https://is.gd/ya3VqN
سید ضمیر جعفری
میں روزے سے ہوں
مجھ سے مت کر یار کچھ گفتار، میں روزے سے ہوں
ہو نہ جائے تجھ سے بھی تکرار، میں روزے سے ہوں
ہر اک شے سے کرب کا اظہار، میں روزے سے ہوں
دو کسی اخبار کو یہ تار، میں روزے سے ہوں
میرا روزہ اک بڑا احسان ہے لوگوں کے سر
مجھ کو ڈالو موتیے کے ہار، میں روزے سے ہوں
میں نے ہر فائل کی دمچی پر یہ مصرعہ لکھ دیا
کام ہو سکتا نہیں سرکار، میں روزے سے ہوں
اے مری بیوی ،مرے رستے سے کچھ کترا کے چل
اے مرے بچو! ذرا ہشیار، میں روزے سے ہوں
شام کو بہرِ زیارت آ تو سکتا ہوں، مگر
نوٹ کرلیں دوست ،رشتے دار، میں روزے سے ہوں
تو یہ کہتا ہے لحن تر ہو کوئی تازہ غزل
میں یہ کہتا ہوں کہ برخوردار، میں روزے سے ہوں
Urdu Khabrain
No comments:
Post a Comment