https://is.gd/XMb3Il
سعودی عرب میں خواتین کے گاڑی چلانے پر پابندی ختم ہونے کے موقعے پر ریاستی آئل کمپنی آرامکو نے اپنی کمپنی کی خواتین ملازموں کو گاڑی چلانا سیکھانے کی پیشکش کی ہے۔
روئٹرز کے فوٹوگرافر احمد جداللہ اور صحافی رانیہ الجمال نے ان خواتین سے ملاقات کی جنھیں شہر دھران میں یہ تربیت دی جا رہی ہے۔
ان طلبہ میں سے ایک ماریہ الفراج (بائیں) ہیں جنھیں الحام الصومالی تربیت دے رہی ہیں۔
انھیں گاڑی چلانے کے علاوہ یہ بھی سیکھایا جا رہا ہے کہ گاڑی کا تیل کیسے چیک کیا جاتا ہے، ٹائر کیسے تبدیل کرتے ہیں اور سیٹ بیلٹ کی کیا اہمیت ہے۔
گاڑی چلانے پر پابندی ختم ہونا سعودی خواتین کے لیے ایک تاریخی موقعہ ہے۔ ماضی میں انھیں گاڑی چلانے کے ’جرم‘ میں گرفتاری یا جرمانے کا خطرہ ہوتا تھا اور خواتین اپنی فیملی میں مردوں پر منحصر ہوتی تھیں یا پھر انھیں ڈرائیور رکھنے پڑتے تھے۔
ماہرِ تعمیرات آمیرا عبدالغدر (نیچے تصویر میں) کا کہنا ہے کہ پابندی اٹھتے ہی ہو اپنی والدہ کو گاڑی میں بیٹھا کر لے جانا چاہتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں ’ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنے کا مطلب ہے آپ ٹرپ کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ اب میں فیصلہ کروں گی کہ کب جانا ہے، کہاں جانا ہے، اور کب واپس آنا ہے۔ ہمیں اپنی روز مرہ کی بنیادی چیزیں کرنے کے لیے گاڑی کی ضرورت ہے۔ ہم کام کرتی ہیں، مائیں ہیں، ہمیں سوشل نیٹ ورکنگ کرنی ہوتی ہے، باہر جانا ہوتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کی ضرورت ہے۔ یہ میری زندگی تبدیل کر دے گی۔‘
روئٹرز کا کہنا ہے کہ آرامکو کے 66000 ملازمین میں سے 5 فیصد خواتین ہیں یعنی اس سکول میں تقریباً 3000 خواتین گاڑی چلانا سیکھ سکتی ہیں۔
اگرچہ سعودی عرب میں اس پابندی کو ختم کرنے پر تعریف کی جا رہی ہے مگر یہ اقدام تنازع کے بغیر نہیں ممکن ہوا۔
کئی دہائیوں تک خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے مرد و خواتین نے آواز اٹھائی اور اس دوران قید کا سامنا بھی کیا۔
گذشتہ ماہ بھی حکام نے متعدد خواتین اور مردوں کو گرفتار کیا اور ان پر ملک سے غداری کا الزام عائد کیا اور کہا کہ وہ غیر ملکی طاقتوں کے لیے کام کر رہے تھے۔
Urdu Khabrain
Breaking Indian News, Hot India News, India Urdu News, Latest India News, Top India News
No comments:
Post a Comment