https://goo.gl/2vsuHr
آج دنیا کی تقریباً آدھی آبادی انٹرنیٹ استعمال کر رہی ہے، اور اس تعداد میں ہر سیکنڈ اضافہ ہو رہا ہے۔ عام افراد، حکومتیں، افواج، کاروباری ادارے، ہوائی کمپنیاں، صنعتیں، تعلیمی ادارے، میڈیا، غرض دنیا کا کوئی ایسا شعبہ نہیں جو انٹرنیٹ پر انحصار نہ کرتا ہو۔
ایسے میں اگر ساری دنیا کا انٹرنیٹ ایک دن کے لیے بند ہو جائے تو کیا ہو گا؟
اس سوال کا جواب آپ کو حیران کر سکتا ہے۔
ایسا ہونا کوئی بہت بعید از قیاس بات نہیں ہے۔ قومی یا بین الاقوامی پیمانے پر سائبر حملوں سے انٹرنیٹ میں خلل ڈالا جا سکتا ہے۔ انٹرنیٹ کی تاریں سمندر کے نیچے سے ہوتی ہوئی ملکوں اور براعظموں کو آپس میں ملاتی ہیں۔ یہ تاریں کسی وجہ سے کٹ سکتی ہیں، یا کاٹی جا سکتی ہیں۔
بعض ملکوں کے پاس ‘کِل سوئچ’ ہیں، جن کی مدد سے وہ تمام ملک کا انٹرنیٹ کاٹ سکتے ہیں۔
تاہم انٹرنیٹ کو سب سے بڑا خطرہ شمسی شعلوں سے ہے۔ سورج سے نکلنے والے ان شعلوں کی لہریں زمین تک پہنچ کر نہ صرف انٹرنیٹ بلکہ مواصلاتی نظام کو بھی درہم برہم کر سکتی ہیں۔
لیکن انٹرنیٹ میں پڑنے والے کسی بھی خلل کو دور کرنے کے عمدہ انتظامات موجود ہیں اور ماہرین کی فوج در فوج اسے ٹھیک کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتی ہے۔
لیکن اوپر دی گئی کسی بھی وجہ سے ساری دنیا کا انٹرنیٹ ایک دن کے لیے کٹ جائے تو کیا ہو گا؟
2008 میں امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ نے غیر نفع بخش ادارے یونائیٹڈ سٹیٹس سائبر کانسی کوئنسز کے سکوٹس بورگ سے کہا کہ وہ حساب لگا کر بتائیں کہ ایسی صورتِ حال کا معیشت پر کیا اثر پڑے گا؟
بورگ نے امریکہ میں انٹرنیٹ میں خلل کے واقعات کا جائزہ لے کر معلوم کرنے کی کوشش کی کہ اس کے کیا معاشی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ انھوں نے 20 ایسی کمپنیوں کی سہ ماہی مالیاتی رپورٹوں کا جائزہ لیا جنھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ انٹرنیٹ کے خلل سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
حیرت انگیز طور پر بورگ کو معلوم ہوا کہ ان کمپنیوں پر اس خلل کا کوئی خاص اثر نہیں پڑا۔
بورگ کہتے ہیں کہ ‘ہماری معیشت اس قسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے کیوں کہ ویسے بھی ویک اینڈ پر ہر چیز دو دن کے لیے بند رہتی ہے۔’
بورگ نے جن کمپنیوں کا جائزہ لیا تھا ان میں انٹرنیٹ زیادہ سے زیادہ چار دن کے لیے بند رہا تھا۔
الٹا یہ معلوم ہوا کہ اگر ہر کمپنی ہر مہینے اپنے کمپیوٹر چند گھنٹوں کے لیے بند کر دے تو اس کا ملازمین کے کام کرنے کی استعداد پر الٹا اچھا اثر پڑے گا۔
اگر انٹرنیٹ چند گھنٹوں کے لیے بند ہو جائے تو ملازمین ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہنے کی بجائے تعطل کا شکار کام نپٹانے کی کوشش کرتے ہیں، مثلاً پیپر ورک، جس سے کمپنی کو فائدہ ہوتا ہے۔
سفر پر بھی زیادہ اثر نہیں پڑے گا، بشرطیکہ انٹرنیٹ ایک دو دن سے زیادہ بند نہ رہے۔ جہاز انٹرنیٹ کے بغیر اڑ سکتے ہیں اور یہی حال بسوں اور ٹرینوں کا بھی ہے۔ تاہم لمبے دورانیے کی بندش کے مضر اثرات مرتب ہونا شروع ہو جائیں گے۔
1998 میں ایک مواصلاتی مصنوعی سیارے میں خرابی کی وجہ سے امریکہ میں چار کروڑ کے لگ بھگ پیجر بند ہو گئے۔ لاس اینجلس میں کیے جانے والے ایک سروے سے معلوم ہوا کہ اس کا زیادہ نقصان نچلے طبقوں کو ہوا۔ مثال کے طور پر ترکھان یا پلمرروں کو کام ملنے میں دشواری ہوئی، لیکن اعلیٰ طبقوں سے تعلق رکھنے والے بڑی حد تک اس کے برے اثرات سے بےنیاز رہے۔ ان کے لیے یہ واقعہ چھٹی کے دن کے مترادف تھا۔
لیکن معاشی کے لیے علاوہ انٹرنیٹ کا سماجی پہلو بھی ہے۔ لوگ اسے بڑے پیمانے پر سماجی رابطے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ بورگ کہتے ہیں: ‘جب میں اپنا فون گھر بھول جاؤں تو ایسا لگتا ہے جیسے میں نے کپڑے نہیں پہن رکھے۔ میں سوچتا ہوں، کیا مجھے راستے کا پتہ ہے؟ اگر گاڑی خراب ہو جائے تو کیا ہو گا؟’
یونیورسٹی آف کوپن ہیگن کی سٹائن لومبورگ انٹرنیٹ کے سماجی پہلو کی اہمیت سے اتفاق کرتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے: ‘انٹرنیٹ تک ایک دن کے لیے رسائی بند ہو جائے تو دنیا تباہ و برباد نہیں ہو جائے گی، لیکن بہت سے لوگوں کے لیے انٹرنیٹ کے بغیر ایک دن گزارنے کا خیال بڑا خوفناک ہو گا۔’
Urdu Khabrain
Monday, 18 December 2017
انٹرنیٹ ایک دن کے لیے کٹ جائِے تو؟
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟
https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...
-
https://goo.gl/jsbpLD لاہور ( نیوز ڈیسک) فلم پرچی کی مرکزی کاسٹ میں شامل حریم فاروق اور علی رحمان خان نے ٹرک اڈے پر فوٹو شوٹ کرایا جس کی تصا...
-
https://is.gd/3wsREo یہ جینز 1893ء میں ایک اسٹور کے مالک نے خریدی تھیں۔ فوٹو : گلف نیوز واشنگٹن: امریکا میں 125 سال پرانی جینز کی دو پتلونیں...
-
https://is.gd/Jbk441 دلہن کے والد نے جہیز کی بقیہ رقم کا فوری مطالبہ کیا جس پر دلہا غصے میں آگیا۔ فوٹو: انٹرنیٹ متحدہ عرب امارات کے ایک شہری...
No comments:
Post a Comment