https://goo.gl/Bf5uPE
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) آباد ی کو کنٹرول کرنے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں جن میں سے ایک کنڈوم بھی ہے ، ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہرروز 14ہزار بچے پیداہورہے ہیں ۔ پاکستان جیسے ممالک میں کھلے عام کنڈوم وغیرہ کے بارے میں گفتگو مضحکہ خیز تصور کی جاتی ہے اور کنڈوم کے اشتہار بھی دبے لفظوں میں دیئے جاتے ہیں لیکن اب ایک ایسا اشتہارمتعارف کرادیاگیا جسے دیکھ کر پاکستانی شرم سے پانی پانی ہونے لگے ۔
نیوزویب سائٹ پڑھ لو کے مطابق پاکستان کی خطرناک حدتک بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر ایسی کسی بھی مہم کی تعریف کی جانی چاہیے ۔ عمومی طورپر اشتہارات میں پراڈکٹ خریدنے کی ترغیب دی جاتی ہے لیکن ’ڈوپاکستان‘ نامی کمپنی نے اپنے اشتہار میں کرکٹ کی کمنٹری کی طرز پر آواز کو جگہ دی اور ساتھ ساتھ وہی جملے ویڈیو پر لکھ بھی دیئے، ویڈیو اشتہار میں لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورتحال پر روشنی ڈالی جارہی ہے ۔
پی ایس ایل کے دوران ہی شاید یہ اشتہار متعارف کرایاگیا جس کی وجہ سے کرکٹ تھیم پر اشتہاربنایاگیالیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ہم اپنی فیملیز کیساتھ بیٹھ کر یہ اشتہار دیکھ سکتے ہیں؟ ویڈیو دیکھئے ۔
اشتہار میں اداکیے جانیوالے الفاظ بالکل واضح ہیں ، تصور کریں کہ اگر آپ کے اردگرد دوست اور فیملی موجود ہوتو یقینا ہرکوئی ریموٹ ڈھونڈنے میں جت جائے گاگوکہ یہ پراڈکٹ فیملی کیلئے ہی ہے لیکن شاید ویڈیو پر سب ٹائٹل لگانا بھی ضرورت سے زیادہ تھا۔
Urdu Khabrain
Monday, 18 June 2018
پاکستان میں کنڈوم کا وہ اشتہار متعارف کروادیا گیا جسے دیکھ کر پاکستانیوں کے چہرے شرم سے لال ہونے لگے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟
https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...
-
https://goo.gl/jsbpLD لاہور ( نیوز ڈیسک) فلم پرچی کی مرکزی کاسٹ میں شامل حریم فاروق اور علی رحمان خان نے ٹرک اڈے پر فوٹو شوٹ کرایا جس کی تصا...
-
https://is.gd/3wsREo یہ جینز 1893ء میں ایک اسٹور کے مالک نے خریدی تھیں۔ فوٹو : گلف نیوز واشنگٹن: امریکا میں 125 سال پرانی جینز کی دو پتلونیں...
-
https://is.gd/Jbk441 دلہن کے والد نے جہیز کی بقیہ رقم کا فوری مطالبہ کیا جس پر دلہا غصے میں آگیا۔ فوٹو: انٹرنیٹ متحدہ عرب امارات کے ایک شہری...
No comments:
Post a Comment