Wednesday, 24 January 2018

فیس بک کا اپنی نیوز فیڈ میں بڑی تبدیلی کا منصوبہ

https://goo.gl/RyCp1f

فیس بک اپنی نیوز فیڈ میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے کاروبار، برانڈز اور میڈیا سے متعلق خبروں اور پوسٹس کو نسبتاً کم اہمیت دینے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کا کہنا ہے کہ وہ ان چیزوں کی نسبت خاندانوں اور دوستوں کے درمیان گفتگو کا سبب بنے والے مواد پر زیادہ زور دیں گے۔


فیس بک نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ شاید اس تبدیلی سے ان کی پوسٹس کی مقبولیت میں کمی آئے گی۔ یہ نئی تبدیلی آئندہ چند ہفتوں میں اثر انداز ہونا شروع ہو جائے گی۔ مارک زکربرگ کا کہنا تھا ’ہمیں لوگوں سے یہ آرا ملی ہیں کہ کاروبار، برانڈز اور میڈیا سے متعلق بہت زیادہ پوسٹس کی وجہ سے لوگوں کی ذاتی زندگی کے ایسے لمحات کھو جاتے ہیں جو ہمارے ایک دوسرے سے زیادہ رابطوں کا باعث بن سکتے ہیں۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ اور ان کی ٹیم نے ذمہ داری محسوس کی کہ ہم یقینی بنائیں کہ فیس بک لوگوں کے مفاد کے لیے ہو۔ اگر کوئی عوامی مواد پروموٹ کیا گیا تو وہ ایسا ہو گا جو لوگوں کے آپس میں رابطے کی حوصلہ افزائی کرے گا۔


مارک زکربرگ کا کہنا تھا کہ ’یہ تبدیلیاں کرکے مجھے ایسا لگتا ہے کہ فیس بک کے ساتھ لوگوں کی مصروفیت کم ہوں گی، لیکن مجھے توقع ہے کہ لوگ فیس بک کے ساتھ قابلِ قدر وقت گزاریں گے۔‘ ایک سابقہ پوسٹ میں مارک زکربرگ نے کہا تھا کہ وہ سنہ 2018 میں فیس بک کو ٹھیک کریں گے کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ لوگ فیس بک پر استحصال سے بچیں اور اس سائٹ پر گزارا جانے والا وقت اچھا گزرے۔ انھوں نے وعدہ کیا کہ وہ فیس بک کو قومی ریاستوں سے بھی محفوظ بنائیں گے۔


تجزیہ کاروں کے مطابق حال ہی میں روس سمیت کئی ممالک نے سماجی رابطے کی سائٹس پر ساز باز کی۔ ہارورڈ یونیورسٹی میں نائمین جرنلزم لیٹ کی ہیزرڈ اوون کا کہنا تھا کہ ’یہ یقیناً ایک بڑی تبدیلی ہے۔ اس سے پبلیشرز پر کافی اثر پڑے گا۔ اب ہماری نیوز فیڈ پر خبروں سے متعلق مواد کم دکھائی دے گا۔‘
Urdu Khabrain
Pakistan Sci-Tech News, Pakistani News, Sci-Tech Khabrain, Sci-Tech News, Sci-Tech Urdu News, Urdu Khabrain, Urdu News, Viral Sci-Tech News, سائنس و ٹیکنالوجی

No comments:

Post a Comment

ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟

https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...