سری لنکا کی پہلے ٹیسٹ کے دوسرے روز پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری ہے۔
ابوظہبی کے شیخ زید اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے میچ کے دوسرے روز مہمان ٹیم نے اپنی نامکمل اننگز 227 رنز 4 کھلاڑی آؤٹ سے دوبارہ شروع کی۔
پہلے روز کھیل کے اختتام تک کپتان دنیش چندیمل 60 اور ڈکویلا 42 رنز کے ساتھ کریز پر موجود تھے اور وہیں سے دوبارہ بلے بازوں نے دوبارہ اننگز کا آغاز کیا۔
قومی ٹیم کے بولنگ کوچ اظہر محمود کا جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بولرز نئی گیند سے فائدہ نہیں اٹھاسکے تاہم دوسرے روز کھیل کے دوران سری لنکا کو جلد آؤٹ کرنے کی کوشش کریں گے۔
سری لنکن ٹیم کے کپتان دنیش چندیمل نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تو پہلے سیشن میں مہمان ٹیم دباؤ کا شکار رہی اور تین کھلاڑی پویلین لوٹ گئے۔
اوپننگ بلے باز کشال سلوا اور کرارتنے نے 34 رنز کی شراکت قائم کی تو سلوا 12 رنز بنانے کے بعد حسن علی کی گیند پر بولڈ ہوگئے جس کے بعد ایک رنز کے اضافے کے بعد نئے آنے والے بلے باز لہرو تھرمانے بھی بغیر کوئی رنز بنائے یاسر شاہ کی گیند پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہوئے۔
تیسرے آؤٹ ہونے والے بلے باز مینڈس تھے جو صرف 10 رنز بناسکے جنہیں یاسر شاہ نے اپنی گھومتی ہوئی گیند سے شکار بنایا۔
چوتھی وکٹ پر اوپننگ بلے باز کرارتنے اور کپتان دنیش چندیمل نے محتاط انداز اپناتے ہوئے اسکور آگے بڑھایا اور چائے کے وقفے تک دونوں بلے بازوں نے 82 رنز کی شراکت قائم کرتے ہوئے ٹیم کا مجموعی اسکور 143 تک پہنچا دیا۔
سری لنکا کی چوتھی وکٹ 161 رنز پر گری اور کرارتنے 93 رنز پر رن آؤٹ ہوئے۔
بعدازاں چندی مل اور ڈک ویلا نے دن کے اختتام تک اننگز کو سنبھالا اور سری لنکن ٹیم کو مزید کسی نقصان سے دور رکھا۔
پاکستان کی جانب سے یاسر شاہ نے دو جبکہ حسن علی نے ایک کھلاڑی آؤٹ کیا۔
یاسر شاہ کا اعزاز
سری لنکا کے خلاف میچ میں یاسر شاہ نے دو وکٹیں حاصل کر کے ٹیسٹ کی تاریخ میں سب سے تیز ترین 150 وکٹیں حاصل کرنے والے اسپنر بن گئے ہیں۔
یاسر شاہ نے مجموعی طور پر اپنے 27 ویں ٹیسٹ میچ میں یہ کارنامہ انجام دیا جب کہ ان سے قبل آسٹریلیا کے کلیری گریمیٹ نے 28 میچوں میں 150 وکٹیں حاصل کی تھیں۔
پاکستان کی جانب سے حارث سہیل اپنا ڈیبیو میچ کھیل رہے ہیں جب کہ قومی ٹیم کپتان سرفراز احمد، شان مسعود، سمیع اسلم، اظہرعلی، اسد شفیق، بابراعظم، محمد عامر، یاسر شاہ، محمد عباس اور حسن علی پر مشتمل ہے۔
سری لنکن ٹیم کشال سلوا، ڈیموتھ کرارتنے، کشال مینڈس، کپتان دنیش چندیمل، لہیرو تھرمانے، نروشان ڈکویلا، دلرووان پریرا، رنگانا ہیراتھ، سرنگا لکمل، لکشان سنداکان اور نوان پرادیپ پر مشتمل ہے۔
ٹاس ہارنے کے بعد سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ اگر ٹاس جیت جاتے تو پہلے بیٹنگ ہی کرتے، کھلاڑیوں نے بہت محنت کی ہے اور میچ میں اچھا پرفارم کریں گے۔
کپتان سرفراز احمد نے کہا کہ تینوں فارمیٹ میں قیادت کرنا اعزاز کی بات ہے اور سری لنکا کے خلاف سیریز کے لئے کافی پرجوش ہوں۔
آئی سی سی کے نئے قوانین کا اطلاق
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان کھیلے جانے والے سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ سے کرکٹ کی دنیا میں آئی سی سی کے نئے قوانین کا اطلاق ہونے جارہا ہے۔
نئے قوانین کے مطابق امپائرز کو آن فیلڈ کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کرنے والے کھلاڑی کو میدان سے باہر بھیجنے اور حریف ٹیم کو پینلٹی رنز دینے کا اختیار مل گیا ہے۔
نئی ترامیم کے تحت پلیئرز کے آن فیلڈ کنڈکٹ کو 4 حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جس کے تحت میچ کے دوران نظم و ضبط کی خلاف ورزی کرنے والے کھلاڑی کو محدود مدت سے لے کر مکمل اننگز کے لئے میدان سے باہر کرنا اور حریف ٹیم کو 5 پینلٹی رنز دینا فوری سزا میں شامل ہے۔
اگر کپتان کھلاڑی کو گراؤںڈ سے باہر بھیجنے سے انکار کرتا ہے تو امپائر کو حق حاصل ہوگا کہ وہ حریف ٹیم کو فاتح قرار دیدے۔
No comments:
Post a Comment