https://goo.gl/Qcg12m
احتساب عدالت نے عدم پیشی پر نیب کی درخواس پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔
اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف نیب کی جانب سے دائر آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے ریفرنس کی سماعت کی۔
وزیر خزانہ اسحاق ڈار آج عدالت کے روبرو پیش نہ ہوئے جس پر ان کے وکیل خواجہ حارث نے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی جسے عدالت نے مسترد کردیا۔
عدالت نے نیب کی جانب سے وانٹ گرفتاری کی درخواست منظور کرتے ہوئے اسحاق ڈار کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے 2 نومبر تک انہیں پیش ہونے کا حکم دیا۔
عدالت نے ملزم اسحاق ڈار کے ضامن کو بھی نوٹس جاری کردیا۔
مزید جانئیے: اثاثہ جات ریفرنس: احتساب عدالت نے اسحاق ڈار پر فرد جرم عائد کردی
استغاثہ کی جانب سے آج 4 گواہ عدالت میں پیش کئے گئے جن میں مسعود غنی، عبدالرحمان گوندل، فیصل شہزاد اور محمد عظیم شامل ہیں۔
استغاثہ کےگواہ عبدالرحمان گوندل نے 2 تھیلوں میں مشتمل ریکارڈ عدالت میں پیش کیا جس کے بعد اسحاق ڈار کے وکیل خواجہ حارث نے اس کا جائزہ بھی لیا۔
سماعت شروع ہوئی تو اسحاق ڈار کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل طبی معائنے کے لئے لندن میں موجود ہیں جہاں ان کے بلڈ ٹیسٹ، ای سی جی اور دیگر ٹیسٹ کرانے کا کہا گیا ہے، اس لئے آج کے لئے حاضری سے استثنیٰ دیا جائے۔
خواجہ حارث نے کہا کہ اسحاق ڈار جمعرات کو عدالت میں پیش ہوجائیں گے، اگر آپ گواہوں کے بیانات رکارڈ کرانا چاہتے ہیں تو کوئی اعتراض نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نیب کیس: اسحاق ڈار کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات عدالت میں پیش
خواجہ حارث نے اسحاق ڈار کی میڈیکل رپورٹ بھی عدالت میں جمع کرائی اس موقع پر نیب نے استثنیٰ کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت سے اسحاق ڈار کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا کی جس پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔
گزشتہ سماعت پر نیب پراسیکیوٹر عمران شفیق نے عدالت کو بتایا تھا کہ چیرمین نیب اسحاق ڈار کے اثاثے منجمند کرنے کی منظوری دے چکے ہیں۔
نیب پراسیکیوٹر نے عدالت سے استدعا کی کہ اثاثے منجمند کرنے سے متعلق نیب کے فیصلے کی توثیق کی جائے۔
اسحاق ڈار کی پیشیاں:
وزیر خزانہ اسحاق ڈار آج ساتویں مرتبہ احتساب عدالت کے روبرو پیش ہوئے، اس سے قبل وہ 25 ستمبر، 27 ستمبر، 4 ، 12، 16 اور 18 اکتوبر کو اثاثہ جات ریفرنس کا سامنا کرنے کے لئے پیش ہوئے۔
اسحاق ڈار کے خلاف نیب ریفرنس پر پہلی سماعت 14 اور دوسری 20 ستمبر کو ہوئی اور ان دونوں سماعتوں پر وہ پیش نہیں ہوئے تھے۔
خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے 28 جولائی کے پاناما کیس فیصلے کی روشنی میں نیب نے وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا ریفرنس دائر کیا ہے۔
سپریم کورٹ کی آبزرویشن کے مطابق اسحاق ڈار اور ان کے اہل خانہ کے 831 ملین روپے کے اثاثے ہیں جو مختصر مدت میں 91 گنا بڑھے۔
27 ستمبر کو احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثوں کے نیب ریفرنس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار پر فرد جرم عائد کی تھی تاہم اسحاق ڈار نے صحت جرم سے انکار کردیا تھا۔
نیب کی جانب سے پیش کیے گئے گواہان:
نیب کی جانب سے پیش کیے گئے پہلے گواہ اشتیاق علی تھے جن کا تعلق نجی بینک سے ہے جب کہ شاہد عزیز قومی سرمایہ کاری ٹرسٹ اسلام آباد کے ملازم اور طارق جاوید لاہور کے نجی بینک میں افسر ہیں۔
نجی بینک سے تعلق رکھنے والے مسعود غنی اور عبدالرحمان گوندل بھی نیب کی جانب سے پیش ہونے والے گواہان ہیں۔
Urdu Khabrain
Breaking Pakistani News, Daily Pakistan News, Online Pakistani News, Pakistan latest News, Pakistan News, Pakistan Urdu News, Pakistani Khabrain, Top Pakistani News, اثاثہ, اسحاق, جات, جاری, ریفرنس, ضمانت, قابل, وارنٹ, پاکستان, ڈار, کے, گرفتاری
No comments:
Post a Comment