Friday, 29 September 2017

بنگلہ دیش: روہنگیا مسلمانوں کی کشتی ڈوب گئی، 15 جاں بحق

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹریس نے میانمار سے بنگلہ دیش ہجرت کرنے والے روہنگیا مسلمانوں سے بھری کشتی الٹ جانے کے نتیجے میں 15 افراد کے ہلاک اور دیگر کے لاپتہ ہونے کے بعد ریاست سے مہاجرین کے معاملے کو فوری طور پر حل کرنے پر زور دیا ہے۔




فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق روہنگیا مسلمانوں کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ہونے والے اجلاس کے دوران جہاں امریکا نے میانمار کی حکومت کو مذکورہ معاملے پر تنقید کا نشانہ بنایا وہیں بیجنگ اور ماسکو نے میانمار حکومت کی حمایت کی۔


رپورٹس کے مطابق میانمار کی ریاست رخائن میں فوج کی کارروائیوں کے آغاز کے بعد گذشتہ ماہ 5 لاکھ کے قریب روہنگیا مسلمانوں نے بنگلہ دیش کی جانب ہجرت کی۔


گذشتہ رات پیش آنے والے واقعے کے حوالے سے عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش آنے والی روہنگیا مسلمانوں کی کشتی گذشتہ رات سمندر میں آنے والی طغیانی کے باعث الٹ گئی، جہاں موسم تیز بارشوں اور اور ہواؤں کے باعث خراب ہوا تھا۔


مقامی پولیس افسر انسپکٹر محمد کائی کسلو کے مطابق واقعے کے بعد 15 لاشیں، جن میں 10 بچے اور 4 خواتین بھی شامل ہیں، ساحل سمندر سے منتقل کی گئی ہیں تاہم انہوں نے مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا۔


ایک مقامی دکاندار نے بتایا کہ ’کشتی دیکھتے ہی دیکھتے آنکھوں کے سامنے الٹ گئی اور کچھ ہی دیر بعد سمندری لہروں نے لاشیں ساحل پر منتقل کردیں‘۔


انٹر نیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (آئی او ایم)، جو امدای کاموں کی نگرانی کررہی ہے، کے مطابق واقعے میں بچ جانے والے ایک شخص نے بتایا کہ کشتی اس وقت الٹ گئی جب اسے سیکیورٹی فورسز کے زیر انتظام علاقے سے دور ایک مقام پر لنگر انداز کرنے کی کوشش کی جارہی تھی۔


آئی او ایم کے ترجمان ہالا جابر نے بتایا کہ ’یہ انتہائی درد بھری داستان ہے، مذکورہ کشتی پر سیکڑوں افراد موجود تھے‘۔


واقعے میں بچ جانے والے ایک اور شخص نے بتایا کہ کشتی الٹ جانے کی وجہ سے اس کی بیوی اور بچہ ڈوب گئے۔ مہاجرین سے متعلق اقوام متحدہ کی ایجنسی (یو این ایچ سی آر) کے مطابق اب تک 27 افراد کو بچایا جاسکا ہے جس میں 8 خواتین اور 7 بچے بھی شامل ہیں۔


دوسری جانب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 15 میں سے 7 ارکان نے میانمار پر اجلاس طلب کرنے کے لیے کہا تھا اور اس حوالے سے منعقدہ اجلاس کے دوران یہ عالمی ادارہ ایک مشترکہ قرار داد لانے میں ناکام رہا۔


اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹریس نے زور دیا کہ فوجی آپریشن کو فوری طور پر روکا جائے اور تنازع کا شکار علاقے تک انسانی بنیادوں پر رسائی دی جائے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ’منظم انداز میں تشدد‘ کی وجہ سے میانمار کے وسطی علاقے رخائن میں کشیدگی پیدا ہوئی جس کی وجہ سے ڈھائی لاکھ مسلمان ہجرت پر مجبور ہوئے۔


انہوں ںے اعلان کیا کہ اس حوالے سے ڈونر کانفرنس 9 اکتوبر کو منعقد کی جائے گی۔


خیال رہے کہ گذشتہ ماہ 25 اگست کو جب میانمار میں آراکان روہنگیا آرمی کی جانب سے سرکاری فورسز پر حملے کے بعد ریاست رخائن میں مسلمانوں کے خلاف کارروائی شروع کی گئی، تو سیکڑوں مسلمان جاں بحق ہوئے جبکہ لاکھوں کی تعداد میں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوگئے تھے۔


میانمارکی فوج کی جانب سے جاری اطلاعات کے مطابق جھڑپوں اور کارروائیوں کے دوران 370 روہنگیا عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا گیا جبکہ 13 سیکیورٹی فورسز، 2 سرکاری اہلکار اور 14 عام افراد بھی مارے گئے۔


یاد رہے کہ 2012 میں ہونے والے فرقہ وارانہ واقعات میں 200 افراد ہلاک اور ایک لاکھ 40 ہزار کے قریب افراد بے گھر ہوگئے تھے، جس کے مقابلے میں تازہ واقعات بدترین ہیں۔


میانمار فوج کی جانب سے الزام عائد کیا گیا کہ روہنگیا افراد کی جانب سے چھوٹے پیمانے پرحملے کیے جارہے ہیں جس کے بعد فوج کی جانب سے سخت کارروائی کی گئی۔


تاہم بنگلہ دیش کی جانب ہجرت کرنے والے لاکھوں روہنگیا مسلمان اس کے برعکس میانمار کی فوج کے ظلم کی کہانیاں سنارہے ہیں جبکہ مذکورہ علاقوں میں عالمی میڈیا کی پہنچ بھی نہیں ہے۔





























































































































































































































































قالب وردپرس

No comments:

Post a Comment

ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟

https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...