https://is.gd/g3V7qv
نئے عدالتی نظام کے نفاذ کے بعد ہمارے ملک کی عدالتوں میں انصاف کی فراہمی میں خاصیٰ تیزی آ گئی ہے اور اب حصول انصاف کے لیے نسل در نسل انتظار کی بجائے عام مقدمات کا جلد نمٹانے کا عمل عدالتی نظام کا حصہ بن چکا ہے اور یہ تسلسل اب چھوٹے شہروں اورقصبات کی ماتحت عدالتوں تک میں دکھائی دیتا ہے جو معاشرے کے لئے تسلی بخش ثابت ہو رہا ہے بدین میں بھی متعدد جرائم کی وارداتوں کے مقدمات کے فیصلے جلدسنائے جا ر ہے ہیں ۔ گزشتہ دنوںسیکنڈ ایڈیشنل اینڈ سیشن جج جناب عبدالوہاب تنیو کی عدالت نے نو عمر بچی کے ساتھ زیادتی کے مقدمے میں چار افراد کو عمر قید اور جرمانے کی سزائیں سنائیں۔ عدالتی ذرائع کے مطابق سال2017میں کڑیو گہنور تھانہ کی حدود میں واقع گائوںحسن شاہ کے دڑو میں نوجوان لڑکی مسماۃصاحبزادی کو علی ڈنو پرھیاڑ، عبدالعزیز پرھیاڑ، محمد جمن پرھیاڑ اور خالق ڈنو پرھیاڑ نے اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنایا تھا ۔
پولیس کے مطابق متاثرہ فریق غریب کسان تھا ۔ پولیس کے مطابق ارتکاب جرم کرنے کے بعد بااثر مجرموں نے لڑکی کے والدین کو خاموش رہنے کی تاکید کرتے ہوئے دھمکیاں دیں ۔ اس کے بعد لالچ دیا گیا، پھر پنچایت کا جرگہ طلب کرکے انصاف کی فراہمی کا یقین دلایا گیامگر متاثرہ فریق نےان کی دھونس ، دھمکیوں اور لالچ و جھانسوں میں آنے کی بجائےپولیس سےرابطہ کیا اور واقعے کا مقدمہ کڑیو گہنور تھانہ پر درج کرایا گیا تھا۔ پولیس نے چاروں ملزمان کو گرفتار کرکے مقدمہ کے چالان عدالت میں پیش کیاجس کا فیصلہ ایک سال کے اندر سناکر مجرموں کو ڈسٹرکٹ جیل بدین بھیج دیا گیا ہے۔
Urdu Khabrain
No comments:
Post a Comment