https://is.gd/oFtDTP
پاکستان کے شورش زدہ صوبے بلوچستان میں سب سے متحرک عسکریت پسند گروپ بلوچستان لبریشن فرنٹ نے 2018 کے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
تنظیم کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر نے ایک ویڈیو پیغام میں لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابات کا حصہ نہ بنیں تاکہ ٹرن آؤٹ کم سے کم رہے۔
یاد رہے کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ سمیت تمام ہی علیحدگی پسند تنظیموں نے 2013 کے انتخابات کا بھی بائیکاٹ کیا تھا، جس کی وجہ سے بلوچ علاقوں میں ووٹ ڈالنے کی شرح انتہائی کم رہی تھی۔
اس کے نتیجے میں حال میں اپنی مدت پوری کرنے والے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو سمیت کئی امیدوار چند سو ووٹ لے کر ہی کامیاب ہوئے تھے۔
نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ 2013 میں بلوچ قوم نے ایک ریفرنڈم کیا اور جس کے بعد ٹھپے لگائے گئے اور وزیراعلیٰ بنایا گیا۔ آئندہ بھی اسی طرح کسی کو منتخب کیا جائے گا۔
اپنے پیغام میں انھوں نے کہا کہ ’کچھ لوگ یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ بلوچ قومی تحریک کمزور ہو کر پسپائی کی جانب بڑھ رہی ہے جبکہ درحقیقت بلوچ تاریخ میں یہ دو دہائی یعنی بیس سالوں پر مشتمل بلوچ آزادی کی تحریک آگے جا رہی ہے اور دن بدن بلوچ قوم اس میں شامل ہو رہی ہے۔ بلوچ نسل کشی ہو رہی ہے، لیکن بلوچ قوم پیچھے نہیں ہٹ رہی ہے، سوائے سرداروں کے۔ وہ سودے بازی کے لیے کبھی آگے تو کبھی پیچھے مڑتے ہیں تاہم عام بلوچ قومی جدو جہد کے لیے کمر بستہ ہے اور ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹا۔‘
ڈاکٹر اللہ نذر نے بلوچستان کے سابق وزیرِداخلہ سرفراز بگٹی اور نیشنل پارٹی کے سربراہ حاصل بزنجو پر بھی سخت تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ بلوچ قوم کو یہ ہی کہہ رہے ہیں کہ ہمیں بیرونی ممالک سپورٹ کر رہے ہیں، لیکن اگر بیرونی ممالک ہماری فنڈنگ کرتے، ساز و سامان دیتے تو آج جنگ کی شکل یہ نہیں ہوتی، یہ بلوچوں کی اپنی ذاتی جنگ ہے۔
ڈاکٹر اللہ نذر حکومت چین سے کہا ہے کہ وہ بلوچستان میں سرمایہ کاری نہ کرے وہ خود ایک انقلابی عہد سے گزر چکے ہیں۔" بلوچ ایک زندہ قوم ہے، اس کی اپنی زبان اور زمین ہے۔ بلوچ قوم میں قومی وجود کی تمام روایات اور قانون موجود ہیں،ایسی قوم کو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ آپ (چین) ایک غلط راستے کا انتخاب کر چکے ہیں۔
Urdu Khabrain
Breaking Indian News, Hot India News, India Pakistan News, India Urdu News, Online India News
No comments:
Post a Comment