Wednesday, 13 June 2018

اس کال کیلئے لڑکیاں کہاں سے آتی ہیں پاکستان میں جسم فروشی کی ویب سائٹ چلانے والےشخص نے ایسا انکشاف کردیا کہ کسی پاکستانی کویقین نہ آئے کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ یہ بھی ممکن ہے

https://goo.gl/wYJw2L
انٹرنیٹ پر پاکستانی خواتین کو جسم فروش کیلئے پیش کرنے والی ممنوعہ ویب سائٹس سر عام چلنے لگیں اور اس رجحان میںروز بروز تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے مگر اس کے باوجود حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ۔تفصیلات کے مطابق انٹرنیٹ جیسی جدید ٹیکنالوجی نے لوگوں کی زندگیوں میں انقلاب برپا کر دیا ہے اور اس جدید دور میں ہر کوئی اس سے فائدہ حاصل کر رہا ہے مگر دوسری جانب اس ٹیکنالوجی کا غلط استعمال بھی دہڑلے سے جاری ہے جس کی ایک واضح مثال پاکستان میں بھی موجود ہے۔

جہاں اس کے ذریعے خواتین کی جسم فروشی جیسا غیر اخلاقی کاروبار چلایا جا نے لگاہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ خفیہ طور پر جسم فروشی کے اس نئے طریقہ کار کا سن کریہ یقین کرنا بھی مشکل ہے کہ یہ کام پاکستان میں ہو رہا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس حوالے سے پاکستان میں 2 بڑی ویب سائٹس چل رہی ہیں جنہیں کہیں اور سے نہیں بلکہ پاکستان کے بڑے صوبہ پنجاب سے ہی چلایا جا رہا ہے جس کے ذریعے پنجاب کے مختلف علاقوں، اسلام آباد ، لاہور اور کراچی میں خواتین فروخت کیلئے پیش کی جا رہی ہیں۔
بات یہی ختم نہیں ہوتی بلکہ ان ویب سائٹس کے مالکان نے سوشل میڈیا پروفائلز بھی بنوا رکھے ہیں جہاں پرصارفین سے رابطہ کیا جا تا ہے۔

اور دیگرغیر اخلاقی مواد بھی انہی پروفائلز پر موجود ہے ۔ ان ویب سائٹس پر انتظامیہ کے نام اور نمبر ز بھی دیے گئے ہیں ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ان ویب سائٹس پر مختلف کیٹیگریاں بنی ہوئی ہیں جہاں پاکستانی خواتین کو جسم فروشی کیلئے پیش کیا گیا ہے جبکہ لاہور ، اسلام آباد اور کراچی کیلئے بھی خصوصی کیٹگریز بنائی گئی ہیں تاہم ان دونوں ویب سائٹس کی انتظامیہ نے اعتماد حاصل کرنے کیلئے صارفین کی نجی معلومات کو خفیہ اور محفوظ رکھنے جیسے دعوے بھی کر رکھے ہیں ۔یہاں سوال یہ پیداہوتا ہے کہ آیا پاکستان میں اس قسم کے غیر قانونی کام کس بنیاد پر کیے جا رہے ہیں ،

ایسی ویب سائٹس کو فلٹر کرنے اور انہیں بند کرنے کیلئے کوئی اتھارٹی موجود نہیں یا کیا حکومتی ادارے ان ویب سائٹس کے وجود سے لاعلم ہیں ؟ کیونکہ جسم فروش نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ انسانی اقدار کیلئے اخلاقی گالی بھی ہے ۔
Urdu Khabrain

No comments:

Post a Comment

ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟

https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...