https://is.gd/dAlFSw
غصہ ان حضرات پر آتا ہے ،جو بے سوچے سمجھے یہاں کے موسم پر نکتہ چینی کرتے ہیں اور اس کی وضاحت نہیں فر ماتےکہ انہیں کون سا موسم پسند ہے ۔یہ تو آپ جانتے ہیں کہ کراچی میں موسم ہر لحظہ روئی کے بھائو کی طرح بدلتا رہتا ہے۔ ہم نے تو یہاں تک دیکھا ہے کہ ایک ہی عمارت کے کرایہ دار ایک منزل سے دوسری منزل پر تبدیلی ِآب وہوا کی غرض سے جاتے ہیں۔یہاں آپ دسمبر میں ململ کا کرتا یا جون میں گرم پتلون پہن کر نکل جائیں تو کسی کو ترس نہیں آئے گا، اہل ِکراچی اس واللہ ا علم بالصواب قسم کے موسم کے اس قدر عادی ہو گئے ہیں کہ اگر وہ تین گھنٹے تبدیل نہ ہو تو وحشت ہونے لگتی ہے،اور بڑی بوڑھیاں اس کو ُقُرب قیامت کی نشانی سمجھتی ہیں۔ ہوتا یہ ہے کہ اچھے خاصے لحاف اوڑھ کر سوئے اور صبح پنکھا جھلتے ہوئے اٹھے یا محکمہ ءموسمیات کی پیشن گوئی کو ملحوظ رکھتے ہوئے صبح برساتی لے کر گھر سے نکلے اور دوپہر تک لو لگنے کے سبب بالا ہی بالا اسپتال میں داخل کرا دیئے گئے کہاں تو رات کو ایسی شفاف چاندنی چٹکی ہوئی تھی کہ چارپائی کے چولوں کے کھٹمل گن لیجئے اور کہاں صبح دس بجے کہرکا یہ عالم کہ ہر بس ہیڈ لائٹ جلائے اور اوس سے بھیگی سڑک پر خربوزے کی پھانک کی طرح پھسل رہی ہے۔بعض اوقات تو یہ کہراتنا گہرا ہوتا ہے کہ نو واردوں کو کراچی کا اصل موسم نظر نہیں آتا۔
موسم کے تلون کی یہ کیفیت ہے کہ دن بھر کے تھکے ہارے پھیری والے شام کو گھر لوٹتے ہیں تو بغیر استخارہ کئے فیصلہ نہیں کر سکتے کہ صبح اٹھ کربھو بل کی بھٹی گرما گرم مونگ پھلی بیچیں یا آئس کریم۔
کراچی کے باشندوں کو غیر ملکی سیر و سیاحت پر اکسانے میں آب وہوا کو بڑا دخل ہے یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ انگلستان کا موسم اگر اتنا ظالم نہ ہوتا تو انگریز دوسرے ملکوں کوفتح کرنے ہرگز نہ نکلتے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ آپ محض میری صحت دیکھ کر یہاں کی آب وہوا سے بدظن ہو جائیں، لیکن اطلاعاً اتنا ضرور عرض کروں گا کہ مقامی چڑیا گھر میں جو بھی نیا جانور آتا ہے کچھ دن یہاں کی بہار جانفزا دیکھ کر میونسپل کارپوریشن کو پیارا ہو جاتا ہے اور وہ جانور بچ جاتے ہیں، جن کا تعلق اُس مخلوق سے ہے، جس کو طبعی موت مرنے سے کم از کم میں نے کبھی نہیں دیکھا، مثلاً مگر مچھ ،ہاتھی ،میونسپلٹی کا عملہ۔
ہم نے کراچی کے ایک قدیم باشندے سے پوچھا کہ یہاں مون سون کا موسم کب آتا ہے؟ اُس بزرگ باراں دیدہ نے نیلے آسمان کو تکتے ہوئے جواب دیا کہ چار سال پہلے تو بدھ کو آیا تھا۔
یہ کہنا تو غلط ہو گا کہ کراچی میں بارش نہیں ہوتی البتہ اس کا کوئی وقت اور پیمانہ معین نہیں ہے ،لیکن جب ہوتی ہے تو اس انداز سے گویا کسی مست ہاتھی کو زکام ہو گیاہو۔
Urdu Khabrain
Wednesday, 25 July 2018
گوشۂ یوسفی: چراغ تلے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟
https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...
-
https://goo.gl/jsbpLD لاہور ( نیوز ڈیسک) فلم پرچی کی مرکزی کاسٹ میں شامل حریم فاروق اور علی رحمان خان نے ٹرک اڈے پر فوٹو شوٹ کرایا جس کی تصا...
-
https://is.gd/3wsREo یہ جینز 1893ء میں ایک اسٹور کے مالک نے خریدی تھیں۔ فوٹو : گلف نیوز واشنگٹن: امریکا میں 125 سال پرانی جینز کی دو پتلونیں...
-
https://is.gd/Jbk441 دلہن کے والد نے جہیز کی بقیہ رقم کا فوری مطالبہ کیا جس پر دلہا غصے میں آگیا۔ فوٹو: انٹرنیٹ متحدہ عرب امارات کے ایک شہری...
No comments:
Post a Comment