https://goo.gl/XhV5qc
ریاض : سعودی عرب میں خواتین کو مٹھائی کی دکان پر کام کرنے کی مشروط اجازت دے دی گئی ہے جس کے لیے مالکان کو خواتین کو خصوصی سہولیات فراہم کرنا ہوگی.
اس با ت کا اعلان وزارت محنت و سماجی بہبود کے ترجمان خالد ابا الخیل کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ اگر مٹھائی کی دکان کے مالکان خواتین کے لیے نماز کی علیحدہ جگہ، رفع حاجت کے لیے خصوصی واش روم اور آرام کے لیے جگہ مختص کرتے ہیں تو وہ اپنی دکان میں خواتین کو ملازمتیں دے سکتے ہیں.
وزارت محنت و سماجی بہبود کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق کہ اگر بیکری مالکان مقررہ شرائط و ضوابط کی پابندی کرے تو ایسی صورت حال میں سعودی خواتین کو ملازمت دی جاتی ہے جس پر وزارت کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا.
اس موقع پر ترجمان وزارت محنت و سماجی بہبود خالد اباخیل نے وضاحت کی کہ خواتین ملازمین کو رات کے آخری پہر میں ڈیوٹی نہیں دی جاسکتی اور کسی دکان میں اس شرط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پایا گیا تو دکان کو سر بہ مہر کردیا جائے گا.
خیال رہے کہ سعودی عرب ولی عہد شاہ محمد بن سلمان کے وژن 2030 کے تحت ملک کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے انقلابی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور خواتین کو روایت سے ہٹ کر خصوصی اختیارات اور آزادی دی جارہی ہے۔
Urdu Khabrain
Pakistan Women News, Pakistani News, Urdu Khabrain, Urdu News, Viral Women News, Women Khabrain, Women News, Women Urdu News, اجازت, خواتین, دکان, سعودی, عرب, مشروط, مٹھائی, میں, پر, کام, کرنے, کو, کی
Friday, 9 February 2018
سعودی عرب میں خواتین کو مٹھائی کی دکان پر کام کرنے کی مشروط اجازت
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟
https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...
-
https://goo.gl/jsbpLD لاہور ( نیوز ڈیسک) فلم پرچی کی مرکزی کاسٹ میں شامل حریم فاروق اور علی رحمان خان نے ٹرک اڈے پر فوٹو شوٹ کرایا جس کی تصا...
-
https://is.gd/3wsREo یہ جینز 1893ء میں ایک اسٹور کے مالک نے خریدی تھیں۔ فوٹو : گلف نیوز واشنگٹن: امریکا میں 125 سال پرانی جینز کی دو پتلونیں...
-
https://is.gd/Jbk441 دلہن کے والد نے جہیز کی بقیہ رقم کا فوری مطالبہ کیا جس پر دلہا غصے میں آگیا۔ فوٹو: انٹرنیٹ متحدہ عرب امارات کے ایک شہری...
No comments:
Post a Comment