https://goo.gl/PmR8co
آج کل کے دور میں مختلف اشیا کو پھینکنے کے بجائے اسے دوبارہ قابل استعمال بنانے یعنی ری سائیکلنگ کا رجحان بڑھ رہا ہے تاکہ پھینکے جانے والے کچرے میں کمی کی جاسکے۔
تاہم ایک فنکار نے ری سائیکلنگ کی نئی مثال قائم کرتے ہوئے نہایت خوبصورت فن پارے تخلیق کر ڈالے۔
برطانیہ سے تعلق رکھنے والی آرٹسٹ جولی ایلس نے کمپیوٹر، سرکٹ بورڈز اور بجلی کے مختلف ناکارہ پرزوں کو خوبصورت رنگین تتلیوں میں تبدیل کردیا۔

وہ بتاتی ہیں کہ جب پہلی بار انہیں اس قسم کے پرزے نظر آئے تو ان کے ذہن میں خودبخود یہ پرزے ٹانگوں اور پروں کے ساتھ مختلف کیڑوں میں تبدیل ہوگئے۔ انہوں نے سب سے پہلے ان پرزوں سے چیونٹیاں بنائیں۔
بعد ازاں ایلس نے فائن آرٹس ڈگری پروگرام میں داخلہ لیا۔ اسی دوران ان کی ملاقات کچھ تخلیق کاروں سے ہوئی جو پرانے کمپیوٹرز کو روبوٹ کی شکل میں ڈھالنے پر کام کر رہے تھے۔
وہاں ایلس کا بنایا ہوا ایک پروجیکٹ مسترد کردیا گیا جس کے بعد وہ اپنا سامان اٹھا کر گھر لے آئی اور خود ہی اپنی تخلیقات بنانی شروع کردیں۔
ایلس کا کہنا ہے کہ ان کے یہ ننھے منے فن پارے دنیا کو ری سائیکلنگ کی طرف متوجہ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں کہ کس طرح ٹیکنالوجی کے کچرے کو کم سے کم کر کے انہیں کارآمد بنایا جائے۔
Urdu Khabrain
LifeStyle Khabrain, LifeStyle News, LifeStyle Urdu News, Pakistan LifeStyle News, Pakistani News, Urdu Khabrain, Urdu News, Viral LifeStyle News, بن, تتلیاں, رنگین, لائف-اسٹائل, ناکارہ, پرزے, کمپیوٹر, کے, گئیں
Wednesday, 31 January 2018
کمپیوٹر کے ناکارہ پرزے رنگین تتلیاں بن گئیں
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟
https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...
-
https://goo.gl/jsbpLD لاہور ( نیوز ڈیسک) فلم پرچی کی مرکزی کاسٹ میں شامل حریم فاروق اور علی رحمان خان نے ٹرک اڈے پر فوٹو شوٹ کرایا جس کی تصا...
-
https://is.gd/3wsREo یہ جینز 1893ء میں ایک اسٹور کے مالک نے خریدی تھیں۔ فوٹو : گلف نیوز واشنگٹن: امریکا میں 125 سال پرانی جینز کی دو پتلونیں...
-
https://is.gd/Jbk441 دلہن کے والد نے جہیز کی بقیہ رقم کا فوری مطالبہ کیا جس پر دلہا غصے میں آگیا۔ فوٹو: انٹرنیٹ متحدہ عرب امارات کے ایک شہری...
No comments:
Post a Comment