https://is.gd/BJK5YB
اسلام آباد : گردشی قرضوں کی مکمل ادائیگیوں کے باوجود مسائلہ حل نہ ہوسکا،گردشی قرضوں کا حجم ایک ہزار ارب سے تجاوز کر گیا، صرف پی ایس او کے واجبات کا حجم تین سو ارب روپے سے تجاوز کرگئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق گردشی قرضوں کامعاملہ بحرانی صورت اختیار کرگیا، قرضے آٹھ سو ارب سے زائد ہوگئے، صرف پی ایس او کے واجبات کا حجم تین سو ارب روپے سے زیادہ ہوگیا ہے۔
پاور ڈویژن زرائع کے مطابق حکومت کو پاور سیکٹر کو مجموعی طور پر پانچ سو سات ارب روپے ادا کرنے ہیں جبکہ پاور ہولڈنگ پراویٹ کمپنی میں چار سو ستانوئے ارب روپے کی واجبات پارک ہیں ۔
مختلف اداروں عدم ادائیگیوں کے باعث پی ایس او کے کیلئے مالی مسائل شدید ہوگئے، پی ایس او نے اداروں سے تین سو چودہ ارب روپے وصول کرنے ہیں۔
پاور سیکٹر بدستور نادہندگان کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہے، پاور سیکٹر نے پی ایس او کو دو سو ستر ارب روپے ادا کرنے ہیں جبکہ سرکاری جنکوز نے ایک سو چوون ارب ساٹھ کروڑ روپے ادا کرنے ہیں۔
پی آئی اے سولہ ارب چالیس کروڑ روپے کی نادہندہ ہے جبکہ پرائس ڈفرینشل کی مد میں نو ارب ساٹھ کروڑ حاصل کرنے ہیں، پی ایس او نے بھی مخلتف اداروں کو ادائیگیاں کرنے ہیں، جن کا حجم اکاسی ارب ساٹھ روپے ہے۔
Urdu Khabrain
Business Khabrain, Business News, Business Urdu News, Pakistan Business News, Pakistani News, Top Business News, Urdu Khabrain, Urdu News, Viral Business News, ارب, ایک, بزنس, تجاوز, حجم, سے, قرضوں, کا, کر, گردشی, گیا, ہزار
Tuesday, 10 July 2018
گردشی قرضوں کا حجم ایک ہزار ارب سے تجاوز کر گیا
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟
https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...
-
https://goo.gl/jsbpLD لاہور ( نیوز ڈیسک) فلم پرچی کی مرکزی کاسٹ میں شامل حریم فاروق اور علی رحمان خان نے ٹرک اڈے پر فوٹو شوٹ کرایا جس کی تصا...
-
https://is.gd/3wsREo یہ جینز 1893ء میں ایک اسٹور کے مالک نے خریدی تھیں۔ فوٹو : گلف نیوز واشنگٹن: امریکا میں 125 سال پرانی جینز کی دو پتلونیں...
-
https://is.gd/Jbk441 دلہن کے والد نے جہیز کی بقیہ رقم کا فوری مطالبہ کیا جس پر دلہا غصے میں آگیا۔ فوٹو: انٹرنیٹ متحدہ عرب امارات کے ایک شہری...
No comments:
Post a Comment