Saturday, 30 June 2018

ملتان کے 3 مخدوموں میں سے ایک نے فیصلہ کرلیا

https://is.gd/3ft8RV
ملتان کی سیاست میں آیا ہوا بھونچال ابھی تھما نہیں ہے اگرچہ ٹکٹوں کی تقسیم کا اونٹ بڑی حد تک کسی کروٹ بیٹھ گیا ہے مگر اس کے باوجود ٹکٹوں کی تقسیم کے زخم ابھی تک تروتازہ ہیں۔ تحریک انصاف سب سے زیادہ ان زخموں کی زد میں ہے اور نہ جانے انتخابات تک تحریک انصاف کی الیکشن مہم کس نہج پر چلتی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ پارٹی کے اپنے ہی رہنما ایک دوسرے کو ناکام بنانے پر تلے رہیں اورملتان کی نشستوں پر ایک بار پھر مسلم لیگ ن اپنی برتری ثابت کردے۔ ملتان میں ٹکٹوں کی تقسیم کا سب سے بڑا ہنگامہ قومی حلقہ 154 کی وجہ سے رہا جس کیلئے اسلام آباد میں بنی گالہ کے باہر 10 دن دھرنا بھی دیا گیا ۔ شاہ محمود قریشی یہ چاہتے ہیں کہ اس حلقے سے ملک احمد حسن ڈیہڑ کو پی ٹی آئی کا ٹکٹ دیا جائے۔ یہاں یہ خبر گرم ہے کہ احمد حسن ڈیہڑ کو بنی گالہ جا کر دھرنا دینے کا مشورہ بھی شاہ محمود قریشی نے دیا تھا۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ جب تک یہ دھرنا جاری رہا شاہ محمود قریشی بنی گالہ نہیں گئے اور ملتان میں بیٹھ کر نتیجے کا انتظار کرتے رہے۔ جب کامیابی نہ ملی تو انہوں نے ایک دھواں دار پریس کانفرنس کی اور اس میں جہانگیر خان ترین کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اب سوال یہ ہے کہ ملتان میں اگر جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی کے درمیان یہ کشیدہ فضا جاری رہتی ہے تو کیا تحریک انصاف یہاں سے جیتنے میں کامیاب رہے گی؟ کیا ایک واضح گروپ بندی کے ہوتے ہوئے پی ٹی آئی کو انتخابات میں نقصان نہیں پہنچے گا۔ پارٹی کے دو بڑے اگر اس طرح اپنے گروپوں کی سرپرستی کرتے رہے تو ساری سیاسی طاقت انہی جھگڑوں پر صرف ہو جائے گی اور مخالفین کو فائدہ پہنچے گا۔ تحریک انصاف نے ضلع ملتان میں ٹکٹوں کی جو تقسیم کی ہے اس پر پارٹی کے پرانے کارکنوں اور رہنمائوں میں شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔ کئی ایک نے تو دھمکی بھی دے دی ہے کہ اگر پارٹی ٹکٹوں کو اس طرح بانٹا گیا تو وہ الیکشن میں کوئی کردار ادا نہیں کریں گے۔

پی ٹی آئی جس انتشار کا شکار نظر آتی ہے مسلم لیگ ن نے بڑی حد تک اپنے انتخابی انتشار پر قابو پا لیا ہے۔ ملتان میں بہت اہم جھگڑا قومی حلقہ 155 کاتھا جس پر 3 امیدواروں کی نظریں گڑی ہوئی تھیں۔ ان میں سرفہرست مخدوم جاوید ہاشمی تھے جبکہ سابق ایم این اے طارق رشید اورگورنر پنجاب کے صاحبزادے آصف رفیق رجوانہ بھی اس حلقے سے انتخاب لڑنے کی مکمل تیاری کئے ہوئے تھے۔ لگ یہ رہا تھا کہ یہ حلقہ مسلم لیگ ن کی قیادت کیلئے درد سر بن جائے گا کیونکہ مخدوم جاوید ہاشمی اس حلقہ سے دستبردار ہونے کو تیار نہ تھے جبکہ طارق رشید اور ملک رفیق رجوانہ پورا زور لگا رہے تھے کہ مخدوم جاوید ہاشمی کو اس حلقہ سے ٹکٹ نہ ملے۔ حمزہ شہباز شریف کی مداخلت سے یہ مسئلہ یوں حل ہوگیا کہ طارق رشید کو این اے 155 کی ٹکٹ دے دی گئی جبکہ آصف رفیق رجوانہ کو صوبائی حلقہ 214 کی نشست پر امیدوار نامزد کردیا گیا۔ رہی بات جاوید ہاشمی کی تو وہ حیران کن طور پر نہ صرف اس حلقے بلکہ انتخابات سے ہی دستبردار ہوگئے۔ یہ بہت بڑا معجزہ ہے کہ مخدوم جاوید ہاشمی نے انتخابی سیاست سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا ہے حالانکہ وہ کچھ عرصہ پہلے تک یہ کہتے آئے ہیں کہ وہ وزیر بننا چاہتے ہیں نہ صدر مملکت ، ان کی اول اور آخری خواہش یہ ہے کہ وہ اسمبلی کا رکن بن کر قومی معاملات کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرسکیں۔ اب انہوں نے اپنا زاویہ نظر بدل لیا ہے اور پریس کانفرنس کرتے ہوئے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ اب قومی رہنما کے طور پر اپنا کردار ادا کریں گے اور قومی ایشوز پر اپنے سیاسی تجربے کی بنیاد پر قوم کو رہنمائی فراہم کریں گے۔ واقفان حال کا کہنا ہے کہ مخدوم جاوید ہاشمی کو سرتوڑ کوشش کے باوجود مسلم لیگ ن کا ٹکٹ نہیں مل سکا۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ جس طرح آج کل نواز شریف چودھری نثار کو پارٹی میں قبول کرنے کیلئے تیار نہیں اسی طرح شہباز شریف کی جاوید ہاشمی کے بارے میں رائے مثبت نہیں ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ جاوید ہاشمی کو جنہوں نے تحریک انصاف میں جا کر نہ صرف مسلم لیگ ن بلکہ نواز شریف کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا کو پارٹی کا ٹکٹ دیا جائے۔ اس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ ملتان کے 3 مخدوموں میں سے ایک مخدوم انتخابی سیاست کے میدان سے آئوٹ ہوگیا ہے اور اب دو مخدوم میدان میں رہ گئے ہیں۔ ان دو مخدوموں میں ایک سید یوسف رضا گیلانی ہیں جو اس مرتبہ شجاع آباد کے حلقہ 158 سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان کے تین بیٹے بھی الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں تاہم کہا یہ جا رہا ہے کہ سید یوسف رضا گیلانی کی قومی حلقہ 158 میں پوزیشن کافی مضبوط ہے اور ان کے جیتنے کے امکانات روشن ہیں۔ اگر یوسف رضا گیلانی اس نشست سے جیتنے میں کامیاب رہتے ہیں تو یہ شاید ضلع ملتان میں واحد نشست ہوگی جو پیپلزپارٹی کے حصے میں آئے گی۔ یوسف رضا گیلانی نے اس حلقہ کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کیا ہے۔یہاں کے مشہور سید خاندان سے ان کے ہمیشہ ذاتی و سیاسی مراسم رہے ہیں۔ بلدیاتی سیاست میں گیلانی اور سید خاندان ہمیشہ مل کر عہدے حاصل کرتے رہے ہیں مگر اس بار اس حلقے سے مسلم لیگ ن کے امیدوار سید جاوید علی شاہ کو یوسف رضا گیلانی سے مقابلے کا سامنا ہے۔ اس حلقہ سے تحریک انصاف کے امیدوار ابراہیم خان بھی میدان میں ہیں اگرچہ تحریک انصاف اس وقت مقبولیت کے لحاظ سے نمایاں ہے مگر اس حلقہ میں دیکھا جائے تو یوسف رضا گیلانی اور جاوید علی شاہ کے مقابلے میں اس کی پوزیشن زیادہ مستحکم نظر نہیں آتی۔ بہرحال یہ حلقہ بھی ان حلقوں میں شامل ہے جس پر پورے ملک کی نظریں لگی ہوں گی کیونکہ نااہلی کے بعد یوسف رضا گیلانی پہلی مرتبہ انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ اگر وہ اس حلقہ سے جیتنے میں کامیاب رہتے ہیں تو پیپلزپارٹی کی لاج رہ جائے گی کیونکہ ملتان کسی زمانے میں پیپلزپارٹی کا گڑھ سمجھا جاتا تھا لیکن اب اس کے حالات اس قدر برے ہیں کہ پیپلزپارٹی کو کئی حلقوں سے ڈھنگ کے امیدوار ہی نہیں مل سکے۔

انتخابی سیاست کی یہ گرم بازاری آنے والے دنوں میں کیا گل کھلاتی ہے اور پردہ غیب سے کیا کچھ نکلتا ہے اس کے بارے میں پیش گوئیاں تو کی جاسکتی ہیں کوئی حتمی بات نہیں کی جاسکتی۔ تاہم یہ بات طے ہے کہ 2018ء کے انتخابات ایک بدلی ہوئی فضا میں ہو رہے ہیں اور امیدواروں کو بھی الیکشن مہم کے دوران عوام کے پاس جاتے ہوئے یہ اندازہ ہو رہا ہے کہ ان کا موڈ جارحانہ ہے اور وہ آزمائے ہوئے کو دوبارہ آزمانے کیلئے تیار نہیں ہیں۔
Urdu Khabrain
Magazine, اور, ایک, تبصرے, تجزیے, سے, فیصلہ, مخدوموں, ملتان, میں, نے, کرلیا, کے

جنگلات کی اراضی پر لینڈ گریبر کا قبضہ

https://is.gd/uyMcrb




مسرور حسین ، باڈہ

لاڑکانہ سندھ کا وہ ضلع ہے جہاں سے دریائے سندھ کا گزر ہوتا ہے۔ اس علاقے کو کچا بھی کہا جاتا اور کچے کا بڑا رقبہ ہےاس علاقے میں میں جنگلات ہوتے ہیں ، محکمہ جنگلات کے زیر انتظام درخت اگائے جاتے ہیں مگر دیکھا جائے تو اب ایسا نہیں ہے۔ محکمے کے ملازمین علاقے کے بااثر افراد کے ساتھ مل کر درختوں کا قتل عام کرتے ہیں قیمتی لکڑی معمولی نرخوں پر فروخت کردیتے ہیں۔جنگلات کی زمین پر قبضے کے لیے خونی تصادم بھی ہوتے ہیں جن میںقیمتی انسانی جانیں ضائع ہوجاتی ہیں۔

جنگلات قدرتی نعمت ہوتے ہیںاور کسی بھی ملک کے لئے 25 فیصد جنگلات کا ہونا لازمی ہے۔ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں سے ایک ہے جسے قدرت کی یہ نعمت ملی ہوئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگلات کسی جگہ کی آب وہوا کو تبدیل کرنے میں انتہائی اہم کردار اداکرتے ہیں۔ درختوں کے پتوں سے پانی کے بخارات ہوا میں داخل ہونے سے فضاء میں نمی کا تناسب موزوں رہتا ہے اور یہی بخارات اوپر جاکر بادلوں کی بناوٹ میں مدد دیتے ہیں، جس سے بارش ممکن ہوجاتی ہے۔

جنگلات نہ صرف انسانوں کے لئے بلکہ جنگلی حیوانات کے لئے بھی سود مند ہوتے ہیں جنہیں درختوں ہی کے باعث خوراک اور تحفظ ملتا ہے اور یہی درخت ان جانوروں کی افزائش نسل اور پرورش کے لئے جگہ بھی فراہم کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ جنگلات کی کمی سے جنگلی جانوروں کی بقاء بری طرح متاثر ہوتی ہے اور ماحولیاتی نظام بھی درہم برہم ہوجاتا ہے۔جنگلات کی غیرموجودگی میں بارش اپنے ساتھ زرخیز مٹی بھی بہا کرلے جاتی ہے جس سے زمینزرعی صلاحیتوں سے محروم ہوجاتی ہے۔درختوں کی جڑیں سیلاب کی صورت میں زمین کو اسفنج کی طرح بنا دیتی ہیں۔ اس طرح زمین بہت سا سیلابی پانی روک لیتی ہے، جس سے سیلاب کے پانی کی رفتار کم ہوجاتی ہے اور وہ زمین کا کٹاؤ کرنے کے قابل نہیں رہتا اور اس طرح زمین کی زرخیزی بھی بہت حد تک ضائع ہونے سے بچ جاتی ہے۔درختوں کی جڑیں دراصل مٹی کے ذرات کو باہمی طور پر اچھی طرح جکڑ لیتی ہیں جس سے زمین نہ صرف سیلابی پانی کے کٹاؤ سے محفوظ رہتی ہے بلکہ سیلاب کے بعد ہوا کے کٹاؤ سے بھی زمین کی اوپری سطح پر موجود زرخیزی ضائع نہیں ہوتی۔ اسی طرح پہاڑی ڈھلوانوں پر بھی درختوں کی موجودگی سے ان علاقوں کی زرخیزی متاثر نہیں ہوتی۔جنگلات چونکہ سیلابی پانی کی رفتار کم کرتے ہیں اور زمین کوکٹاؤ سے بچاتے ہیں اورزمین کی زرخیزی کو قائم رکھتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ جب بھی درخت کاٹے جائیں تو خالی ہونے والی جگہ پر نئے درخت لگا دیئے جائیں، تاکہ جنگلات کا رقبہ کم نہ ہونے پائے ۔ مگر لاڑکانہ کے جنگلات کو ناپید ہونے سے بچانے کی بجائے اس کے برعکس اقدامات کیے جاتے ہیں۔محکمے کے ملازمین علاقے کے بااثر افراد کے ساتھ مل کردرخت کاٹتے ہیں اور قیمتی لکڑی ٹمبر مافیا کے ہاتھوںمعمولی قیمت پرفروخت کردیتے ہیں۔ ضلع لاڑکانہ کی تحصیل ڈوکری میں باڈہ، رادھن روڈ پر قائم’’ گھانگھرکو جنگل‘‘ جو دریا سے ہزاروں ایکڑ رقبے پر دریا سے لے کر سڑک کے دونوں اطراف باڈہ تک پھیلا ہوا جس میں لاکھوں درخت تھے،، اب وہاں درخت ناپید ہوگئے ہیں اور ان کی جگہ ویران میدان ہے جس پر قبضہ مافیا نےاپنا تسلط قائم کرلیا ہے۔ اس وسیع و عریض جنگل کے درختوں کو آگ لگائی گئی ، جس سے محکمہ جنگلات بے خبر رہا۔ بعض ذرائع کے مطابق یہ بھی مبینہ طور پرقبضہاور ٹمبر مافیا کی کارروائی ہے ۔ جنگل میں آگ لگانے سے قبل پہلے درخت کاٹ کر لے جائےگئے ، بعد میں آگ لگائی گئی ۔ اس سلسلے کی روک تھام اس لیے بھی ناممکن ہے کیوں کہ اس میں محکمہ جنگلات کے حکام بھی ملوث ہیں۔جنگلات کی اراضی پر بارسوخ قبضہ مافیانے اپنا تسلط قائم کرلیا ہےجو اسےزرعی زمین کے طور استعمال کر رہے ہیں جب کہ مبینہ طور سے سرکاری زمین کی خرید و فروخت بھی کی جارہی ہے۔ جنگلات کی اراضی پر قبضوں کی وجہ سے اکثر و بیشتر تنازعات جنم لیتے ہیں جو خون ریزی کا باعث بنتے ہیں۔ اس قسم کا ایک تنازعہ کلہوڑواور لاشاری برادری کے درمیان رونما ہوا تھا جو بڑھ کرخونی تصادم کی صورت اختیار کرگیا جس کے نتیجے میں دونوں فریقین کے سیکڑوں افراد قتل ہوچکے ہیں۔

جنگلات اجاڑنے کا سلسلہ ہنوز جاری ہے، اور اگر اس کی روک تھام نہیں کی گئی تو بچے کھچے درخت اور پودے بھی ختم ہوجائیں گے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان ، جسٹس ثاقب نثار،اس معاملے کا ازخود نوٹس لیں اورجنگلات کی اراضی کو واگذار کرانے کے لیے فوج یا رینجرز سے آپریشن کروایا جائے تاکہ جنگلات کا حسن واپس آسکے۔



Urdu Khabrain
Magazine, اراضی, جرم, جنگلات, سزا, قبضہ, لینڈ, و, پر, کا, کی, گریبر

پہلے الیکشن ہوں گے یا احتساب؟

https://is.gd/18Xi2Z



پہلے الیکشن ہوں گے یا احتساب؟

سوات میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کا یہ کہنا کہ’’میں جہاں بھی ہوں اور جہاں سے بھی آپ کو ہدایت کروں آپ نے عمل کرنا ہے‘‘ اسی جلسہ عام میں مریم نواز نے بھی اپنی تقریر میں کچھ ایسے ہی اشارے دیئے۔ جو اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ میاں نواز شریف آنے والے دنوں میں اسیری کی اذیتوں سے لیکر جلا وطنی کی صعوبتوں تک تمام حالات کا سامنا کرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہیں لیکن اپنے مخالفین اور اُن کی جانب سے پیدا کیے جانے والے حالات کے سامنے سرنگوں نہیں ہونگے۔

سوات کے جلسہ عام میں اپنے خطاب کے آخر میں میاں نواز شریف نے جلسے کے شرکا سے ہاتھ اُٹھوا کر اس بات کی یقین دہانی حاصل کی تھی جس کا مطلب یہ ہے کہ اُنہیں بھی اس بات کا یقین ہوچلا ہے کہ اُن کے سیاسی مخالفین جو ابتدا سے ہی اس بات کے دعوے کررہے تھے کہ سابق وزیراعظم کی اگلی منزل یا تو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل ہے یا پھر وطن بدری تو اُنہیں اس بات کا علم ہوچکا تھا۔

دانندگان راز اس متوقع یا غیر متوقع صورتحال میں موجودہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو یہ مشورہ بھی دے رہے ہیں کہ وہ آنے والے دنوں کے پیش نظر محاذ آرائی سے گریز کریں ۔

بالخصوص انہوں نے سینٹ کے انتخابات اور چیئرمین سینٹ پر الزامات کے حوالے سے جو طرز عمل اختیار کررکھا ہے اُس پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔ اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ سینیٹرز کو یہ ہدایت کی جارہی ہے کہ وہ سینٹ کے اجلاس میں اس حوالے سے کاروائی میں خلل ڈالیں۔ سینٹ کا اجلاس 9 اپریل کو اور قومی اسمبلی کا اجلاس 10 اپریل کو طلب کیا گیا ہے ۔

گو کہ قومی اسمبلی میں بدستور پاکستان مسلم لیگ (ن)کو اکثریت حاصل ہے لیکن سینٹ کے حالیہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی جیت کو ہار میں تبدیل کردیا گیا ہے اور اب ’’حالات‘‘ ایسے نہیں ہیں کہ وہ اپنی جیتی ہوئی ہار سے صورتحال کو تبدیل کرسکے۔ یقیناً قومی اسمبلی میں تو کئی حوالوں سے ہنگامہ آرائی۔ احتجاج۔ واک آؤٹ اور بائیکاٹ ہوگا۔

لیکن سینٹ میں اب سب کچھ لاحاصل ہوگا۔ پھر کسی بھی پارلیمانی الیکشن کے بعد چھ ماہ تک تحریک عدم اعتماد یا اس طرح کی کوئی اور کوشش کی راہ میں قوانین حائل ہیں۔ ویسے بھی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز کی جانب سے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے بیانات پر احتجاج اور ردعمل کے بعد عملی اظہار کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے اور اس ضمن میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پیٹرولیم کے وزیر مملکت جام کمال نے استعفیٰ دے دیا ہے جو منظور بھی کرلیا گیا ہے۔ قرائن بتاتے ہیں کہ یہ ابتدا ہے۔

حکومت اور اپوزیشن کی تمام جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ ملک میں عام انتخابات وقت مقررہ پر ہونے چاہئیں اور الیکشن کے انعقاد میں ایک دن کی بھی تاخیر نہیں ہونی چاہیئے۔ اس حوالے سے ماسوائے ایک یا دو سیاسی راہنماؤں کے تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین میں اتفاق ہے۔ لیکن اس کے باوجود سب کو ہی یہ خدشہ ہے کہ الیکشن میں تاخیر کے اسباب پیدا بھی کیے جاسکتے ہیں۔

جواز بھی پیش کیے جاسکتے ہیں، جیسا کہ حال ہی میں حکومت کی اتحادی جماعت اور جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے غیر مبہم انداز میں کہا ہے کہ اُنہیں الیکشن وقت مقررہ پر دکھائی نہیں دیتے اور امرواقعہ ہے کہ اگر الیکشن میں دو تین ماہ کی بھی تاخیر ہوئی تو یہ ماہ کئی سال میں بھی تبدیل ہوسکتے ہیں۔

اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ کیا پہلے الیکشن ہونگے یا احتساب ۔ تاخیر کے جو جواز پیش کیے جاسکتے ہیں اُنہیں دور کرنے کے لیے سیاستدان کیا کررہے ہیں اور اُس سمت کیا پیش رفت کی جارہی ہے کہ انتخابات میں تاخیر کے تمام جواز اور خدشات ختم ہوجائیں۔ ایسی کوئی بات، کوئی اقدام اور کوئی حکمت عملی دیکھنے میں تو کُجا محسوس بھی نہیں ہوتی۔

اس کے برعکس الزامات کے گندی پوٹلیاں جلسوں، سڑکوں اور چوراہوں میں کھولی جارہی ہیں، ایک دوسرے کی تذلیل اور تضحیک کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا جارہا۔ مخالفین کو نیچا دکھانے کے لیے طے شدہ اُمور کریدے جارہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ سیاستدان ہی ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔

کسی دوسری طاقت یا ادارے کو ان کے خلاف کیا کرنا یہ تو خود ہی ایک دوسرے کے لیے کافی ہیں اور اس ساری صورتحال میں بسا اوقات تو اس بات پر یقین ہونے لگتا ہے کہ اگر ملک میں جمہوریت کو خطرہ ہے تو وہ کسی اور سے نہیں بلکہ خود جمہوریت کے دعویداروں سے ہی ہے

کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں

انتخابی عمل میں حصہ لینے والے سیاستدانوں اور جماعتوں کو یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھنی ہوگی کہ آنے والے انتخابات میں انتخابی قوانین اور قواعد وضوابط ماضی کے مقابلے میں ایک طرف تو خاص سخت ہوں گے اور دوسری طرف اُن پر نظر رکھنے اور عملدرآمد کرانے کا طریقہ کار ، اُس سے بھی زیادہ سخت، جس کا اندازہ اس بات سے بھی بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ الیکشن کمیشن نے عوامی نمائندوں پر اس بات کی پابندی عائد کردی ہےکہ وہ الیکشن کے انعقاد تک جتنی بھی ترقیاتی سکیموں اور منصوبوں کا اپنے حلقہ نیابت میں افتتاح کریںگےاور سنگ بنیاد رکھیں گے اسکی کسی قسم کی تشہیر نہیں کی جائے گی۔

اسی مناسبت سے وہ تختیاں اور تشہیری مواد جو اس سے پہلے کیے گئے منصوبوں کے حوالے سے آویزاں ہے اُسے بھی رواں ماہ کے آخر تک ہٹا دینے کی ہدایت کردی گئی ہے الیکشن کمیشن کا مؤقف یہ ہے کہ اراکین اسمبلی کو ان سکیموں اور منصوبوں کے لیے رقوم سرکاری خزانے سے دی جاتی ہیں اور سرکاری رقوم سے عوامی نمائندوں کو ذاتی تشہیر کرنے اور حلقے کے لوگوں پر احسان جتانے کا کوئی حق نہیں ہے لیکن یہ ابھی ابتدا ہے آنے والے وقت میں جوں جوں الیکشن کی تاریخ قریب آتی جائے گی الیکشن کمیشن کی جانب سے کئ سخت انتخابی قوانین سامنے آسکتے ہیں۔


Urdu Khabrain
Magazine, احتساب, الیکشن, اور, تبصرے, تجزیے, پہلے, گے, ہوں, یا

بھارت میں ٹرمپ کی تصویر کی پوجا کی جانے لگی

https://is.gd/lPhyix



 بھارت میں ٹرمپ کی تصویر کی روزانہ پوجا کی جانے لگی۔

بھارت میں ٹرمپ کی تصویر کی پوجا کی جانے لگی

غیرملکی میڈیا کےمطابق بھارت میں ٹرمپ کا ایسا مداح موجود ہے جو دن میں کئی مرتبہ ان کی تصویر سامنے رکھ کر پوجا کرتا ہے اور انہیں بھگوان کا درجہ دیتا ہے۔

بھارت میں ٹرمپ کی تصویر کی پوجا کی جانے لگی

31سالہ بوسا کرشنا تلنگانا ریاست کے ایک گاؤں کونے میں رہتا ہے اور وہ گزشتہ 3برس سے امریکی صدر کی باقاعدہ پوجا کررہا ہے۔

کرشنا ان کی تصویر کے سامنے پھلوں اور پھولوں کے چڑھاوے دیتا ہے اور کھلے عام ٹرمپ کو دیوتا قرار دیتا ہے۔

بھارت میں ٹرمپ کی تصویر کی پوجا کی جانے لگی

بوسا کرشنا یہاں تک کہتا ہےکہ ٹرمپ کی پوجا سے اسے طاقت ملتی ہے اور وہ ٹرمپ کا مندر بھی تعمیر کرے گا تاہم اس کے اہلِ خانہ اور دوست اسے جنونی اور پاگل قرار دیتے ہیں۔


Urdu Khabrain
Paper, Todays, بھارت, تصویر, جانے, دلچسپ, عجیب, لگی, میں, و, ٹرمپ, پوجا, کی

ہر کسی کو پسند مگر بنانے کسی کسی کو آتے ہیں

https://is.gd/u7e4h6



گول گپے. . . ہر کسی کو پسند مگر بنانے کسی کسی کو آتے ہیں

چند کھانے ایسے ہیںجنہیں دیکھ کر ہی منہ میںپانی آنے لگتا ہے گول گپے یا پانی پوری بھی انہی میں سے ایک ہے۔ ان کو کھانےکی ابتداءبھارت کے علاقے ماگھدھاسے ہوئی۔پانی پوری کو شادی کی تقریبات، سالگرہ اور خوشی کے دیگر موقعوں پر کھانے سے پہلے پیش کیا جاتا ہے۔پاکستان ، بھارت ، نیپال اور بنگلہ دیش میں گول گپے پسندیدہ سنیکس ہیں جو کھانے کے بعد اور شام کے وقت نہایت شوق سے کھائے جاتے ہیں ۔جنوبی ایشیاء کے مختلف حصوں میں اسے مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے ماگھدھا میں اسے پھولکی جبکہ نئی دہلی ، کشمیر ، بنگال اور پاکستان میں گول گپے ، نیپال ، گجرات اور بھارت کےبیشتر علاقوں میں اسے پانی پوری کہا جاتا ہے ۔ اسی طرح ٹکی ، پھچکا، گپ چھپ اور پانی کے پتاشے بھی اس کے عام نام ہیں۔یہ جنوبی ایشیاء کے مختلف علاقوں میں گلی محلوں کے کھانوں کے طور پر مقبول ہے جب کہ آج کل اسے ریسٹورنٹس کے کھانوں کی فہرست میں بھی شامل کر لیا گیا ہے۔

عام طور پر آٹے یا میدے کی مدد سے ایک گو ل پھولکی بنائی جاتی ہے جس میں کھٹا پانی، چنے اور دہی بھلے شامل کر کے کھایا جاتا ہے۔ اس کا کھٹا پانی سب ہی بہت شوق سے پیتے ہیں جو کھٹا ہونے کے ساتھ ساتھ تیکھا بھی ہوتا ہے گول گپوں کی سجاوٹ بھی اہمیت کی حامل ہے ۔ ایک پلیٹ میں پانچ سے چھ گول گپے رکھے جاتے ہیں جن میں سوراخ کر کے چنوں یا بھلیوں کا میٹریل بھرا جاتا ہے ۔ بعض افراد چنے اور چاٹ الگ سے رکھ دیتے ہیں، تاکہ کھانے والے اپنی مرضی سے ڈال کر کھا سکیں۔ جب کہ ان کے ساتھ چٹنیوں اور کھٹے پانی کی پیالی بھی رکھی جاتی ہے جس سے گول گپے کھانے کی اشتہامزید بڑھ جاتی ہے۔جب کہ کئی لوگ اس میں انار کے دانے، مکئی ، آلو اور مختلف سبزیاں شامل کر کے کھاتے ہیں۔ گھر میں پانی پوری بنانے کی آسان ترکیب قارئین کی نذر ہے ۔

پانی پوری بنانے کی ترکیب ۔

اجزاء۔

کھٹےپانی کے لئے۔

پودینہ۔ ایک کپ

ہری مرچ۔ دو سے چار عددیا حسب ذائقہ

لیموں کا جوس۔ تین کھانے کے چمچ

چینی۔ ایک کھانے کا چمچ یا حسب ذائقہ

نمک۔ ایک چائے کا چمچ یا حسب ضرورت

کالا نمک۔ ایک چائے کا چمچ

ادرک پاؤڈر۔ ایک چوتھائی چائے کا چمچ

ہینگ۔ ایک چوتھائی چائے کا چمچ

زیرہ پاؤڈر۔ ایک کھانے کا چمچ

کالی مرچ ۔آدھا چائے کا چمچ

پانی۔ چار کپ یا حسب ضرورت

پوری کے لئے۔

میدہ ۔ایک چوتھائی کپ

سوجی ۔تین چوتھائی کپ

پانی۔ آدھا کپ یا حسب ضرورت

تیل۔ فرائینگ کے لئے

فلنگ کے لئے ۔

آلو ابلے ہوئے۔ایک کپ

بوندی۔دو کپ

ترکیب ۔

کھٹے پانی کےلئے۔

پانی کے علاوہ تمام اجزاء مکس کرکے باریک پتلا سا پیسٹ تیار کر لیں۔

بلینڈ کرتے ہوئے ضرورت کے مطابق مزید پانی شامل کرتے جائیں۔

اب اس میں ہری مرچیں ڈال لیں اور لیموں کا رس، چینی اور نمک بھی شامل کریں۔

اسے سپائسی بنانے کے لئے پانی شامل کریں اور اسے مزید پتلاکرلیں۔

کٹھے پانی کا ذائقہ بہتر کرنے کے لئے اسے ایک دن کے لئے فریج میں رکھ دیں۔

پوری کے لئے ۔

سوجی اور میدہ مکس کرلیں۔

پھر ڈو میںحسبِ ضرورت پانی شامل کرتے رہیں اور اسے اچھی طرح گوندھ لیں۔

اب اسے گیلے کپڑے سے دس منٹ کے لئے ڈھانپ دیں۔

دو صاف تولیے لے کر ایک کو شیٹ پر یا کسی ہموار سطح پر بچھا دیں۔

ڈو کے چھوٹے چھوٹے پیڑے بنائیں اور انہیں کپڑے سے ڈھانپ دیں۔

ہر پیڑے کو دو انچ کے قطر والے دائرے میں رول کریں۔

اب انہیں ایک ٹاول پر رکھ کر دوسرے سے ڈھانپ دیں۔

یہی عمل تمام پوریوں کے ساتھ دہرائیں ۔

تیل درمیانی آنچ پر گرم کریں۔

تیل کی مقدار فرائینگ پین میں ڈیڑھ انچ تک ہونی چاہیے۔

گرم گرم تیل میں ڈو کا ایک ٹکڑا ڈالیں،اگر تیل پوری طرح تلنے کے لئے تیار ہوجائے تو پوریاں تلنا شروع کردیں اور پہلی پوری بیل کر تیل میں گولڈن براؤن ہونے تک تَل لیں۔

جب اِنکی رنگت گولڈن براؤن ہو جائے تو انہیں پیپر ٹاول پر نکالتے جائیں۔ اس طرح سے ان کا تیل پیپر میں جذب ہوتا رہے گا۔

پوریوں کو فرائینگ پین سے نکالتے وقت اچھی طرح نچوڑ لیں۔

املی کی چٹنی ۔

اجزاء۔

املی ۔چھٹانک بھر

نمک۔ حسب ذائقہ

مرچیں ۔ حسب ذائقہ

چینی۔ حسب ذائقہ

ترکیب ۔

املی کو پانی میں بھگو دیں۔

بیج وغیرہ نکال کر املی کو چولہے پر چڑھا دیں۔

پھر نمک، مرچ اور چینی وغیرہ بھی شامل کر دیں۔

چند ابال آنے پر جب گاڑھی ہونے لگے تو اتار لیں۔

لذیذ چٹنی تیار ہے۔

پانی پوری سرو کرنے کے لئے ۔

انگوٹھے کی مدد سے ایک گول گپے میں سوراخ کریں۔

اس میں ابلے آلو، چنے اور پانی میں دس منٹ بھیگی ہوئی بوندی بھریں۔

اگر پسند ہو تو املی کی چٹنی بھی ڈالیں۔

(نوٹ:پانی پوری پیش کرنے کے لئے مٹی کے برتن بہتر رہتے ہیں)


Urdu Khabrain
Magazine, آتے, بنانے, مگر, پسند, پکوان, کسی, کو, گول, گپے, ہر, ہیں

ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟

https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...