اس قدر ترقی یافتہ ہونے کے باوجود انسان بہت سے رازوں سے پردہ اٹھانے سے آج بھی قاصر ہے اور شاید ہمیشہ رہے۔ انہی چند رازوں میں سے ایک کچھ اقوام کی بھی ہے جو شائد ازل تک ایک سربستہ راز ہی رہے۔ انہی رازوں میں ایک چند وہاقوام جن کے ارتقا ء کے بارے میں ہمارا علم آج بھی ناقص ہے ان میں روسی، پروشیائی، کاسک/قازق، پارسی، خانہ بدوش اور کیلاشی قبائل سرفہرست ہیں۔۔جاری ہے۔
کیلاش کیلاش پاکستان کے انتہائی شمال مغربی حصے میں واقع ایک ایسا انتہائی خوبصورت علاقہ ہے جو تین بڑی وادیوں بمبوریت، رمبور اور بریرپر مشتمل ہے۔ کیلاش وادی کی تاریخ ہزاروں سال قدیم ہے اورآج بھی کیلاش کی تہذیب اور ثقافت کے لاتعداد صفحات ایسے ہیں جو باقی دنیا سے پوشیدہیں ۔ سیاح چترال سے تقریباً تین گھنٹوں کی دشوار مسافت طے کر کے کیلاش پہنچ سکتے ہیں۔ راستہ تھوڑا پرخطر اور سنسا ن ہے جو آپ پر ایسی کیفیت طاری کر دیتا ہے جو الفاظ میں بیان کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔۔جاری ہے۔
مذہبی عقائد اور رسومات وادی کیلاش کے زیادہ تر لوگ آج بھی اپنی صدیوں پرانی ثقافت ، تہذیب اور روایات کے مطابق زندگی بسر کر رہے ہیں۔ وادی کیلاش کی خوبصورتی کے علاوہ کیلاشی قبائل کی صدیوں پرانی ثقافت، تہذیب اور روایاتپوری دنیا کے سیاحوں کو کیلاش کی طرف اپنی توجہ مبذول کرواتی ہے۔
یہ وادی اپنی خوبصورتی کے علاوہ تاریخی پس منظر اور حیثیت رکھتی ہے کہ وادی کے لوگ مختلف ادوار میں مختلف مذاہباختیار کرتے رہے ہیں جن میں بدھ مت اور ہندومت زیادہ قابل ذکر ہیں۔ اگرچہ اب کیلاش قبیلے کی ایک بہت بڑی تعداد مسلمان ھو چکی ہے۔:تہوار چلم جوش یا چلم جوشٹکیلاش کے مختلف تہواروں میں سے چلم جوش جسے مقامی لوگ “چلم جوشٹ” بھی پکارتے ہیںسب سے اہم اور خوبصورت ہوتا ہے جس کو دیکھنے کے لیے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا سے لوگ کیلاش کا سفر کرتے ہیں۔ موسم بہار کے آغاز سے پہلے ہی چلم جوش کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ تہوار کے آخری تین دنوں میں جبتمام کیلاشی بمبوریت میں اکٹھے ہوتے ہیں اور جشن منایا جاتا ہے۔۔جاری ہے۔
اچل یہ تہوار کیلاش میں گندم اور جو کی کٹائ کے موسم میں ہوتا ہے۔ ان دنوں میں خصوصی طور پر رقص اور کھانے پینے کی محافل کا انتظام کیا جاتا ہے۔چاؤ ماؤس چاؤ ماؤس کیلاشی قبائل کا سب سے بڑا تہوار ہوتا ہے جو کہ نئے سال کی آمد کی خوشی میں منایا جاتا ہے۔ چاؤ ماؤس کی تقریبات کا آغاز دسمبر کے آخری ہفتے میں ہو جاتا ہے۔کیلاشی قبائل میں خواتین کا کردار کیلاشی قبائل میں خواتینبہت اہم اور منفرد مقام رکھتی ہیں۔ کیلاشی خواتین روزمرہ کے گھریلو کاموں کے علاوہکاشتکاری، مویشیوں کی دیکھ بھالکرنے میں بھیپیش پیش ہوتی ہیں۔ عمومی طور پر خواتین کالا لباس، مخصوص قسم کے ہار اور ٹوپیاں پہنتی ہیں جو مقامی طور پر ہی تیار کی جاتی ہیں۔چلم جوش کے آخری دن لڑکے اور لڑکیاں اپنا جیون ساتھی منتخب کرتے ہیں۔ اور موقع پر ہی ان کی شادی کی رسومات ادا کر دی جاتی ہیں۔۔جاری ہے۔
موت کا جشن وادی کیلاش دنیا بھر میں منفرد مقام اس لیے بھی رکھتی ہے کہ یہ دنیا کا وہ واحد خطہ ہے جہاں مقامی اپنے عزیزواقارب کی اموات پر جشن مناتے ہیں۔ یہ جشن مرد حضرات کی اموات پر 3 دن تک منایا جاتا ہے جبکہ خواتین کی وفات کی صورت میں یہ جشن 1 دن منایا جاتا ہے۔ مقامی روایات کے مطابق یہ جشن اس لیے منایا جاتا ہے کہ مرنے والے کو اس دنیا سے خوشی خوشی رخصت کیا جائے۔
Monday, 2 October 2017
پاکستان میں موجود کیلاش وادی کو کافر حسیناؤں کا دیس کیوں کہا جاتا ہے
Sunday, 1 October 2017
حکومت نواز شریف کی نااہلی کا انتقام عوام سے لےرہی ہے: بلاول بھٹو
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھا کر غریب عوام پر حملہ کیا گیا جب کہ حکومت نواز شریف کی نااہلی کا انتقام عوام سے لےرہی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھا کر غریب عوام پر حملہ کیا گیا، (ن) لیگ کی حکومت عوام سے انتقام لینے پر اتر آئی ہے، مہنگائی کا بم گرا کر ملک میں افراتفری پیدا کرنے کی سازش کی گئی تاہم (ن) لیگ والے توبہ کریں اور عوام کے غیض و غضب سے بچیں۔
مزید جانئیے: حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کی جائیں اور قوم پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، مسلم لیگ (ن) کی حکومت نواز شریف کی نااہلی کا انتقام عوام سے لےرہی ہے تاہم پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر پیپلز پارٹی ہر فورم پر احتجاج کرے گی۔
قالب وردپرس
افغان فضائیہ کی اپنے ہی فوجیوں پر بمباری، 10 اہلکار ہلاک
افغانستان کے صوبے ہلمند میں افغان فضائیہ نے زمین پر موجود اپنے ہی فوجی اہلکاروں پر بمباری کر دی جس کے نتیجے میں 10 اہلکار ہلاک اور 9 زخمی ہو گئے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق افغانستان کے شورش زدہ صوبے ہلمند کے ضلع گرشک میں گزشتہ کئی روز سے طالبان اور افغان سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں جاری تھیں اور اس لڑائی میں زمینی افواج کی معاونت کے لیے فضائی کارروائی کی گئی تاہم غلطی سے اس کا نشانہ افغان فورسز کے اہلکار ہی بن گئے۔
ہلمند کے گورنر حیات اللہ حیات نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ افغان فضائیہ کی بمباری کے نتیجے میں 10 اہلکار ہلاک اور 9 زخمی ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، یہ فضائی حملہ اس جگہ کیا گیا جہاں گزشتہ کئی روز سے طالبان کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔
خیال رہے کہ دو ماہ قبل اسی ضلع میں امریکی فضائیہ کی بمباری سے 16 افغان اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ ہلمند کے ضلع گرشک کے زیادہ تر علاقوں پر طالبان کا کنٹرول ہے۔
قالب وردپرس
قومی دن پر چین میں شاندار تقریبات
عوامی جمہوریہ چین نے یکم اکتوبر کو اپنا 68 واں قومی دن منایا، اس حوالے سے دارالحکومت سمیت ملک کی تمام ریاستوں، خود مختار علاقوں اور ہانگ کانگ میں بھی تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔
واضح رہے کہ چین میں طویل عرصے تک خانہ جنگی کے بعد 1949 میں خانہ جنگی کا اختتام ہوا، جس پر عوامی جمہوریہ چین کی بنیاد رکھی گئی۔
چین بھر میں قومی دن کی تقریبات تین تک جاری رہتی ہیں، تاہم کئی ریاستوں اور علاقوں میں یہ تقریبات ایک ہفتے تک بھی جاری رہتی ہیں۔
68 ویں قومی دن کی مرکزی تقریب دارالحکومت بیجنگ کے ’تیامان اسکوائر‘ پر ہوئی، جہاں حال ہی میں 50 میٹر چوڑے اور 17 میٹر طویل ’فلاور باسکٹ‘ کو نصب کیا گیا تھا۔
قومی دن کی مرکزی تقریب میں ایک لاکھ 15 ہزار افراد شامل ہوئے۔
تقریبات کا آغاز عوامی جمہوریہ چین کا جھنڈا ہوا میں لہرا کر کیا گیا، تقریبات میں چینی صدر سمیت اعلیٰ سرکاری عہدیداروں اور غیر ملکی مندوبین نے بھی شرکت کی۔
قومی دن کی مناسبت سے چین بھر میں بھی سرکاری و نجی سطح کی تقریبات منعقد ہوئیں، جب کہ ہانگ کانگ میں قومی دن پر مظاہرے دیکھنے میں آئے۔
ہانگ کانگ میں ہونے والے مظاہروں میں چینی انتظامیہ سے آزادی کا مطالبہ کیا گیا۔
خیال رہے کہ ہانگ کانگ خود مختار ہے، مگر چینی حکومت کا وہاں پر عمل دخل ہے۔
قالب وردپرس
عالمی یوم قلب: کہیں آپ بھی امراض قلب کا شکار تو نہیں؟
دنیا بھر میں بے شمار افراد کو موت کا نشانہ بنانے والے مختلف امراض قلب کے بارے میں آگاہی اور بچاؤ کے لیے آج عالمی یوم قلب منایا جارہا ہے۔
دل کا عالمی دن یعنی ورلڈ ہارٹ ڈے منانے کا مقصد لوگوں کو امراض قلب کی وجوہات، علامات، بروقت تشخیص، علاج اور احتیاطی تدابیر سے آگاہ کرنا ہے۔
دل کے عارضے کی ایک بڑی وجہ معلومات کی کمی، تمباکو نوشی، شوگر، بلند فشار خون، آرام پسندی، غیر متحرک طرز زندگی، موٹاپا، بسیار خوری اور باقاعدگی کے ساتھ ورزش نہ کرنا ہے۔
ویسے تو امراض قلب کی ایک عام علامت سینے میں تکلیف ہونا ہے۔ سینے میں شدید تکلیف ہونے کی صورت میں ہی ہم ہارٹ اسپیشلسٹ کے پاس جاتے ہیں۔ لیکن اس میں بعض دفعہ اتنی دیر ہوجاتی ہے کہ ہمارے دل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ جاتا ہے اور نتیجتاً ہمیں تکلیف دہ آپریشنز سے گزرنا پڑتا ہے۔
آج عالمی یوم قلب کے موقع پر ہم آپ کو ایسی خاموش علامات سے واقف کروا رہے ہیں جو دل کی خرابی کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور اگر آپ میں ان میں سے کوئی بھی علامت موجود ہے تو آپ کو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنے کی ضرورت ہے۔
شدید تھکن کو ہم مشقت طلب کاموں اور نیند کی کمی کا نتیجہ خیال کرتے ہیں۔ لیکن ماہرین کے مطابق اگر آپ شدید تھکن کا شکار رہتے ہیں تو یہ امراض قلب کی طرف ایک اشارہ ہے۔
یہ اس بات کی علامت ہے کہ آپ کے دل کو پورے جسم میں آکسیجن فراہم کرنے میں سخت جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے۔ اسی وجہ سے آپ کا جسم تھکن کا شکار ہوجاتا ہے۔
بہت زیادہ سفر کرنے والے افراد یا حاملہ خواتین میں پیروں کی سوجن ایک عام بات ہے۔ لیکن اگر آپ کا شمار ان دونوں میں نہیں ہوتا پھر بھی آپ کے پاؤں سوجن کا شکار ہیں تو آپ کو فوراً کسی ماہر امراض قلب سے رجوع کرنے کی ضرورت ہے۔
اگر آپ کو چلنے پھرنے اور کام کرنے کے دوران جوڑوں میں تکلیف کا سامنا ہے اور آرام کرنے کے بعد یہ ٹھیک ہوجاتا ہے تو یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آپ کی دل کی رگوں میں کچھ گڑبڑ ہے اور یہ ٹھیک سے اپنا کام انجام نہیں دے رہیں۔
آپ نے اکثر اوقات جم میں وارننگ سائن لکھے دیکھے ہوں گے کہ بھاگنے، سائیکلنگ کرنے یا ورزش کرنے کے دوران آپ کو چکر آنے شروع ہوجائیں تو فوراً اپنی ورزش روک دیں۔ جسم کی حرکت کے دوران چکر آنا امراض قلب کی واضح علامت ہے۔
ڈپریشن آج کل کے دور میں ایک عام بیماری بن گئی ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈپریشن دل کی تکلیف کی علامت بھی ہوسکتی ہے۔
کیا آپ کو اکثر سر میں درد کی شکایت کا سامنا رہتا ہے؟ ماہرین کے مطابق یہ امراض قلب کی ایک علامت ہو سکتی ہے۔ دل کے 40 فیصد مریضوں کو اکثر سر درد کی شکایت رہتی ہے۔
اکثر افراد کو رات سوتے میں اپنے دل کی دھڑکن بھی سنائی دیتی ہے۔ اس سے نجات کے لیے سونے کی پوزیشن تبدیل کرلینا ہی کافی نہیں بلکہ یہ دل کے والو میں خرابی کی علامت ہے اور اس کا شکار افراد کو ڈاکٹر سے رجوع کرنے کی ضرورت ہے۔
امراض قلب سے بچنے کا سب سے آسان طریقہ تو باقاعدگی سے ہلکی پھلکی ورزش کرنا اور فعال زندگی گزارنا ہے۔
پھلوں اور سبزیوں کا استعمال دل و دماغ کو صحت مند رکھتا ہے جبکہ تیز مرچ مصالحے اور چکنائی والے کھانے امراض قلب سمیت متعدد بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔
ایک تحقیق کے مطابق دن کے آغاز میں ناشتے میں زیادہ کیلوریز لینا اور رات کے وقت کم کھانا کھانا امراض قلب، فالج اور خون کی شریانوں سے متعلق دیگر کئی امراض کا خطرہ کم کردیتا ہے۔
سبز چائے بھی ذیابیطس اور دل کے امراض سمیت کئی بیماریوں سے بچاؤ میں مدد فراہم کرتی ہے۔
روزانہ خشک میوہ جات کا معمولی مقدار میں استعمال دل کے امراض سے بچاؤ اور کولیسٹرول کی سطح میں کمی لانے میں مفید ہے
قالب وردپرس
اوگرا کی پیٹرول2روپے 36پیسے مہنگا کرنے کی تجویز
اسلام آباد : حکومت کی جانب سے عوام پر ایک اور کاری وار کی تیاری کرلی گئی ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں انیس روپے تینتیس پیسے تک کا اضافہ تجویز کردیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق مہنگے ٹما ٹر پیاز کی قیمت سے بے حال عوام پر پیٹرول بم گرانے کی تیاری کر لی گئی ہے، اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری ارسال کردی ہے۔
سمری میں سفارش کی گئی ہے کہ یکم اکتوبر سے پیٹرول دو روپے چھتیس پیسے فی لیٹر مہنگا کیا جائے، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں دو روپے بیس پیسےفی لیٹر اضافہ کیا جائے ۔
اوگرا نے مٹی کا تیل انیس روپے سرسٹھ پیسے فی لیٹر مہنگا کرنے اور لائٹ ڈیزل کی قیمت میں بھی چودہ روپے دس پیسے کا اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔
دوسری جانب وزارت خزانہ کو یہ بھی تجویز دی ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی اور ٹیکس کی شرح کم کرکے قیمتوں کو پرانی سطع پر برقرار رکھا جائے۔
وزیر خزانہ وزیر اعظم کی منظوری کے بعد حتمی اعلان کل کریں گے، نئی قیمتوں کا اطلاق یکم اکتوبر سے ہوگا۔
یاد رہے کہ گذشتہ ماہ کومت نے پیٹرول کی قیمت میں 2 روپے فی لیٹر اضافہ کردیا۔
اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 15 روپے فی لیٹر اضافے کی سفارش کی تھی ، جس کے بعد وزارت خزانہ نے پیٹرول کی قیمت میں 2 روپے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔
قالب وردپرس
ریپ ہونے والی خاتون کے کردار پر عدالت کی تنقید
انڈیا کے صوبے پنجاب میں ہریانہ کی ہائی کورٹ کے تین رکنی بینچ نے لا کالج میں زیر تعلیم تین طالب علموں کو اپنی ساتھی طلبہ کے ساتھ گینگ ریپ اور دھوکہ دہی کے جرم میں ضمانت پر رہا کر دیا۔
رواں سال مارچ میں ایک ذیلی عدالت نے ان ملزمان پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے سزائیں سنائی تھیں۔
ہردیک سکری اور کرن چابارہ کو 20 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ اُن کے دوست وکاس گراج کو سات سال کی سزا دی گئی تھی۔ ان تینوں افراد کو دیگر جرائم میں بھی سزائیں سنائی گئی تھیں۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق نومبر 2013 میں سکری کی ایک نوجوان لڑکی کے ساتھ دوستی تھی جو ایک مہینے کے بعد ختم ہو گئی لیکن سکری نے ڈیڑھ سال تک اُس لڑکی کو برہنہ تصاویر کے ذریعے بلیک میل کیا اور نہ صرف اُسے ریپ کیا بلکہ اُسے مجبور کیا کہ وہ اُس کے دو دوستوں کے ساتھ بھی ہم بستری کرے۔
ملزمان نے ذیلی عدالت کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی اور عدالت سے استدعا کی کہ جب تک مقدمے کی سماعت جاری ہے انھیں ضمانت پر رہا کیا جائے۔ جس کے بعد عدالت نے اُن کی استدعا منظور کرتے ہوئے انھیں ضمانت پر رہا کر دیا ہے۔
ایک ایسے ملک میں جہاں ہزاروں افراد چھوٹے جرائم کے مرتکب قرار دیے جانے پر جیلوں میں قید ہیں اور عرصہ دراز سے اُن کے مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، یہ بات کافی حیران کن ہے کہ گینگ ریپ اور دھوکہ دہی جیسے سنگین مقدمات میں ملوث افراد کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔
اس مقدمے میں سب سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ 12 صفحات پر مبنی عدالتی حکم نامہ اُن بیانات پر مبنی ہے، جس میں انڈین ذرائع ابلاغ میں متاثرہ خواتین کو بدترین طریقے سے رسوا کیا گیا۔
خاتون کو شراب پینے، سگریٹ نوشی اور منیشیات استعمال کرنے، اپنے کمرے میں کونڈم رکھنے کے ساتھ ساتھ اس زیادتی کو اپنے والدین سے چھپانے پر انھیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ 'متاثرہ خاتون کے خدشات، سوسائٹی کے مطالبات، قانون اور اصلاح اور بحالی کے قوانین کو یکجا کر کے فیصلہ کریں۔'
Getty Images
فیصلے کے مطابق 'تین نو عمر افراد کو طویل عرصے کے لیے جیل میں بند کرنا اُن کی شخصیت کو مزید خراب کر دے گا۔ قید میں وہ تعلیم حاصل نہیں کر سکتے ہیں جس کے وجہ سے وہ عام افراد کی طرح سوسائٹی کا حصہ نہیں بن پائیں گے۔'
ممکنہ طور پرعدالتی فیصلے پر انڈیا میں شدید احتجاج کیا جائے گا اور سوشل میڈیا اس پر کافی غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔ متاثرہ خاتون کے دوستوں نے آن لائن پٹیشن کے ذریعے اس فیصلے کی بھرپور مذمت کی ہے۔
سپریم کورٹ کی وکیل کرونا نیندے نے بی بی سی کو بتایا کہ 'فیصلے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی ایسا جواز نہیں تھا کہ اُس خاتون کو ریپ نہ کیا جائے۔'
انھوں نے کہا کہ 'اس طرح کے فیصلوں سےخواتین کے لیے مساوی حقوق کی جدوجہد مزید مشکل ہو گئی ہے۔'
مس ننیدے نے کہا کہ اس عدالتی حکم میں رضامندی کی قانونی تعریف نہیں کی گئی ہے اور سپریم کورٹ کے فیصلے میں یہ بالکل واضح ہے کہ 'ایسی خاتون جو پہلے رضامند ' ہو وہ بھی اس بارے میں اپنی رضامندی واپس لے سکتی ہے اور اُس کے بعد جنسی تعلق ریپ کہلائے گا۔
معاشرے میں ریپ اور جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی خواتین پر الزامات عائد کرنا غیر معمولی بات نہیں ہے۔ متاثرہ خواتین پر اکثر مردوں سے دوستی، رات دیر گئے تک گھر سے باہر رہنے اور جینز پہنے، موبائل فون پر بات کرنے جیسے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔
سنہ 2003 سے پہلے انڈیا میں قانون بھی متاثرہ خواتین کو رسوا کرنے کی اجازت دیتا تھا۔
انڈیا میں گواہی کا ایکٹ 1872 کے شق 155 کے مطابق بنیادی طور ریپ کے مقدمات میں ملزم یہ ثابت کر سکتا تھا کہ متاثرہ خاتون 'غیر اخلاقی کردار کی مالک ہے۔'
سنہ 1980 میں لا کمیشن نے اس قانون میں ترمیم کی تجویز دی اور سنہ 2000 میں کمیشن نے اس شق کو نکالنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ اس سے متاثرہ خاتون کی 'عزتِ نفس اور ساکھ' تباہ ہو رہی ہے۔
دہائیوں کے بعد اب بھی متاثرہ خاتون کو رسوا کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
قالب وردپرس
ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟
https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...
-
https://goo.gl/jsbpLD لاہور ( نیوز ڈیسک) فلم پرچی کی مرکزی کاسٹ میں شامل حریم فاروق اور علی رحمان خان نے ٹرک اڈے پر فوٹو شوٹ کرایا جس کی تصا...
-
https://is.gd/3wsREo یہ جینز 1893ء میں ایک اسٹور کے مالک نے خریدی تھیں۔ فوٹو : گلف نیوز واشنگٹن: امریکا میں 125 سال پرانی جینز کی دو پتلونیں...
-
https://is.gd/Jbk441 دلہن کے والد نے جہیز کی بقیہ رقم کا فوری مطالبہ کیا جس پر دلہا غصے میں آگیا۔ فوٹو: انٹرنیٹ متحدہ عرب امارات کے ایک شہری...