https://goo.gl/tcQVmd
چالاک اور عیار اشرافیہ نے اس ملک کے عوام اور اس کے احساسات کو اس طرح روندا اور پامال کیا کہ وہ دوبارہ کوئی ایسی جرات نہ کرسکیں چنانچہ اس کے بعد پہلے تو عوام کو آہستہ آہستہ غیر ضروری اشیاء کے استعمال کا عادی بنایا گیا کہ اب ان کے بغیر نہ صرف زندگی گزارنا ممکن ہی نظر نہیں آتا، بلکہ یہ عوام کو ”××××ד کرنے کا نکتہ آغاز تھا، عوام نے
بھی بخوشی اس تبدیلی کو قبول کرلیا، نہ صرف قبول کرلیا بلکہ عیش و آرام کی زندگی کو اپنا حق سمجھنا شروع کردیا. اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ جدید سائنسی ایجادات کا فائدہ اٹھانا ہر کسی کا حق ہے لیکن اپنی چادر کو دیکھ کر پاؤں پھیلانا ہی دانشمندی ہے، ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی، گھر کو سامان تعیش سے بھرنے کی دوڑ نے آج ہر انسان کو تھکا دیا ہوا ہے، ہر وقت سانس پھولا رہتا ہے، زیادہ کمانے کی دھن اور محنت کی کمائی کو اللوں تللوں میں اڑانے کی روش نے ہمیں گھر کا رکھا نہ گھاٹ کا، کسی نے خود ساختہ مجبوریاں بنا رکھی ہیں تو کسی کو سچ مچ مجبوریوں نے بے کس و بے بس کررکھا ہے.غیر محسوس انداز میں عیاشیوں کو ضروریات بنانے کے بعد سرمایہ دارانہ نظام نے اپنے پر پرزے نکالنے شروع کئے اور دن رات مہنگائی کی جانے لگی تو بجائے اس کے کہ عوام کی جانب سے ان اشیاء کا بائیکاٹ کیا جاتا یا حکومت اور ان ملٹی نیشنل کمپنیوں کو قیمتیں کم کرنے کے لئے مجبور کیا جاتا اور اس مقصد کے لئے احتجاج کیا جاتا، جس کا جس جگہ ہاتھ پڑتا تھا، لوٹ مار شروع کردی گئی،سرکاری ملازمین نے رشوت ستانی کی انتہاء کردی، دکانداروں نے کم تولنے کی،
مل مالکان اور ٹریڈرز نے ذخیرہ اندوزی کی، مختصراً یہ کہ جس شعبے کو دیکھیں اس میں ایک ”شاندار“ تنزلی، بے حسی حتیٰ کہ بے غیرتی کا رواج پڑتا گیا. بات کہاں سے کہاں چلی گئی، شروع ہوئی تھی ”مردانہ کمزوری“ سے، تو کیا یہ ”مردانہ کمزوری“ نہیں کہ غریب آدمی اپنے بچے تو برائے فروخت کا بورڈ لگا کر بیچنے کو تیار ہوجاتا ہے لیکن مہنگائی کو
روکنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کو ہرگز تیار نہیں ہوتا، چند مخصوص لوگوں کو چھوڑ کر کوئی بندہ سڑکوں پر آکر اتنی شدید مہنگائی کے خلاف احتجاج کرنے اور حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لئے تیار نہیں. بجلی، پانی، گیس، پٹرول. ڈیزل، مٹی کے تیل سمیت ہر چیز کی قیمت آسمان کو چھو رہی ہے، اب تو اچھے بھلے ، کھاتے پیتے گھرانوں میں گوشت بکرا عید پر پکنے کی نوبت آگئی ہے، دال اورسبزی کی قیمتوں کو بھی ایسے پر لگ گئے ہیں کہ وہ بھی عام آدمی کی بس سے باہر ہوگئی ہیں، باقی ضروریات زندگی بھی ایسی رفتار سے بڑھ رہی ہیں کہ ان کی رفتار کا مقابلہ کرنا ممکن ہی نہیں لیکن پوری قوم کو ایسی بے حسی نے جکڑا ہوا ہے کہ سو جوتے بھی کھاتے ہیں اور سو پیاز بھی لیکن اف تک نہیں کرتے….!عوام تو ”مردانہ کمزوری“ کا شکار ہیں ہی لیکن انہی عوام کا دم بھرنے والے بڑے بڑے لیڈر سوائے ایک آدھ کو چھوڑ کر، بھی عوام سے زیادہ اس کا شکار ہیں. پارلیمنٹ میں بھی بیٹھے ہیں، اپوزیشن میں بھی ہیں لیکن کوئی اس مہنگائی پر نہیں بولتا، اگر بولتا ہے تو صرف اپنے ذاتی مفاد کے لئے، ایک افراتفری کا عالم ہے، ہر کوئی بھاگا پھرتا ہے لیکن صرف ذاتی فائدے کے
لئے، کسی کو اپنے بچوں کے اجتماعی مستقبل کی نہ کوئی فکر ہے نہ اندیشہ! عوام کو کیا لینا دینا سپریم کورٹ میں ججوں کے تقرر کے طریقہ کار سے، عوام کا کیا تعلق رہنے دیا گیا ہے جمہوریت سے یا آمریت سے، عوام کا کیا سروکار ہے بین الاقوامی سیاسی کھیلوں یا قومی سیاسی بازی گریوں سے، عوام کا تو مسئلہ ہی اور ہے، جو مہنگائی، کرپشن، اقرباء پروری، امن و امان سے تعلق رکھتا ہے لیکن عوام تو ”مخصوص“ کمزوری کا شکار ہے
Urdu Khabrain
Hot Khabrain, Interesting Khabrain, Interesting News, Interesting Urdu News, Pakistan Interesting News, Pakistani News, Urdu Khabrain, Urdu News, Viral Interesting Khabrain, Wired Khabrain, World Interesting News, انکشا, انہیں, بہترنینداتی, جوشادی, جوڑے, حیران, سائنسدانوں, سب, سے, شدہ, عجیب و غریب, نے, کام, کرتے, کن, ہیں, ہے, یہ
Tuesday, 6 March 2018
جوشادی شدہ جوڑے یہ کام کرتے ہیں انہیں سب سے بہترنیندآتی ہے ۔۔سائنسدانوں نے حیران کن انکشا ف کرڈالا
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟
https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...
-
https://goo.gl/jsbpLD لاہور ( نیوز ڈیسک) فلم پرچی کی مرکزی کاسٹ میں شامل حریم فاروق اور علی رحمان خان نے ٹرک اڈے پر فوٹو شوٹ کرایا جس کی تصا...
-
https://is.gd/3wsREo یہ جینز 1893ء میں ایک اسٹور کے مالک نے خریدی تھیں۔ فوٹو : گلف نیوز واشنگٹن: امریکا میں 125 سال پرانی جینز کی دو پتلونیں...
-
https://is.gd/Jbk441 دلہن کے والد نے جہیز کی بقیہ رقم کا فوری مطالبہ کیا جس پر دلہا غصے میں آگیا۔ فوٹو: انٹرنیٹ متحدہ عرب امارات کے ایک شہری...
No comments:
Post a Comment