Thursday, 21 December 2017

اب ہاردک پٹیل کا کیا ہوگا؟

https://goo.gl/tzMeoL
ہاردک پٹیل انتخابات سے پہلے ایک بہت بڑے رہنما نظر آ رہے تھے: سینیئر صحافی سنجیو شری واستو
چوبیس سالہ ہاردک پٹیل نے بغیر انتخابات میں حصہ لیے ہی گجرات میں ایسا تاثر پیدا کیا کہ میڈیا ہی نہیں بلکہ وزیر اعظم نریند مودی کے لیے بھی انہیں نظر انداز کرنا مشکل ہو گیا۔

دراصل ان انتخابات میں ہاردک پٹیل کی احتجاجی کمیٹی نے کانگریس کا ساتھ دیا۔ دونوں کے درمیان شرط یہ تھی کہ کانگریس جیتنے کے بعد پسماندہ طبقے کو مخصوص کوٹا دے گی۔ لیکن اب جب نتیجے سے طے ہو چکا ہے کہ بی جے پی لگاتار چھٹی مرتبہ حکومت میں آ گئی ہے۔ تو ایسے میں ہاردک پٹیل کے لیے آگے کا راستہ کیا ہوگا؟

کانگریس کی ہار سے ہاردک کو فائدہ؟


سینیئر صحافی سنجیو شری واستو کا خیال ہے کہ اگر کانگریس جیت جاتی تو ہاردک پٹیل زیادہ بڑے رہنما بن کر سامنے آتے۔ سنجیو کہتے ہیں کہ ‘اب ہاردک کے سامنے چیلینج یہ ہے کہ اگر انہیں بڑا رہنما بننا ہے تو اکیلے چلنے کی پالیسی چھوڑنی پڑے گی اور کانگریس میں شامل ہونا پڑے گا۔ اور کانگریس میں شامل ہونے سے ان کا قد تھوڑا تو کم ہو گا۔ لیکن کانگریس اور ہاردک پٹیل مل کر ایک مضبوط جوڑی بنائیں گے‘۔

لیکن گجرات کے سینیئر صحافی آر کے مشرا کی رائے مختلف ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ‘کانگریس اگر جیت جاتی تو وہ ہاردک کے لیے کم فائدہ مند ہوتا۔ کانگریس اگر جیت جاتی تو ہاردک بھی ایک طرح سے حکومت میں آ جاتے۔ اور تب اگر کانگریس کوٹا دینے کا وعدہ پورا نہ کر پاتی تو پھر ان کا ساتھ ختم ہو جانے کے امکان زیادہ ہوتے۔ اب ان کی احتجاجی مہم کو بھی فرق نہیں پڑے گا کیوں کہ پہلے بھی تو وہ بی جے پی کے خلاف ہی لڑ رہے تھے۔ اور اب بی جے پی کی فتح کے بعد حالات دوبارہ وہیں ہیں جہاں پہلے تھے‘۔
کانگریس اگر جیت جاتی تو وہ ہاردک کے لیے کم فائدہ مند ہوتا: سینیئر صحافی آر کے مشرا
نو یگ اخبار کے ایڈیٹر اجے امٹھ کہتے ہیں کہ ان انتخابات میں کانگریس پارٹی میں ہاردک نے ہی جان ڈالی ہے۔ بی جے پی کے گجرات ماڈل کو بھی ہاردک نے ہی چیلنج کیا ہے۔ انہوں نے ہی گجرات کے ہیرے اور کپڑے کے تاجروں کا مسئلہ اٹھایا۔ ہاردک کی اپیل تھی کہ ’سرکار سنتی نہیں ہے، گھمنڈی ہے اور اس گھمنڈی حکومت کو اقتدار سے ہٹاؤ‘۔
بی بی سی گجراتی سروس کے ایڈیٹڑ انکر جین کے مطابق نریندر مودی کو آگے بھی ہاردک پٹیل سے سخت مقابلے کا سامنا ہوگا۔ اب وہ راجستھان، مہاراشٹر اور ہریانا بھی جائیں گے جہاں فسلوں کی قلیل ترین قیمت اور قرض کی معافی جیسے مسئلے موجود ہیں۔

نریندر مودی کو آگے بھی ہاردک پٹیل سے سخت مقابلے کا سامنا ہوگا: بی بی سی گجراتی سروس کے ایڈیٹڑ انکر جین
سنجیو شری واستو کہتے ہیں کہ ‘ہاردک پٹیل انتخابات سے پہلے ایک بہت بڑے رہنما نظر آ رہے تھے۔ لیکن اب کانگریس کی ہار کے بعد کچھ دنوں تک ان کا قد عام لوگوں جیسا رہے گا۔ انتخابات کے دوران دکھائی دینے والا جوش اگلے پانچ سال تک برقرار رکھنا مشکل کام ہوگا۔ انکر جین کہتے ہیں کہ ہاردک کے لیے آگے کا راستہ آسان نہیں ہوگا۔ ایک بار پھر بی جے پی اقتدار میں ہے اور ہاردک پر کئی مقدمے ابھی چل رہے ہیں۔ اس کا اثر بھی پڑ سکتا ہے۔

جہاں تک ہاردک کی سیاست کرنے کی بات ہے تو اب تک کسی بھی پارٹی میں شامل نا ہو کر انہوں نے اپنے لیے راستے کھلے رکھے ہیں۔
Urdu Khabrain
Hot India News, India Pakistan News, India Urdu News, Latest India News, Online India News

No comments:

Post a Comment

ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟

https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...