ڈیزائن کو منتخب کرنے میں صرف کی ہے تو اس کو لٹکانے کا انداز بھی جاذب نظر ہونا چاہیے۔یوں توپردے کو لٹکانے کے مختلف انداز ہیں جن کا انتخاب آپ اپنی پسند کو ملحوظ خاطر رکھ کر کر سکتے ہیں

فلیٹ پینل: یہ اسٹائل بہت سادہ مگر ورسٹائل ہوتا ہے ۔ اس میں کھڑکی کے سائز کا پورا ایک ہی کپڑاہوتا ہے جو کلپ یا رنگ کی مدد سے ریلینگ پر لٹکا دیاجاتاہے۔

پینل پیئر:یہ بہت عام اور مقبول اسٹائل ہے جس میں ریلینگ کی دونوں جانب دو پردے لٹکادیے جاتے ہیں۔

ٹیب ٹاپ: اس قسم کے پردوں میں ہک یا کلپ لگانے کے بجائے اوپر کی طرف لٹکانے کے لیے تھوڑے تھوڑے فاصلے پر کپڑے میں ہی پٹیاں بنائی جاتی ہیںتاکہ وہ باآسانی ریلنگ کے پائپ میں آرپار ہوجائیں۔

رِنگ یاواشر:پردے کے اوپری حصے میں سوراخ کرکے اس میں رِنگ ڈالے جاتے ہیں اور ان میں سے ریلنگ کے پائپ کوگزار کر پردوں کو لٹکایاجاتاہے۔

راڈپاکٹ: آج کل مارکیٹ میں یہ ڈیزائن مقبول ہے، جس میں پردے کے اوپر سے ایک دو انچ کپڑا چھوڑ کر ریلنگ کی راڈ گزارنے کے لیے پاکٹ کی سلائی کی جاتی ہے جس سے پرداایک طرح سے فکس ہوجاتا ہے۔

تھرمل یا بلیک آؤٹ: ایسے پردوں میں مختلف پرتوں میں کپڑے کی سلائی کی جاتی ہے جو روشنی کو روکنے اور کمرے کو ٹھنڈا رکھنے میں بہت زیادہ معاون ثابت ہوتے ہیں۔

کرٹین لائنر: پردوں کو گیلا ہونے سے بچانے کے لیے ضرورت پڑنے پر ان کے اوپرایک اور کپڑالگایا جاتا ہے تاکہ اصل پردہ خراب ہونے سے محفوظ رہے۔

گھر میں کچھ تبدیلی لانی ہو یا ایک نیا انداز دینا ہو تو اس مقصدکے لیے خصوصی طورپر نئی چیزیں خریدی جاتی ہیں، ایسے میں ڈرائنگ روم، بیڈروم اور ٹی وی لائونج کے پردوں کوتبدیل کرنے کا خیال آتا ہے۔بازاروں میں مختلف ڈیزائن،کپڑے، سائز، رنگ اور نقش و نگار کے پردے دستیاب ہیں، اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اپنے کمروں کے لیے کس قسم کی میچنگ یاکنٹراسٹ کے پردے بناناچاہتے ہیں۔ پردوں کے لیے ڈیزائن کا انتخاب بھی کافی اہمیت رکھتا ہے، کیوں کہ خوب صورت ڈیزائن کمرے کاحسن بڑھادیتا ہے اوربعض اوقات تو یہ کمرے کامرکزی نقطہ بن جاتا ہے۔


Urdu Khabrain
Magazine, آرائش, استعمال, اور, بھی, خانہ, دلکش, ضرورت, میں, پردوں, کا, گھر

پی آئی اے کے جہازوں پرقومی پرچم کی جگہ مارخورکی تصویرلگانے پر پابندی عائد

https://is.gd/QpsLvl
اسلام آباد : سپریم کورٹ نے قومی ایئرلائن پی آئی اے کے جہازوں پرقومی پرچم کی جگہ مارخورکی تصویرلگانے پر پابندی عائد کردی ، چیف جسٹس نے حکم دیا کہ آئندہ کسی جہاز سے قومی پرچم نہیں ہٹایا جائے گا، کسی جہازسے قومی پرچم ہٹایا گیا تو حکم عدولی سمجھا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں قومی ایئرلائن پی آئی اے کے طیاروں پر قومی پرچم کی جگہ مارخور کی تصویرپر ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی۔

سماعت میں پی آئی اے کے جہازوں پر قومی پرچم کی جگہ مارخور کی تصویر لگانے پر پابندی عائد کرتے ہوئے چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آئندہ کسی جہازسےقومی پرچم نہیں ہٹایا جائے گا، کسی جہا زسے قومی پرچم ہٹایا گیا تو حکم عدولی سمجھا جائے گا۔

سی ای اومشرف رسول کی تعیناتی کے خلاف درخواست کابینہ ڈویژن کے حوالے سے چیف جسٹس نے کہا کہ حکومتی صوابدید ہے جائزہ لے مشرف رسول تعیناتی کے اہل ہیں یا نہیں۔

چیف جسٹس نے پی آئی اے کے 10سال کے سربراہان کو مشروط بیرون ملک جانے کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو ملک سے زیادہ بیرون ملک کاروبار عزیز ہیں، اپنے کاروبارکو وسعت دیتے رہے اور پی آئی اے کو تباہ کردیا۔

بعدازاں سپریم کورٹ میں پی آئی اے کے طیاروں پر قومی پرچم کی جگہ مارخور کی تصویرپر ازخود نوٹس کیس کی سماعت 2ہفتے کے لئے ملتوی کردی۔

اس سے قبل سپریم کورٹ آف پاکستان نے قومی ایئرلائن پی آئی اے کو جہازوں سے قومی پرچم ہٹانے سے روک دیا۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ پی آئی اے کے طیارے کی دُم سے قومی پرچم ہٹا کر مارخور کا ایک اسٹیکر لگا دیا گیا تھا، صرف ایک جہاز کی دُم پر مارخور پینٹ کرنے سے پی آئی اے کے ایک طیارے پر پچاس ہزار ڈالر کے اخراجات آئے ہیں جبکہ ڈیزائنر کو ڈیزائن بنانے کی مد میں پی آئی اے نے تین کروڑ پچاس لاکھ روپے بھی ادا کئے۔

 
Urdu Khabrain
آئی, اے, تصویرلگانے, جگہ, جہازوں, عائد, مارخورکی, پابندی, پر, پرقومی, پرچم, پی, کی, کے

طویل زندگی پانے کا راز

https://is.gd/l5O0Ug



طویل زندگی پانے کا راز

آپ کا صبح اُٹھنے کا کیا مقصد ہوتا ہے؟ ہم میں سے اکثر لوگ شاید یہ سوچتے ہی نہیں اور اگر کہا جائے کہ کل صبح آنکھ کھولتے ہی آپ کو اس ’بڑے‘ سوال کا جواب تلاش کرنا ہےاور اس کے بعد بستر سے نکلنا ہے تو شاید ہم میں سے کئی لوگ، کوئی معقول جواب نہ پاکر، واپس سوجانے میں ہی عافیت محسوس کریں گے۔ اگر ایسا ہے تو جاپان کے لوگوں کا Ikigaiکا تصور آپ کی مدد کرسکتا ہے۔

اس تصور نے ایک ایسے ملک میں جنم لیا ہے، جس کا شمار دنیا کی طویل ترین عمریں پانے والی اقوام میں ہوتا ہے، اور اب لمبی عمریں پانے کا یہ تصور جاپان سے باہر بھی مقبول ہورہا ہے۔

ہرچند کہ لفظ Ikigaiکا براہِ راست انگریزی یا اردو میں کوئی لفظی معنی نہیں ہے، Ikigaiجاپانی زبان کے دو الفاظ Ikiruمطلب ’جینا‘ اور Kaiمطلب ’اسے حاصل کرنا جس کی آپ اُمید لگائے بیٹھے ہیں‘۔ یہ دونوں الفاظ مل کر ’جینے کی ایک وجہ‘ یا ’بامقصد زندگی‘ کا ایک تصور تخلیق کرتے ہیں۔ یہاں Gai کا لفظ Kai سے نکلا ہے، جس کا انگریزی زبان میں مطلب Shellیعنی’خول‘لیا جاسکتا ہے۔اس تصور کا تعلق جاپان کی کلاسیکی تاریخ سے جا ملتا ہے، جسے Heian Periodکہا جاتا ہے(یہ دور 794ء سے 1185ء تک جاری رہا)۔ جاپان کی ’ٹویو آئیوا یونیورسٹی‘ کے ماہرِ نفسیات اور ایسوسی ایٹ پروفیسراکیہیروہاسیگاوا کے مطابق، یہ تصور جاپانی افراد کی زندگیوں میں اقدار کی سوچ کو فروغ دیتا ہے۔

اکیہیروا کہتے ہیں کہ زندگی کی وجہ یا مقصد تلاش کرنے کے لیے ابتداءآپ بنیادی طور پر چار سوالات سے کرتے ہیں:

۔ آپ کس سے پیار کرتے ہیں؟

۔ آپ کس کام میں اچھے ہیں؟

۔ دُنیا آپ سے کیا چاہتی ہے؟

۔ آپ ایسا کیا کرسکتے ہیں، جس کے بدلے آپ کچھ کما سکتے ہیں؟

غیرجاپانیوں کے لیے ان چار سوالات کے جواب تلاش کرنے اور ان میں توازن قائم کرنے میں ہی Ikigaiکا تصور پنہاں ہے اور یہی اس عظیم جاپانی فلاسفی کی توضیع ہے۔ غیرجاپانی افراد کے برعکس، جاپانی افراد کے لیے درحقیقت یہ ایک سست رو عمل ہےاور اکثر جاپانی باشندے اس کا تعلق ’کام‘ یا ’آمدنی‘ سے نہیں جوڑتے۔ کام یا آمدنی، کچھ جاپانی افراد کے مجموعی Ikigai کا ایک حصہ ضرور ہوسکتا ہے۔

اس کا ایک ثبوت ایک ریسرچ کی صورت میں موجود ہے۔ 2010ءکے دوران جاپان میں 2,000مرد اور خواتین سے ایک سروے کیا گیا۔ ان میں سے صرف 31فی صد لوگوں نے ’کام‘ کو اپنا Ikigai قرار دیا۔

چائنیز یونیورسٹی آف ہانگ کانگ کے پروفیسر برائے علم البشریات(Anthropology) گورڈن میتھیوز ، جو کتاب "What Makes Life Worth Living? How Japanese and Americans Make Sense of Their Worlds"کے بھی مصنف ہیں، نے ایک غیرملکی اشاعتی ادارے کو انٹرویو میں بتایاکہ لوگ Ikigai کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے جاپانی افراد کے دیگر دو تصورات Ittaikan اور Jiko Jitsugenسےبھی مدد ملے سکتے ہیں۔ Ittaikan سے مراد ’ایک مقصد یا گروہ یا تفویض کردہ کردار کے ساتھ یکسوئی‘ ہے، جب کہ Jiko Jitsugen کا تعلق تکمیلِ ذات (Self-realization)کے ساتھ جوڑا جاسکتا ہے۔

طویل زندگی پانے کا راز

گورڈن میتھیوز کہتے ہیں کہ Ikigai پر عمل کرکے آپ بہتر زندگی کی راہ پر گامزن ہوسکتے ہیں، کیوں کہ آپ کے پاس ’زندگی جینے کے لیے ایک مقصد‘ ہوتا ہے۔ تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ اس جاپانی تصور کو زندگی گزارنے کے لیے واحد انتخاب کے طوپر نہیں دیکھنا چاہیے۔ وہ کہتے ہیں، ’’Ikigaiکسی بہت بڑی یا غیرمعمولی سوچ کا نام نہیں ہے۔ ہمیں اس تصور کو بس ایک ’سچ بات ہے‘ کے طور پر لینا چاہیے‘‘۔

اوکیناوا، جاپان کے مغرب میں واقع ایک جزیرے کا نام ہے، جہاں غیرمعمولی طور پر سب سے زیادہ ’ایک سو سال یا اس سے زائد‘ عمریں پانے والے افراد رہتے ہیں۔ ایسے خطوں کو ماہرین Blue Zonesکے طور پر بھی جانتے ہیں۔ ’بلیوزونز‘ کے ماہر ڈین بیوٹنر کہتے ہیں کہ، اوکیناوا جزیرے کے باشندوں کی زندگیوں میں Ikigaiسرائیت کرچکا ہے۔ ایک خاص قسم کی غذاء اور دوستوں کے ’سپورٹ نیٹ ورک‘ کی بدولت یہاں کے لوگ طویل عمرتک زندہ رہتے ہیں کیوں کہ اس تصور کے ذریعے وہ زندگی میں مقصد حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔ اس سلسلے میں ڈین بیوٹنر ایک کراٹے ماسٹر، ایک ماہی گیر اور ایک دادی ماں کی مثال دیتے ہیں، جنھوں نے تین مختلف طرز کی زندگی گزارنے کے باوجود سو سال سے زائد عمریں پائی ہیں۔

تاہم بیوٹنر کا یہ بھی ماننا ہے کہ صرف Ikigaiپر یقین رکھنا کافی نہیں ہے۔ یہ سارے لوگ، اپنے مقصد کے حصول کے لیے عمل بھی کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ عمر جیسے جیسے بڑھتی ہے Ikigaiبھی بدل جاتا ہے۔ آج جن افراد کا Ikigai زندگی گزارنے کے لیے کام ہے، ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچنے کے بعد چوں کہ انھیں مزید کام تلاش کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی، اس لیے انھیں ایک نیا Ikigai تلاش کرنا ہوگا۔

محققین کا ماننا ہے کہ ’بلیو زونز‘ میں رہنے والے افراد ناصرف طویل عمریں پاتے ہیں، بلکہ وہ دیگرافراد کے مقابلے میں بہتر زندگی بھی گزارتے ہیں۔ یہ لوگ اپنی عمر کے80اور 90سال کے عشرے میں بھی سرگرم زندگی بسر کرتے ہیں اور دیگر افراد کے مقابلے میںان انحطاطی بیماریوں کا شکار نہیں ہوتے، جو اکثر صنعتی ممالک کے باشندوں کو اس عمر میں پیش آتی ہیں۔جاپان کے اوکیناوا جزیرے کے علاوہ، یونان کے جزیرے ’اِیکاریا‘، اٹلی کے ’بارباجیا ریجن‘، کیلی فورنیا کے چھوٹے سے شہر ’لوما لینڈا‘ اور کوسٹاریکا کے جزیرہ نما ’نیکویا‘ کو بھی ’بلیو زونز‘ میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں کے اکثر باشندے ایک سو سال سے اوپر زندگی پاتے ہیں۔ ان تمام بلیو زونز میں رہنے والے افراد میں کئی خصوصیات مشترک ہیں، جن میں Ikigaiبھی شامل ہے۔ اوکیناوا کے لوگ اسے Ikegai جب کہ نیکویا کے باشندے اسے Plan De Vida کہتے ہیں۔ دونوں کا مقصد ایک ہی ہے، یہ لوگ زیادہ صحت مند اور خوشگوار زندگی گزارنے کے لیے خود سے ہر صبح اُٹھنے کے مقصد کا سوال ضرور کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جو لوگ ایک مقصد کے تحت زندگی گزارتے ہیں اور مقصد کے حصول کے لیے عملی جدوجہد کرتے ہیں، وہ ایک عام فرد کے مقابلے میں سات سال زائد زندگی پاتے ہیں۔


Urdu Khabrain
Magazine, راز, زندگی, صحت, طویل, پانے, کا

ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟

https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...