https://goo.gl/1LGuXp
نیپال کی حکومت نے بھی بھارت کی پولیس میں ملازم ایک جوڑے کے دنیا کی سب سے بڑی چوٹی ہمالہ سر کرنے کے دعوے کی تصدیق کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
دنیش اور تراکشواری راٹھور جو دونوں پولیس اہلکار ہیں، انھوں نے رواں ماہ میڈیا کو بتایا کہ انھوں نے 23 مئی کو 8850 میٹر بلند ایورسٹ کو سر کیا ہے۔
لیکن کچھ کوہ پیماؤں نے اس میاں بیوی کے دعوے پر شک کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ انھوں نے چوٹی سر کرتے ہوئے جو تصاویر جاری کی ہیں وہ جعلی ہیں یا ان میں رد و بدل کیا گیا ہے۔
اگر ان کے دعوے جھوٹے ثابت ہو گئے تو ان کا چوٹی سر کرنے کا سرٹیفیکیٹ منسوخ کر دیا جائے گا اور ان کے خلاف دھوکہ دہی کا مقدمہ بھی چلایا جا سکتا ہے۔
مسٹر اور مسز راٹھور ان الزامات کی ترید کرتے ہیں اور ان کے ساتھ اس مہم پر جانے والے گائیڈ بھی ان کے دعوے کی تصدیق کرتے ہیں۔
ان تصاویر کی بنیاد پر انھیں چوٹی سر کرنے کا سرٹیفیکیٹ جاری کیا گیا تھا
انھوں نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ سرٹیفیکیٹ ان تصاویر کی بنیاد پر جاری کیا گیا جو کوہ پیماؤں نے خود مہیا کی تھیں اور ان کی تصدیق کرنا مشکل تھا۔
بی بی سی کے رابطہ کرنے پر تراکشواری راٹھور نے اصرار کیا کہ انھوں نے اپنے شوہر کے ساتھ ہمالہ کی چوٹی کو سر کیا ہے۔
یہ جوڑا بھارت کے شہر پونے میں پولیس کانسٹیبل ہے جہاں پولیس ان کے اس دعوے کی تصدیق کے لیے تحقیق کر رہی ہے۔
پونے پولیس نے بی بی سی کو بتایا کہ اس جوڑے کے دعوے اور وہ کوہ پیما جو ان کے دعوے کو غلط قرار دے رہے ہیں ان کی تحقیقات ہو رہی ہیں۔
Urdu Khabrain
No comments:
Post a Comment