https://goo.gl/ZvuhBn
جدید سائنس کے تحت کی جانے والی تمام پیمائشوں اور پیمانوں کے مطابق خانہ کعبہ بلا شک و شبہ زمین کا مرکز ہے۔
یہ وہ مقام ہے جو زمین کے بالکل بیچ میں واقع ہے۔زمین کے درمیان کا مقام ہونے کی وجہ سے قدرتی طور پر زمین کی تمام کشش ثقل کا مرکز بھی یہی مقام ہے اور یہی وہ خاصیت ہے جو اسے دوسرے مقامات سے منفرد بناتی ہے۔ زمین کی کشش ثقل کا مرکز ہونے کی وجہ سے یہاں شدید مقناطیسی کشش پائی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ یہاں کسی چیز کا پرواز کرنا نا ممکن ہے۔ اگر آپ اپنے ہاتھ میں مقناطیس کا ٹکڑا لیں تو آپ دیکھیں گے کہ اس کے بالکل درمیان میں کوئی چیز نہیں چپک سکتی، مقناطیسی کشش کے اثر سے وہ شے ہوا میں جھولتی ہوئی مقناطیس کے دائیں یا بائیں طرف چپک جائے گی۔
بالکل یہی فارمولہ خانہ کعبہ کے اوپر بھی لاگو ہوتا ہے۔ مرکزی مقام اور مقناطیسی کشش کی شدت ہونے کے سبب یہ نا ممکن ہے کہ کوئی طیارہ حتیٰ کہ پرندہ بھی خانہ کعبہ کے عین اوپر پرواز کرسکے۔ البتہ خانہ کعبہ کے ارد گرد لاتعداد پرندے پرواز کرتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔
Urdu Khabrain
Breaking Urdu News, India Urdu News, Islamic News, Latest Urdu News, Online Urdu News, Pakistan Urdu News, Religious News, Tamil Urdu News, Top Urdu News, World Urdu News, اختیار, اوپر, اٹھیں, اپ, ایسا, بھی, بے, جان, جانتے, جہاز, خانہ, عین, ممکن, میر, نا, وجہ, کا, کر, کسی, کعبہ, کہہ, کیا, کیوں, کے, گزرنا, گے, ہوائی, ہیں, ہے
Sunday, 11 March 2018
کیا آپ جانتے ہیں خانہ کعبہ کے عین اوپر کسی بھی ہوائی جہاز کا گزرنا نا ممکن ہے ، ایسا کیوں ہے؟ وجہ جان کر آپ بھی بے اختیار کہہ اٹھیں گے ’’ میر
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟
https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...
-
https://goo.gl/jsbpLD لاہور ( نیوز ڈیسک) فلم پرچی کی مرکزی کاسٹ میں شامل حریم فاروق اور علی رحمان خان نے ٹرک اڈے پر فوٹو شوٹ کرایا جس کی تصا...
-
https://is.gd/3wsREo یہ جینز 1893ء میں ایک اسٹور کے مالک نے خریدی تھیں۔ فوٹو : گلف نیوز واشنگٹن: امریکا میں 125 سال پرانی جینز کی دو پتلونیں...
-
https://is.gd/Jbk441 دلہن کے والد نے جہیز کی بقیہ رقم کا فوری مطالبہ کیا جس پر دلہا غصے میں آگیا۔ فوٹو: انٹرنیٹ متحدہ عرب امارات کے ایک شہری...
No comments:
Post a Comment