Thursday, 5 October 2017

ایسی بے غیرتی کی سزا موت نہیں تو اور کیا ہے

آئیے پہلے آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں بشیر خان شہر کے پر رونق چوک پر سبزیوں کی ریڑھی لگاتا ہے ، اور اس کے گزر بسر کا واحد ذریعہ یہی ریڑھی ہے اس کی سبزیا ں بھی اکثر شام تک بک جاتی ہیں اور کبھی کبھار وہ بچی کچھی سبزیاں سستے داموں بیچ کر گھر پہنچ جاتا ہے ایک دن اس کی ریڑھی کے پاس ایک صاحب کی گاڑی آکر رکی کیونکہ بشیر خان کی ریڑھی پر رکھی تازہ سبزیوں کی خوشبو ان صاحب کو اپنی طرف کھینچ لائی تھی۔ گاڑی سے کاٹن کے کلف لگے کپڑوں میں ملبوس ڈرائیور شاہانہ انداز میں باہر نکلا اور اپنی امارت کا رعب دکھانے کے لیے بشیر خان سے ساری سبزیاں خرید لیں اور چلتا بنا ۔ بشر خان کی تو گویا عید ہو گئی دن کو دو بجے وہ کام سے فارغ ہو گیا ۔ اگلے دن بشیر خان اپنی ریڑھی پر ترتیب سے سبزیاں رکھ رہا تھا کہ اس کو پھر صاحب بہادر کی گاڑی اپنی طرف آتی دکھائی دی بشیر خان دل ہی دل میں خوش ہو رہا تھا کہ آ ج تو 11 بجے ہی سبزی بک جائے گی، اس بیچارے کو کیا خبر تھی کہ یہاں پر اب سبزی نہیں بلکہ انسان بکنے والے ہیں۔ وہی ڈرائیور نئے سوٹ میں ملبوس باہر نکلا اور سیدھا بشیر خان کی طرف بڑھا اور اس کو مارنا شروع کر دیا.

کسی اجنبی نے بشیر خان کی خراب حالت دیکھ کر پولیس کو فون کر دیا پولیس پہنچی اور معاملہ کی اہم نوعیت دیکھ کر ادھر ہی بشیر خان کو انصاف فراہم کرنے کی سوچا لیکین تفتیش میں بشیر خان ملزم ثابت ہو گیا کیونکہ صاحب کے ڈرایؤر کا کہنا تھا کہ بشیر خان کے بیچے ہوئے دس کلو ٹماٹر میں سے کچھ ٹماٹر خراب نکلے ہیں ۔ بہرحال پولیس نے بشیر خان کو آئندہ کے لیے وارننگ دی اور صاحب کو مشورہ دیا کہ قانون ہاتھ میں نہ لیں اس سے بہتر ہے آپ ایف۔ آئی۔آر درج کروا دیں ۔ اس کے بعد مجھے وہاں بشیر خان نہیں نظر آیا ،بعد میں پتا چلا کہ بشیر خان دھوکہ دہی اور ناجائز تجاوزات کے جرم میں 6 ماہ حوالات میں بند رہا۔ اتنی جلدی انصاف ہوتا دیکھ کر میں نے دل ہی دل میں اپنے ملک کی عدالتوں اور انتظامیہ کا اکثر محفلوں میں ،،اچھے،، الفاظ میں تذکرہ کیا، کچھ ہی دن بعد ایم کیو ایم کے رہنماؤں پر غداری کے مقدمات بننا شروع ہوئے جناب الطاف حسین ،فاروق ستار ، وسیم اختر اور دیگر ملزمان کو اشتہاری قرار دیا گیا عدالت نے انتظامیہ کو اپنی عادت کے مطابق ان کو گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم دیا۔ اب روز عدالت لگتی ہے اور پولیس روز خالی ہاتھ آتی ہے اور جج صاحبان روز تاکید کرتے ہیں کہ ملزمان کو لایا جائے لیکن ملزمان پولیس کی سیکیورٹی میں روزانہ پریس کانفرنس کر کہ الزامات کا دفاع کرتے ہیں اسی طرح پرویز مشرف، آصف زرداری، یوسف گیلانی ، راجہ پرویز اشرف ، اور پنجاب کابینہ کے چند وزراء کے مقدمات میں جو انصاف ہماری عدالتیں اور انتظامیہ کر رہی ہے وہ بھی ہمارے سامنے ہے ۔ علامہ طاہر القادری اور جناب عمران خان صاحب پر بھی دھرنے کے دنوں میں غداری اور کار سرکار میں مداخلت کے مقدمے بنے تھے ان میں عدالتوں نے کب اور کیسے احکامات جاری کیے اور انتظامیہ نے کب ان کو گرفتار کرنے کی کوشش کی؟ بشیر خان تو دو خراب ٹماٹر بیچتے ہوئے اب ڈرتا ہے لیکن سانحہ ماڈل ٹاؤن، سانحہ بلدیہ فیکٹری، اور پی۔ٹی۔وی حملہ کیس کے معزز ملزمان پولیس کی سیکیورٹی میں عدالتوں کے سامنے سے گزرتے ہیں۔ کیونکہ یہاں سب بکتا ہے عقلمند سمجھ گے ہوں گئے کہ یہاں کیا کیا بکتا ہے؟

No comments:

Post a Comment

ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟

https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...