https://is.gd/tQ75Vr
کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان سمیت دنیا بھر میں صدی کے طویل ترین چاند گرہن کا منظر دیکھا گیا۔
چاند گرہن پاکستانی وقت کے مطابق رات دس بجکر پندرہ منٹ پر شروع ہوا اس چاند گرہن کو اکیسویں صدی کے طویل دورانیہ کا چاند گرہن کہا گیا ہے جسے دیکھنے کیلئےشہریوں کی بہت بڑی تعداد اپنی چھتوں و کھلے میدانوں میں پہنچ گئی اور شہریوں نے چاند گرہن کا نظارہ کرنے کیلئے طاقتور دوربین کا استعمال کیا۔
جامعہ کراچی میں خصوصی انتظام کئے گئے جبکہ انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس اینڈ پلینٹری اسٹروفزکس کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر محمد جاوید اقبال کے مطابق پاکستان سمیت دنیا بھر میں صدی کاطویل ترین چاند گرہن 27؍ جولائی کی شب سوادس بجے شروع ہوا اور ایک بجکر 21؍ منٹ پر اپنے عروج پر پہنچا اور چاند نے لال رنگ اختیار کرلیا ۔

ڈاکٹر جاوید اقبال نے چاند گرہن کی خصوصیات بتاتے ہوئے کہا کہ چاند گرہن کے دوران سورج کی شعاعوں کے باعث چاند نے لال رنگ اختیار کرتے ہوئے ’’خونی چاند ‘‘ کا منظر پیش کیا مکمل چاند گرہن کا دورانیہ ایک گھنٹہ 42؍ منٹ رہا۔

جاوید اقبال کے مطابق مکمل گرہن اس وقت رونما ہوتاہے جب زمین اپنے مدار میں گردش کرتے ہوئے کچھ وقت کیلئے سورج اور چاند کے درمیان حائل ہوجاتی ہے۔
زمین کا جو سایہ چاند پر پڑتا ہے فلکیاتی اصطلاح میں اسے ’’امبرا‘‘ کہا جاتا ہے جس کے باعث گرہن کے دوران بعض اوقات چاند سرخی مائل، نارنجی یا خونی دکھائی دیتا ہے اور مکمل گرہن کے وقت بھی چاند دکھائی دے رہا ہوتا ہے، فلکیاتی اصطلاح میں اسے بلڈ مون کہا جاتاہے۔

گرہن کے دوران چاند زمین کے سائے کے مرکز سے گزر رہا ہوتا ہے۔
اس ضمن میں جامعہ کراچی کے انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس اینڈ پلینٹری اسٹروفزکس نے اپنی دوربین سے بلڈ مون دکھانے کا انتظام کیا ۔علاوہ ازیں چاند گرہن کا نظارہ یورپ، افریقا، مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا اور آسٹریلیا کے زیادہ تر حصوں میں دکھائی دیا۔

چاند کو گرہن لگتے دیکھنے کیلئے کسی ٹیلی اسکوپ کی ضرورت نہیں تھی بلکہ یہ معمولی دوربین سے بھی زیادہ اچھا نظارہ کیا گیا۔ چاند گرہن کا سب سے اچھا نظارہ مشرقی افریقا، مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا میں دیکھنے میں آیا۔

تاہم وسطی اور شمالی امریکا کے عوام اس نظارے کو نہیں دیکھ پائیں جبکہ جنوبی امریکا کے مشرقی حصوں میں جزوی چاند گرہن کا نظارہ کیا گیا۔

برطانیہ میں چاند گرہن کے نظارے کو نہیں دیکھا جا سکاکیونکہ اس وقت چاند افق سے نیچے تھا۔
Urdu Khabrain
No comments:
Post a Comment