Saturday, 20 January 2018

آج کل کی لڑکیاں گھروں میں بیٹھنا کیوں نہیں پسند کرتیں ؟

https://goo.gl/psrtmH
ہم اپنے گھروں میں ایسا ماحول پیدا کر دیتے ہیں کہ جس میں بچوں اور خاص طور پر لڑکیوں کو یقین ہوتا ہے کہ ان کی جائز خواہشات کہ جن کا حق انہیں مذہب نے اور قانون نے دیا ہے وہ کبھی پوری نہیں ہوں گی. اب یہ خواہشات شادی بیاہ سے متعلق بھی ہو سکتی ہیں اور کرئیر کے انتخاب سے متعلق بھی.

اس کی ایک دوسری شکل بھی ہے ہم اپنے بچوں اور خاص طور پر لڑکیوں پر اپنے ایسے فیصلے مسلط کرتے ہیں..جو ہماری اور معاشرے کی نظر میں درست ضرور ہوں مگر وہ مذہب کی نظر میں بھی غلط ہوتے ہیں اور قانون کی نظر میں بھی.اس کو بھی ایک مثال سے واضح کیا جا سکتا ہے. فرض کریں میں ایک والد ہوں اور اپنی بیٹی کی شادی چودہ یاپندرہ سال کی عمر میں کرنا چاہتا ہوں. اب میری نظر میں یہ فیصلہ بے شک ایک درست فیصلہ ہو کیونکہ میں بروقت اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہو جاؤں گا مگر یہ فیصلہ قانون کی نظر میں ایک جرم ہے اب اس صورت حال میں میں نے اپنی بیٹی لئے کیا آپشن چھوڑا ہے.

یہ کہ وہ میرے جرم پر قربان ہو کر اپنی ساری زندگی برباد کر دے یا پھر کسی طرح بھاگ کر اپنی جان بچانے کی اپنی سی کوشش کر دیکھے. ابھی بھی ہمارا معاشرہ اس قسم کا ہے کہ سو میں سے ننانوے بیٹیاں اپنے والدین کی ناجائز اور غیرقانونی خواہشات کی بھینٹ چڑھ کر اپنی ساری زندگی سسک سسک کر گزارنے پر راضی ہو جاتی ہیں…مگر کوئی ایک ان ناجائز اور غیرقانونی خواہشات پر قربان ہونے کی بجائے اپنے جائز اور قانونی حق کے تحفظ کے لئے گھر سے نکل جاتی ہے تو ہم اسے گھر سے بھاگنے والی غلیظ اور بد کردار لڑکی قرار دے کر میڈیا کو کوسنے دینا شروع ہو جاتے ہیں کہ میڈیا نے اسے یہ راہ دکھائی مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ اسے یہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہم نے کیا.ہم سب اپنی زندگیوں میں بہت سے فیصلے کرتے ہیں.
Urdu Khabrain

No comments:

Post a Comment

ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟

https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...