https://goo.gl/3ZUXSB
کراچی (نیوز ڈیسک ) سابق پاکستانی فاسٹ بائولر شعیب اختر کا کہنا ہے کہ پاک بھارت سیریز کے درمیان سیاست ہی سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور آپس کے میچز نہ ہونے کا الزام پاکستان اور بھارت کے کرکٹ بورڈز کو نہیں دیا جا سکتا،پی سی بی یا بی سی سی آئی حکام موجودہ حالات کے قطعی ذمہ دار نہیں کیونکہ دونوں ہی باہمی کرکٹ سیریز کے انعقاد کی خواہش رکھتے ہیں،پڑوسی ممالک کے درمیان میچز سے ان کا تمام تر مفاد بھی وابستہ ہے ،عام طور
پر سب یہی کہتے ہیں کہ کھیلوں کو سیاست سے الگ رکھنا چاہئے مگر بدقسمتی سے اس معاملے کا فیصلہ ڈپلومیٹک لیول پر کیا جاتا ہے ،موجودہ کھلاڑیوں کو بھی روایتی رقابت کا تجربہ ہونا چاہئے ۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کے سابق فاسٹ بالر شعیب اختر نے بھی پاک بھارت مقابلوں کے انعقاد کیلئے آواز بلند کردی ہے جن کا کہنا ہے کہ شائقین کرکٹ سرحدوں کے دونوں اطراف موجود کھیلوں کی تاریخی رقابت کو حالیہ برسوں کے دوران دیکھنے سے محض اس وجہ سے محروم رہے کہ سیاسی معاملات راہ کی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔دو ہزار آٹھ میں ممبئی میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے سبب دونوں ممالک کے درمیان دو ہزار سات کے بعد کوئی ٹیسٹ سیریز نہیں ہو سکی ہے اور گزشتہ برسوں کے دوران محض ایک مرتبہ دو ہزار بارہ میں پاکستانی ٹیم نے بھارت جا کر مختصر فارمیٹ کی باہمی سیریز کھیلی تھی اور موجودہ کشیدہ سیاسی حالات کے پیش نظر کوئی امکان نہیں کہ دونوں ممالک ایک مرتبہ پھر میدان میں آمنے سامنے آ سکتے ہیں۔ اس حوالے سے بات چیت میں شعیب اختر کا کہنا تھا کہ اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہوگی کہ سرحد کے دونوں طرف موجود کرکٹرز کو دونوں ممالک کی روایتی رقابت کا کوئی تجربہ ہی نہیں ہے حالانکہ انگلینڈ اور
آسٹریلیا کے درمیان ایشز سیریز کی طرح ان مقابلوں کی بھی دنیا میں اپنی ایک علیحدہ اہمیت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے موجودہ کھلاڑیوں کے پاس یہ موقع نہیں ہے کہ وہ باہمی مقابلوں میں بہترین کارکردگی دکھا کر راتوں رات ہیرو بن سکیں اور اسی وجہ سے ان کی شدت کے ساتھ یہ خواہش ہے کہ دونوں ممالک کے کھلاڑیوں کو یہ تجربہ ملنا چاہئے کہ
پاکستان اور بھارت کے درمیان میچز کس طرح اور مقابلے کے کس رجحان کے ساتھ کھیلے جاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وہ خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں کہ انہوں نے بھارت کیخلاف باہمی سیریز کھیلیں اور بہترین تجربہ حاصل کرنے کے ساتھ ہی وہ شہرت بھی سمیٹی جو کہ کسی اور ملک کیخلاف کھیلتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی تھی۔ راولپنڈی ایکسپریس کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان میچز ہونا لازمی ہیں لیکن ان کے انعقاد کی راہ میں سیاسی رکاوٹیں حائل ہیں لہٰذا اب بیانات کو ایک جانب رکھتے ہوئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔شعیب اختر نے کسی بھی فریق کو اس سلسلے میں مورد الزام ٹھہرائے بغیر کہا کہ دونوں ملکوں کے بڑے مل بیٹھ کر ڈپلومیٹک لیول پر مذاکرات کریں تو یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے کیونکہ انہیں اس بات کا پورا یقین ہے کہ باہمی سیریز کا انعقاد اس وقت تک ممکن نہیں جب تک باہمی طور پر اس بارے میں بات چیت نہیں کی جاتی حالانکہ موجودہ حالات میں اس بات کی بھی کوئی ضمانت نہیں کہ کرکٹ ڈپلومیسی کامیاب بھی ہو سکتی ہے یا نہیں کیونکہ ماحول ماضی کے مقابلے میں کافی کشیدہ ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ عام طور پر یہی کہتے ہیں کہ کھیلوں کو سیاست سے الگ رکھنا چاہئے لیکن بدقسمتی سے اس بارے میں تمام تر فیصلے سیاسی سطح پر کئے جاتے ہیں جو درست نہیں ہے ۔شعیب اختر نے واضح کیا کہ موجودہ حالات کی ذمہ داری دونوں ملکوں کے کرکٹ بورڈز پر نہیں ڈالی جا سکتی جن کی کوئی غلطی نہیں ہے کیونکہ پی سی بی اور بی سی سی آئی حکام سیریز کا انعقاد چاہتے ہیں جن کا مفاد بھی سیریز ہونے سے ہی وابستہ ہے ۔
Urdu Khabrain
Tuesday, 30 January 2018
پاک بھارت سیریز بارے شعیب اختر نے ایسی بات کہہ دی کہ مداحوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟
https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...
-
https://goo.gl/jsbpLD لاہور ( نیوز ڈیسک) فلم پرچی کی مرکزی کاسٹ میں شامل حریم فاروق اور علی رحمان خان نے ٹرک اڈے پر فوٹو شوٹ کرایا جس کی تصا...
-
https://is.gd/3wsREo یہ جینز 1893ء میں ایک اسٹور کے مالک نے خریدی تھیں۔ فوٹو : گلف نیوز واشنگٹن: امریکا میں 125 سال پرانی جینز کی دو پتلونیں...
-
https://is.gd/Jbk441 دلہن کے والد نے جہیز کی بقیہ رقم کا فوری مطالبہ کیا جس پر دلہا غصے میں آگیا۔ فوٹو: انٹرنیٹ متحدہ عرب امارات کے ایک شہری...
No comments:
Post a Comment