https://is.gd/wLdxCN
ٹھٹھہ: سندھ کے علاقے کیٹی بندر کے ساحل پر آںے والی مردہ ڈولفن کراچی منتقل کردی گئی۔
تفصیلات کے مطابق صوبہ سندھ کے علاقے کیٹی بندر کے ساحل پر آںے والی 50 من مردہ ڈولفن کو کراچی منتقل کردیا گیا۔
ڈولفن اپنی جسامت کی وجہ سے ٹرک میں پوری طرح سما نہیں رہی اور باہر لٹک رہی ہے۔ گاڑی میں ڈولفن کو ڈھانپنے کے لیے شامیانے کا استعمال کیا گیا۔
یاد رہے کہ قوی الجثہ ڈولفنز اکثر اوقات راستہ بھٹک کر ساحل یا نہروں میں آنکلتی ہیں اور وہیں مر جاتی ہیں۔
دریائے سندھ کی نابینا ڈولفن دنیا کی نایاب ترین قسم ہے جو صرف دریائے سندھ اور بھارت کے دریائے گنگا میں پائی جاتی ہے۔ یہ ڈولفن قدرتی طور پر اندھی ہوتی ہے اور پانی میں آواز کے سہارے راستہ تلاش کرتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کی ڈولفنز کی نسل میں معمولی سا فرق ہے جس کے باعث انہیں الگ الگ اقسام قرار دیا گیا ہے۔
راستہ بھولنے اور دیگر وجوہات کے باعث اس ڈولفن کو اپنی بقا کا خطرہ لاحق ہے اور ان کی تعداد میں تیزی سے کمی آتی جارہی ہے۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق دریائے سندھ میں اس ڈولفن کی تعداد محض 600 سے بھی کم رہ گئی ہے اور اس کے تحفظ کے لیے ہنگامی اقدامات نہ اٹھائے گئے تو دریائے سندھ سے اس ڈولفن کا خاتمہ ہوجائے گا۔
Urdu Khabrain
Pakistan Weather News, Pakistani News, Urdu Khabrain, Urdu News, Viral Weather News, Weather Khabrain, Weather News, Weather Urdu News, اںے, بندر, ساحل, ماحولیات, مردہ, منتقل, والی, پر, ڈولفن, کراچی, کیٹی, کے
Thursday, 21 June 2018
کیٹی بندر کے ساحل پر آںے والی مردہ ڈولفن کراچی منتقل
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟
https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...
-
https://goo.gl/jsbpLD لاہور ( نیوز ڈیسک) فلم پرچی کی مرکزی کاسٹ میں شامل حریم فاروق اور علی رحمان خان نے ٹرک اڈے پر فوٹو شوٹ کرایا جس کی تصا...
-
https://is.gd/3wsREo یہ جینز 1893ء میں ایک اسٹور کے مالک نے خریدی تھیں۔ فوٹو : گلف نیوز واشنگٹن: امریکا میں 125 سال پرانی جینز کی دو پتلونیں...
-
https://is.gd/Jbk441 دلہن کے والد نے جہیز کی بقیہ رقم کا فوری مطالبہ کیا جس پر دلہا غصے میں آگیا۔ فوٹو: انٹرنیٹ متحدہ عرب امارات کے ایک شہری...
No comments:
Post a Comment