https://is.gd/Uqzf0Y
چراغ حسن حسرت کھانے سے زیادہ پینے کے قائل تھے، تاہم ادب کی طرح کھانے کا بھی بڑا ہی کلاسیکی مذاق رکھتے تھے۔ ذائقہ تو بعد کی بات تھی، کھانے کی صورت بری ہوتی تو اس پر بھڑک اُٹھتے، طبیعت خراب ہوجاتی، اشتہا مرجاتی، کھانا کھانے کے بجائے کھانا نہ کھانے کے حق میں تقریر کرتے۔
تو ابان اودھ، سلاطین کشمیر اور قطب شاہی علی قلی خانوں کے مطنجوں، دسترخوانوں کے متعلق وہ جو وسیع ذاتی معلومات رکھتے تھے۔ ان معلومات نے مرشد کو اس ضمن میں کچھ اور بھی مشکل پسند بنادیا تھا۔ ذائقے اور تنوع کے لحاظ سے کشمیری کھانے کو کھانوں کا بادشاہ مانتے تھے۔
شب دیگ، گوشابہ، کیخوانہ، آفتابہ وغیرہ۔ کشمیری کھانوں کی ایک طویل فہرست تھی، جو ہمیں ہر کھانے پر سننا پڑتی۔ ایک چینی لکھ پتی کی دعوت پر جب کوئی پچاس کو رسوں کے ڈنر سے سابقہ پڑا، جس میں چینی باورچیوں نے چڑیا کی ایک چونچ میں ترش، نمکین شیریں مچھلی تل کر سامنے رکھ دی تھی تو مرشد چینیوں کی عظمت کے بھی قائل ہوگئے تھے، مگر قیادت کا جھنڈا پھر بھی کشمیر میں لہراتا رہا۔
کسی مشاعرے میں حفیظ جالندھری اپنی غزل سناتے سناتے، چراغ حسن حسرت سے مخاطب ہوکر بولے: ’’حسرت صاحب! ملاحطہ فرمائیے، مصرعہ عرض کیا ہے۔‘‘ حسرت صاحب، حفیظ صاحب کا مصرعہ سننے سے پہلے ہی نہایت بے چارگی سے کہنے لگے:’’فرمائیے حضرت ! شوق سے فرمائیے، اپنی تو عمر ہی غزلوں کے مصرعے اٹھانے اور مردوں کو کندھا دینے میں کٹ گئی ہے۔‘‘
……O……
کسی نے چراغ حسن حسرت سے کہا: ’’منٹو نے آپ کے بارے میں لکھا ہے، آپ تو محض ایک لغت ہیں، جس میں مشکل الفاظ کے معنی دیکھے جاسکے ہیں۔‘‘ حسرت نے تلملا کر جواب دیا: ’’اور منٹو ایک فحش ناول ہے، جس کے مطالعہ سے جنسی یتیم اپنی پیاس بجھاتے ہیں۔‘‘
……O……
مولانا چراغ حسن حسرت، فوج میں کپتانی کے منصب پر فائز تھے، لیکن ڈسپلن کے پابند نہیں تھے۔ سنگاپور میں تعیناتی کے زمانے میں جب کرنل مجید ملک نے جو خود بھی شاعر تھے، کسی معاملے میں مولانا سے تحریری باز پرس کی تو اُنہوں نے فائل پر یہ شعر لکھ کر بھیج دیا:
جرمنی بھی ختم، اس کے بعد جاپانی بھی ختم
تیری کرنیلی بھی ختم اور میری کپتانی بھی ختم
……O……
چراغ حسن حسرت کا قد لمبا تھا، ایک روز بازار گئے، آموں کا موسم تھا۔ ایک دکان دار سے بھائو پوچھا۔ دکان دار نے کہا: ’’پانچ آنے سیر۔‘‘ حسرت نے کہا: ’’میاں آم تو بہت چھوٹے ہیں۔‘‘ دکان دار نے کہا: میاں نیچے بیٹھ کر دیکھو آم چھوٹے ہیں یا بڑے۔ قطب مینار سے تو بڑی شے چھوٹی نظر آتی ہے۔
Urdu Khabrain
Wednesday, 25 July 2018
ادب پارے....چراغ حسن حسرت
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟
https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...
-
https://goo.gl/jsbpLD لاہور ( نیوز ڈیسک) فلم پرچی کی مرکزی کاسٹ میں شامل حریم فاروق اور علی رحمان خان نے ٹرک اڈے پر فوٹو شوٹ کرایا جس کی تصا...
-
https://is.gd/3wsREo یہ جینز 1893ء میں ایک اسٹور کے مالک نے خریدی تھیں۔ فوٹو : گلف نیوز واشنگٹن: امریکا میں 125 سال پرانی جینز کی دو پتلونیں...
-
https://is.gd/Jbk441 دلہن کے والد نے جہیز کی بقیہ رقم کا فوری مطالبہ کیا جس پر دلہا غصے میں آگیا۔ فوٹو: انٹرنیٹ متحدہ عرب امارات کے ایک شہری...
No comments:
Post a Comment