https://urdukhabrain.pk/2018/02/01/urdu-news-16143
انرجی ریفارمز رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال 2025ءتک پاکستان کی بجلی کی طلب 44 ہزار میگاواٹ تک بڑھ جائے گی۔
قومی معیشت کی 5.2 فیصد کی سالانہ شرح نمو کے نتیجہ میں 2025ءتک پاکستان کی بجلی کی طلب 44 ہزار میگاواٹ تک بڑھ جائے گی اور اگر قومی معیشت سالانہ 6.5 فیصد کی شرح سے ترقی کرتی ہے تو سال 2030ءتک ملک کی بجلی کی طلب 60 ہزار میگاواٹ تک پہنچ جائے گی۔
اوورسیز انویسٹمنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کی ”انرجی ریفارمز 2017ئ“ کی رپورٹ کے مطابق آئندہ 10 سال کے دوران ملک میں توانائی کی طلب 70 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔
او آئی سی سی آئی کے صدر خالد منصور نے کہا ہے کہ قومی معیشت کی ترقی کے تناظر میں توانائی کے شعبہ پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ملک کی توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کی تکمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیاں قومی خزانے کو سالانہ 500 ارب روپے کے ٹیکسز ادا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار میں اضافہ، انرجی مکس، متبادل ذرائع سے توانائی کی پیداوار اور بجلی کی ترسیل کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے جامع حکمت عملی کے تحت اقدامات کی ضرورت ہے۔
Urdu Khabrain
Business Khabrain, Business News, Business Urdu News, Pakistan Business News, Pakistani News, Top Business News, Urdu Khabrain, Urdu News, Viral Business News, بزنس
Wednesday, 31 January 2018
سال2025 تک پاکستان کی بجلی کی طلب مزید بڑھے گی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟
https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...
-
https://goo.gl/jsbpLD لاہور ( نیوز ڈیسک) فلم پرچی کی مرکزی کاسٹ میں شامل حریم فاروق اور علی رحمان خان نے ٹرک اڈے پر فوٹو شوٹ کرایا جس کی تصا...
-
https://is.gd/3wsREo یہ جینز 1893ء میں ایک اسٹور کے مالک نے خریدی تھیں۔ فوٹو : گلف نیوز واشنگٹن: امریکا میں 125 سال پرانی جینز کی دو پتلونیں...
-
https://is.gd/Jbk441 دلہن کے والد نے جہیز کی بقیہ رقم کا فوری مطالبہ کیا جس پر دلہا غصے میں آگیا۔ فوٹو: انٹرنیٹ متحدہ عرب امارات کے ایک شہری...
No comments:
Post a Comment