Sunday, 1 October 2017

جب روسی ایئر لائن نے عملے کی فربہ خواتین کی تنخواہیں کم کرنے کی کوشش کی


ماسکو: روسی ایئر لائن ایرو فلوٹ نے طیارے پر متعین عملے کے فربہ افراد کی تنخواہیں کاٹنے کا فیصلہ کیا، اور اس وقت ایئر لائن انتظامیہ کے ہوش ٹھکانے آگئے جب مسافروں کی دیکھ بھال پر معمور خاتون اسٹیورڈ عدالت جا پہنچی۔


روس کی قومی ایئر لائن ایرو فلوٹ اپنے فضائی میزبانوں کو نہایت دیدہ زیب اور متاثر کن انداز میں پیش کرنا چاہتی تھی اور اس کے لیے نئے اور خوبصورت لباس بنوانے کا فیصلہ کیا گیا۔


تاہم اس وقت یہ فیصلہ تنازعے کا شکار ہوگیا جب انتظامیہ نے فربہ اور موٹے لوگوں کی تنخواہیں اس بات سے مشروط کردیں کہ وہ اپنا وزن کم کریں بصورت دیگر ان کے ڈھیلے لباسوں کی وجہ سے ان کی تنخواہوں میں کٹوتی کردی جائے گی۔


اس سے قبل ایئر لائن انتظامیہ کیبن کریو کے لیے بہت زیادہ ڈھیلے لباس تیار کرنے پر ویسے ہی پابندی عائد کرچکی تھی۔


بعد ازاں روسی زبان میں ایسے فضائی اسٹاف کو ایس ٹی ایس کے نام سے بھی جانا جانے لگا جس کا مطلب تھا، ’بوڑھے، موٹے اور بدصورت‘۔


تاہم مذکورہ خاتون اسٹیورڈ ایونجینا نے انتظامیہ کی اس پالیسی کے خلاف عدالت جانے کا فیصلہ کیا۔


ایونجنا کا کہنا تھا، ’ایرو فلوٹ کی جانب سے نوٹس جاری کیا گیا کہ خاتون اسٹیورڈ کی ترقی کا دارو مدار اس کی جسامت پر ہوگا۔ یہ فیصلہ بہت ہی احمقانہ اور صدمہ پہنچانے والا تھا‘۔


ایونجنا کا کہنا تھا کہ اسٹیورڈ کا کام ہوتا ہے کسی ہنگامی صورتحال میں مسافروں کی جان بچانا۔ اس کام کو آپ کسی کی خوبصورت یا اس کے کپڑوں کے سائز سے کیسے منسلک کر سکتے ہیں۔


انہوں نے کہا، ’یہ تو ایسا ہی ہے جیسے آپ کسی ڈاکٹر کو اپنی بیماری کا علاج کرنے کے لیے اس لیے منتخب کریں کہ وہ خوبصورت ہے، یا کسی جج کی قابلیت کی جانچ اس کے لباس کے سائز سے کی جائے۔ یہ ایک بہت ہی احمقانہ بات ہے‘۔


عدالت میں کیس دائر ہونے کے بعد ایرو فلوٹ کے وکیل نے اس فیصلے کے خلاف دلیل پیش کی کہ بھاری جسامت اور فربہ عملے کے افراد کی وجہ سے اتنظامہ اس بات کی پابند ہوتی ہے کہ وہ طیارے میں اضافی ایندھن بھروائے‘۔


تاہم وکیل صفائی کی یہ دلیل کسی کام نہ آئی، عدالت نے فیصلے کو احمقانہ قرار دیتے ہوئے اسے یکسر مسترد کردیا اور ایئر لائن انتظامیہ کو ملازمین کو ان کی جائز تنخواہیں ادا کرنے کا حکم دے دیا۔




قالب وردپرس

No comments:

Post a Comment

ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟

https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...