https://goo.gl/QyogLV
چودہ سالہ اکمل نے دو انڈے اسپتال میں عملے کی موجودگی میں بھی دیئے ہیں جنہیں ملا کر وہ اب تک 20 انڈے دے چکا ہے۔ (فوٹو: اوڈیٹی سینٹرل)
جکارتہ: انڈونیشیا کے علاقے گووا ریجنسی سے 14 سالہ اکمل نامی ایک لڑکے نے نہ صرف ساری دنیا کو بلکہ ڈاکٹروں تک کو حیرت میں ڈال رکھا ہے کیونکہ یہ پچھلے چند سال کے دوران 20 انڈے دے چکا ہے۔
اکمل کے والد رُسلی کا کہنا ہے کہ اپنی عجیب و غریب حالت کی وجہ سے گزشتہ چند سال کے دوران اکمل کو متعدد بار اسپتال میں داخل کروایا جاچکا ہے لیکن ڈاکٹروں کو اب تک اس کی وجہ سمجھ میں نہیں آئی۔ حالیہ چند دنوں میں ایک بار پھر پیٹ میں تکلیف ہونے پر اکمل کو اسپتال میں داخل کروایا گیا جہاں اس نے طبی عملے کی موجودگی میں مزید دو انڈے دیئے۔
جب اسپتال میں اکمل کا ایکسرے لیا گیا تو معلوم ہوا کہ اس کے پیٹ کے نچلے حصے کے اندر ایک انڈا سالم حالت میں موجود ہے۔
اس کے باوجود، ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ انسان کےلیے انڈے دینا قطعی طور پر ناممکن ہے۔ انہوں نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ اکمل اور اس کے گھر والے مل کر ساری دنیا کو بے وقوف بنارہے ہیں اور وہ جلد ہی اس فراڈ کا پردہ فاش کردیں گے تاہم یوٹیوب پراس لڑکے کی ویڈیو کو لوگ حیرت سے دیکھ رہے ہیں۔
Urdu Khabrain
20, Interesting Khabrain, Interesting News, Interesting Urdu News, Pakistan Interesting News, Pakistani News, Urdu Khabrain, Urdu News, Viral Interesting News, World Interesting News, اب, اردو, انڈے, ایکسپریس, تک, دے, عجیب و غریب, لڑکا, چکا, ہے, یہ
Saturday, 3 March 2018
یہ لڑکا اب تک 20 انڈے دے چکا ہے! - ایکسپریس اردو
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟
https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...
-
https://goo.gl/jsbpLD لاہور ( نیوز ڈیسک) فلم پرچی کی مرکزی کاسٹ میں شامل حریم فاروق اور علی رحمان خان نے ٹرک اڈے پر فوٹو شوٹ کرایا جس کی تصا...
-
https://is.gd/3wsREo یہ جینز 1893ء میں ایک اسٹور کے مالک نے خریدی تھیں۔ فوٹو : گلف نیوز واشنگٹن: امریکا میں 125 سال پرانی جینز کی دو پتلونیں...
-
https://is.gd/Jbk441 دلہن کے والد نے جہیز کی بقیہ رقم کا فوری مطالبہ کیا جس پر دلہا غصے میں آگیا۔ فوٹو: انٹرنیٹ متحدہ عرب امارات کے ایک شہری...
No comments:
Post a Comment