محبت انسان کی فطرت کا حصہ ہے اور زندگی گزارنے کے لئے شریک سفر کی تلاش بھی ہر انسان کی فطری خواہش ہوتی ہے لیکن بعض اوقات انسان سے بڑی بھول ہوجاتی ہے اور وہ کسی کی ہوس کو محبت سمجھ بیٹھتا ہے۔ نوعمری میں تو اس غلطی کا احتمال اور بھی زیادہ ہوتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ روایت پسند مشرقی معاشروں میں لڑکوں اور لڑکیوں کے مادر پدر آزاد اختلاط کو پسند نہیں کیا جاتا۔ اس کے باوجود بعض اوقات بھول ہو جاتی ہے، انسان احتیاط کا دامن چھوڑ بیٹھتا ہے اور پھر ایسا دردناک انجام اس کا مقدر بن جاتا ہے کہ جس کا تصور کرکے ہی رونگٹے کھڑے ہوجائیں۔ ایک ایسی ہی عبرتناک داستان ایک نوجوان لڑکی نے ویب سائٹپر کچھ یوں بیان کی ہےمیرانام نیلم ہے جب میں 16 کی تھی تو ٹیوشن سنٹر میں میری فرحان نامی لڑکے سے میری ملاقات ہوئی جس کی عمر 19 سال تھی وہ بہت ہینڈ سم اور لڑکیوں میں بہت مقبول تھا کیونکہ میں ایک ذہین طالبہ تھی اور ہر وقت اپنی پڑھائی پر توجہ رکھتی تھی لہذا کبھی اس میں دلچسپی نہیں لیتی تھی میری عدم دلچسپی سے کوئی فرق نہیں پڑا اور وہ میرے پیچھے پڑ گیا میں ٹیوشن سے واپس جاتی وہ میرا تعقب کرتا میں نے اس سے جان چھڑوانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن کوئی فرق نہیں پڑا لیکن اس نے کوشش جاری رکھی ایک روز جب میں گھر واپس جا رہی تھی تو فرحان کا دوست معظم میرے پاس رکا اور بتایا کہ فرھان میری محبت میں دیوانہ ہو چکا ہے اور دن رات میرا ذکر کرتا ہے اور میرے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا معظم نے درخواست کی کہ ایک بار اس سے میں بات ضرور کر لوں میں اس کے لئے تیار نہ تھی لیکن میں نے سوچا کہ ایک بار بات کر کے میں اس کو سمجھا سکوں گی بلا آخر بہت سوچ بچار کے بعد میں نے فرحان سے رضا مندی ظاہر کر دی اور وہ مجھے ایک فلیٹ پر لے کے گیا لیکن وہاں کا ماحول مجھے کافی پریشان کن محسوس ہوا کہ جسے میرے دل میں اس کے لئے جگہ تھی پھر پیار بھری باتوں کے ساتھ اس نے مجھے چھونا بھی شروع کر دیا اور اگلے ہی لمحے وہ میرے ساتھ لپٹ گیا اور مجھے بے لباس کر دیا اور میری آہوں اور سسکیوں کے باوجود وہ مجھے بے آبرو کرتا رہا میرے لئے یہ واقع انتہائی وحشت ناک تھا میں ٹوٹے ہوئے دل اور زخمی روح کے ساتھ گھر واپس آئی اور خاموشی سے اپنے کمرے میں جا کر لیٹ گی میں نے رات روتے ہوئے گزاری لیکن میں کچھ نہیں کر سکتی اپنی قسمت پر ماتم کے سوا اب مجھے یہ خوف بھی لاحق تھا کہ میں کہیں حاملہ نہ ہو جائوں میں یہ معاملہ اپنی والدہ سے خوفیہ رکھنا چاہتی تھی اور مجھے اس وقت مدد کے لئے صرف فرحان نظر آ رہا تھامیں نے فرحان سے رابطہ کیا تو اس نے بتایا کہ وہ ایک نرس کو جانتا ہے جس سے معائنہ کروایا جا سکتا ہے کچھ عرصے بعد اس نے میرا معائنہ کیا تو پتا چلا کہ میں حاملہ ہو چکی تھی یہ خبر ہم دونوں کے لئے اتنی خوفزدہ کر دینے والی تھی.
لیکن اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ استقاط حمل کروا دیا لیکن اس دوران کسی پیچیدگی کی وجہ سے میرا بہت خون ضائع ہوا اور میری حالت غیر ہو گئی بلا آخر مجھے یہ معاملہ اپنی والدہ کو بتانا پڑا لیکن ان کا رد عمل اتنا خوفناک آئے گا میں نے سوچا بھی نہ تھا انہوں نے میرا تمام سامان اکھٹا کیا اور گھر سے باہر پھینک دیا انہوں نے مجھے باہر نکال کر گھر سے دروازہ بند کر لیا تھا اب میرے پاس فرحان سے مدد مانگنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا وہ مجھے اپنے فلیٹ پر لے آیا اب میرے پاس ایک ہی راستہ تھا میں فرحان سے شادی کر لوں لیکن اس کے گھر والے مجھ سے نفرت کرتے تھے صرف اس کی دادی اماں تھی جن کے دل میں میرے لئے نرم گوشہ تھا بلا آخر ان کی کوششوں سے ہماری شادی ہو گئی فرحان کے گھر میں میری زندگی انتہائی تکلیف دہ تھی کیونکہ ہر کوئی مجھ سے نفرت کرتا تھا ایک دن تو اس کے ولد اور بھائی نے مجھ پر سخت تشدد کیا اور میرے کپڑے پھاڑ کر مجھے گھر سے بھی باہر نکال دیا ۔ اس وقت پر مجھے ہمسایوں نے پناہ دی میری تکالیف کا سلسلہ یوں ہی جاری تھا کہ میری قسمت نے ساتھ دیا اور میں ایک یونیورسٹی میں داخلہ لینے میں کا میاب ہو گئی میں نے بہترین تعلیمی کارکردگی کا مظاہرہ شروع کیا اس دوران وہاں میری ایک بیٹی نے بھی جنم لیا یونیورسٹی کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد مجھے سکالر شپ مل گئی اور میں باہر چلی گئی میری تعلیم نے میرے لئے دنیا میں سب سے بڑے سہارے کا کام کیا اب میں ایک آزاد اور خود مختا عورت کی طرح زندگی گزار رہی ہوں لیکن جو زخم میری غلطیوں کی وجہ سے زندگی نے مجھے دئیے ہیں ان کو کبھی نہیں بھر سکوں گی ، جو لڑکیاں اس طرح اپنے والدین کی عزت نیلام کرتی ہیں تباہی اور بربادی ان کا مقدر بن جاتا ہے.
Monday, 2 October 2017
ٹیوشن سنٹر سے بستر تک کی دردناک کہانی !
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟
https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...
-
https://goo.gl/jsbpLD لاہور ( نیوز ڈیسک) فلم پرچی کی مرکزی کاسٹ میں شامل حریم فاروق اور علی رحمان خان نے ٹرک اڈے پر فوٹو شوٹ کرایا جس کی تصا...
-
https://is.gd/3wsREo یہ جینز 1893ء میں ایک اسٹور کے مالک نے خریدی تھیں۔ فوٹو : گلف نیوز واشنگٹن: امریکا میں 125 سال پرانی جینز کی دو پتلونیں...
-
https://is.gd/Jbk441 دلہن کے والد نے جہیز کی بقیہ رقم کا فوری مطالبہ کیا جس پر دلہا غصے میں آگیا۔ فوٹو: انٹرنیٹ متحدہ عرب امارات کے ایک شہری...
No comments:
Post a Comment