https://goo.gl/3cqqoG
دارا اپنے گھوڑے ’’فلک شیر ‘‘پر سوار باغ مرزا کامراں پر آیا جو قندھار کے قلعے سے تھوڑے فاصلے پر تھا۔سواری کے چاروں طرف زرد کمبلوں میں لپٹے ہوئے یوگی اور سنتھ کفنیاں پہنے ،صوفی اور درویش عجیب عجیب صورتیں بنائے ہوئے ساحر اور عامل چل رہے تھے۔یہ وہ لوگ تھے جو اپنی مافوق الفطرت طاقتوں کے بل پر فتح قندھار کی بشارت دے رہے تھے ۔
دارا باغ کامراں کی فصیل کے نیچے کھڑی ہوئی تو پوں کا معائنہ کر رہا تھا۔سامنے ’’فتح مبارک ‘‘ نامی توپ کھڑی تھی جو پینتالیس سیر کا گولہ پھینکتی تھی ۔اس کی نال پر کندہ تھا۔
توپ دارا شکوہ شاہ جہاں
می کند قندھارا را ویراں
تھوڑی دور پر ’’کشور کشا‘‘تھی جو بتیس سیر کا وزنی گولہ مارتی تھی۔اس کے بعد توپ خانہ شاہی کی وہ مشہور عالم توپ تھی جس کا نام ‘‘گڑھ بھنجن ‘‘تھا اور جس میں چھپن سیر کا گولہ چلتا تھا۔ان توپوں کے علاوہ اور بہت سی چھوٹی بڑی توپیں فولادی ہاتھیوں کی طرح اِدھراُدھر کھڑی تھیں ۔ان کا عملہ اور خچروں کا انبوہ حدِ نگاہ تک پھیلا ہوا تھا۔
تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... قسط نمبر 11 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
دارا ان کے ملاحظے کے کے بعد لشکر کی طرف چلا۔قندھار کے مشرق میں شمال سے جنوب تک پھیلا ہوا بے کراں میدان خودوں ،بکتروں ،جھنڈوں ،گھوڑوں اور ہاتھیوں سے بھرا ہوا تھا۔سالارانِ لشکر دارا کی پیشوائی کو بڑھے جس کی سواری کے گرد محافظ دستوں کے سجیلے سواروں کے بجائے سادھوؤں اور درویشوں ،عالموں اور ساحروں کا ہجوم تھا۔
دارا ان کے حلقے سے نکلا ۔امراء کے سلام لئے اور گھوڑے پر چڑ ھتے ہی حکم سنایا۔
’’دروازہ بابا ولی کی تباہی مہابت خاں کے سپرد ہوئی ۔‘‘
سواری کے پاس کھڑے ہوئے مہابت خاں نے شکرانے میں کورنش ادا کی ۔
’’دروازہ ویس قرن کی بربادی پر قلیچ خاں مامور ہوئے ۔‘‘
قلیچ خاں نے شکر گزاری میں سر جھکایا۔
’’دروازہ ویس قرن اور خواجہ خضر کے مابین کا علاقہ جعفر میر آتش کو تفویص ہوا۔‘‘
نوجوان اور نا آزمودہ کار جعفر کو یہ اعزاز ملتے ہی بوڑھے امیروں اور سپہ سالاروں کی پیشانیوں پر شکن پڑگئی اور کنکھیاں مشورے کرنے لگیں ۔
’’اور دروازہ خواجہ خضر پر میر بخشی عبداللہ کا تقرر کیا گیا۔‘‘
عبد اللہ کم رُتبہ شخص تھا اور ولی عہد کا ذاتی میر ذاتی میر بخشی تھا۔اس کے نام لکھی گئی یہ عزت افزائی افواج شاہی کے نامی گرامی سرداروں اور جلیل المرتبت منصب داروں کی بے عزتی پر محمول کی گئی ۔
’’حضری دروازے اور شوری دروازے کے درمیان قاسم خاں میر آتش افواجِ شاہی مقرر کیا گیا۔‘‘
’’اور خاص شوری دروازہ مرزا راجہ جے سنگھ کے نام لکھا گیا۔‘‘
’’لاکاہ کامور چہ چمپت رائے بندیلہ اور باقی خاں کو عطاہوا ۔‘‘
’’اور اخلاص خاں کو برج چہل زینہ پر مامور کیا گیا اور خانِ کلاں نجابت خاں دوسرے حکم کا انتظار کریں ۔‘‘
جوگیوں اور ساحروں کے ہجوم میں گھوڑ ے پر سوار دارا اس کی تاریخ ساز محاصرے کے لئے فیصلہ کن احکام صادر کر رہا تھا ۔ لیکن معلوم ہوتا تھا جیسے وہ قہار لشکر کے امیروں کو حکم نہیں دے رہا ہے بلکہ سرمد کی خانقاہ میں مسند پر کھڑا ہوا وجودیت کے موضوع پر خطبہ دے رہا ہے اور حاضرین دم بخود بیٹھے ہیں ۔گھوڑوں کے مہمیز سواروں کے نیام اور ہاتھیوں کی سونڈ وں میں لپٹی ہوئی زنجیریں کھنک اٹھتیں تو معلوم ہوتا جیسے سننے والے نے پورے ادب اور احترام کے ساتھ کسی نازک نکتے پر داد دی ہو۔اس کے دماغ میں ایک ہلچل مچی ہوئی تھی۔رگ دید کی عبارت ،اپنشدوں کے ترجمے ،جوگیوں کے بچن اور ساحروں کے قول سب ایک دوسرے سے گڈ مڈ ہوگئے تھے ۔جب وہ ان جھمیلوں سے دامن جھٹک کر نگاہ اٹھاتا تو سامنے چتوڑ کا قلعہ نظر آتا جس کے برجوں پر سعداللہ خانی پرچم اڑ رہے تھے۔وہ جھنجھلا کردوسری سمت نگاہ کرتا تو ’’اورنگ زیب ‘‘ کے چرب زبان امیروں کو ظلِ سبحانی کے حضور میں کھڑا ہوا دیکھتا۔وہ یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا لیکن یہ ملاحظہ کرنے سے قاصر تھا کہ جعفر اور عبداللہ کو بخشی ہوئی زرّیں خدمتیں مغل اقبال کے محافظ سرداروں کے چہروں پر رینگتے ہوئے بچھوؤں کی طرح نمودار ہوچکی تھی۔تھوڑے وقفے کے بعد حاضرین نے سنا کہ شاہزادے کے’’میر سامان ‘‘ ملا فاضل کو خندقیں اور دمدمے بنانے کا حکم دیا گیا اور رستم خاں بہادر فیروز جنگ کو فرمان ملا کہ بسنت کی سڑک کی حفاظت کرے ۔پھر امیروں نے دیکھا کہ شاہزادہ اپنے مقربین کے جلومیں باغ کامراں کے پھاٹک چل دیا۔
دیکھتے ہی دیکھتے میلوں میں پھیلے ہوئے قلعہ قندھار کے پہاڑوں کی طرح کھڑی ہوئی تین طرف کی فصلیں مغل لشکر کے حلقے میں آگئیں ۔سارا دن مور چالوں کے بنانے ،سرنگیں کھودنے اور مدد قائم کرنے میں صرف ہوگیا۔دارا اپنی سفید بارگاہ کی سرخ مسند پر بیٹھا ظلِ سبحانی اور بادشاہ بیگم کو خطوط لکھتا رہا۔عبارتیں سنتا اور ترجمے کرتا رہا اور نا آزمودہ کار سلیماں شکوہ دس ہزار فوج کو رکاب میں لئے محاصرے کے انتظامات کی نگرانی کرتا رہا۔
ضرور پڑھیں:سینیٹ الیکشن ، ن لیگ نےوفاق اور پنجاب ،پیپلز پارٹی نے سندھ ،تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا میں میدان مار لیا ،بلوچستان اور فاٹا میں آزاد امیدوار فاتح قرار
یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں
پھر حملہ ہوا ۔حملے ہوئے ۔ہزاروں من گولے ،سینکڑوں من بارود صرف ہوگئی ۔ان گنت تفنگوں اور لاتعداد کمانوں کی گولیوں اور تیروں کے قلعے پر بارش کر دی گئی ۔لیکن وہ چٹان کی طرح قائم رہا۔دشمن کے لوگوں ،پتھروں ،بارود کے صندوقوں اور کھولتے ہوئے تیل کی دھاروں کے ساون بھادوں برستے رہے اور کھلے آسمان کے نیچے ہزاروں سپاہی کھیت رہے ۔پہاڑ کی سی دیواروں کی حفاظت میں کھڑا دشمن کا محفوظ توپ خانہ برابر کی چوٹیں کرتا رہا۔دن رات چلتے ہوئے قندھاری کا رخانے آتش خانوں کے نقصان کی تلافی کرتے رہے ۔ایک سپہ سالار اگر جان پر کھیل کر یلغارکرتا تو دوسرا اس خوف سے فتح کا سہرا رقیب کے سر نہ بندھ جائے اسے ناکام کردینے کے منصوبے بناتا اور کامیاب ہوتا۔
(جاری ہے )
Urdu Khabrain
Monday, 5 March 2018
تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... قسط نمبر 12
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟
https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...
-
https://goo.gl/jsbpLD لاہور ( نیوز ڈیسک) فلم پرچی کی مرکزی کاسٹ میں شامل حریم فاروق اور علی رحمان خان نے ٹرک اڈے پر فوٹو شوٹ کرایا جس کی تصا...
-
https://is.gd/3wsREo یہ جینز 1893ء میں ایک اسٹور کے مالک نے خریدی تھیں۔ فوٹو : گلف نیوز واشنگٹن: امریکا میں 125 سال پرانی جینز کی دو پتلونیں...
-
https://is.gd/Jbk441 دلہن کے والد نے جہیز کی بقیہ رقم کا فوری مطالبہ کیا جس پر دلہا غصے میں آگیا۔ فوٹو: انٹرنیٹ متحدہ عرب امارات کے ایک شہری...
No comments:
Post a Comment