https://goo.gl/ScAfx2
لندن(نیوز ڈیسک)بہت سے لوگ بال گرنے کی وجہ سے پریشان رہتے ہیں. اگرچہ روزانہ 50سے 100بال گرنا معمول کی بات ہے لیکن زیادہ بال گرنے سے لوگ خاصے پریشان ہو جاتے ہیں۔ گنجا پن شکل میں ناخوشگوار تبدیلی پیدا کر دیتا ہے جس سے متاثرہ شخص کے اعتماد میں بھی کمی واقع ہو جاتی ہے۔ یوں تو بالوں کو گرنےسے بچانے کے کئی طریقے ہیں
جو بالوں کو گرنے سے تو وقتی طور پر روک دیتے ہیں لیکن ان کے بالوں پر مضر اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔ آج ہم آپ کو پیاز کی اس خصوصیت سے آگاہ کرنے جا رہے ہیں جو نہ صرف آپ کے بالوں کو گرنے سے روکتی ہے بلکہ گرے ہوئے بال واپس لانے میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے اور اس کا کوئی مضرصحت پہلو بھی نہیں۔ آپ پیاز کا جوس نکال کر اسے سرپر لگا سکتے ہیں یا پھر اسے دیگر جڑی بوٹیوں میں ملا کربھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔پیاز میں سلفر وافر مقدار میں پایا جاتا ہے جو کھوپڑی پر لگانے سے دوران خون کو بہتر بناتا ہے اور اس سے ”کولجین ٹشوز“کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوتا ہے جو بالوں کی نشوونما میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔آپ جوسرمشین کے ذریعے پیاز کا جوس نکال سکتے ہیں یا پھر 4سے 5کاٹے ہوئے پیاز پانی میں 10منٹ تک ابال کر پانی کو ٹھنڈا کر کے چھان لیں اور بالوں میں شیمپو کرنے کے بعد استعمال کریں۔ اگر آپ پیاز کی بو برداشت کر سکتے ہیں تو سارا دن بھی یہ جوس سر پر لگارہنے دیں لیکن اگر آپ کو اس سے پریشانی ہوتی ہے تو ایک گھنٹے بعد صاف پانی سے سرکو دھولیں۔
Urdu Khabrain
Thursday, 18 January 2018
اُف ایسا باکمال نسخہ ۔۔پیاز کا رَس سر پہ لگائیں اور پھر کمال دیکھیں
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟
https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...
-
https://goo.gl/jsbpLD لاہور ( نیوز ڈیسک) فلم پرچی کی مرکزی کاسٹ میں شامل حریم فاروق اور علی رحمان خان نے ٹرک اڈے پر فوٹو شوٹ کرایا جس کی تصا...
-
https://is.gd/3wsREo یہ جینز 1893ء میں ایک اسٹور کے مالک نے خریدی تھیں۔ فوٹو : گلف نیوز واشنگٹن: امریکا میں 125 سال پرانی جینز کی دو پتلونیں...
-
https://is.gd/Jbk441 دلہن کے والد نے جہیز کی بقیہ رقم کا فوری مطالبہ کیا جس پر دلہا غصے میں آگیا۔ فوٹو: انٹرنیٹ متحدہ عرب امارات کے ایک شہری...
No comments:
Post a Comment