https://goo.gl/EDv5TC
روایات کے مطابق قصبے کے میئر کو ہرسال ایک مگرمچھ سے شادی کرنی پڑتی ہے۔ فوٹو: انڈین ایکسپریس
میکسیکو سٹی: دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو توہم پرستی کا شکار ہوتے ہیں اور مختلف چیزوں کو اپنے لیے خوش قسمتی یا بدقسمتی کی وجہ مان لیتے ہیں لیکن میکسیکو کے ایک قصبے سین پیڈرو ہوامے لولا کے میئر نے وکٹر آگیلر نے تو ساری حدیں ہی پار کردیں اور خوش بختی کے لیے ایک مادہ مگرمچھ سے شادی رچالی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس قصبے کے میئر نے مقامی ماہی گیروں کی اچھی قسمت کے لیے مگر مچھ سے باضابطہ شادی کی اور یہ رسم گزشتہ 200 برس سے جاری ہے۔
میئر نے جس مگر مچھ سے شادی کی اس کا نام ’’پرنسز‘‘ رکھا گیا تھا اور شادی سے قبل اسے باضابطہ طور پر بپتسمہ بھی دیا گیا، شادی سے ایک روز قبل پرنسز کو پورے قصبے میں گھمایا گیا اور لوگوں نے روایتی نغمے گنگنا کر اور رقص کر کے اس کا استقبال کیا۔ شادی والے دن پرنسز کو سفید رنگ کا عروسی جوڑا بھی پہنایا گیا جبکہ مقامی پادری نے اس کی میئر سے شادی کرائی۔
شادی کے موقع پر پورے قصبے کو مدعو کیا گیا تھا اور روایتی کھانے تیار کیے گئے تھے جبکہ شادی میں شریک لوگ مختلف نغمے گا رہے تھے اور واحد پرنسز ہی تھی جس کے منہ پر پٹی باندھ دی گئی تھی۔
یہ رسم میکسیکو کے جنوبی مغربی قصبے میں 1789 سے جاری ہے اور اس قصبے کے لوگوں کا ماننا ہے کہ ایسا کرنے سے ان کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا ہوتی ہیں اور قسمت ان پر مہربان ہو جاتی ہے۔ خیال رہے کہ اس قصبے کے زیادہ تر افراد کا ذریعہ معاش ماہی گیری ہے جبکہ کچھ افراد کھیتی باڑی بھی کرتے ہیں۔ روایات کے مطابق اس قصبے کے میئر کو ہر برس ایک مگرمچھ سے شادی کرنی پڑتی ہے تاکہ قصبے کے لوگ خوش و خرم رہیں۔
Urdu Khabrain
No comments:
Post a Comment