Thursday, 12 October 2017

بہت خوب، ابوبکرؓ۔۔۔!


نماز کاوقت ہو گیا ہے اور پیغمبر خداﷺ گھر میں بیمار ہیں، حضرت بلالؓ ابوبکر ؓ سے کہنے لگے، نماز کا وقت ہو گیا ہے، رسول اللہﷺ بھی موجود نہیں ہیں تو کیا میں اذان و اقامت کہہ دوں اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں؟ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ٹھیک ہے اگر تم چاہو،حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اذان دی، پھر اقامت کہی اور صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ دوسری یا تیسری بار نماز پڑھانے کے لئے آگے بڑھے جب نبی کریمﷺ کو کچھ خفت ہوئی تو مسجد تشریف لے آئے۔


حضورﷺ نے دیکھا کہ لوگ نماز پڑھ کر فارغ ہو چکے ہیں، آپﷺ نے پوچھا کیا تم نے نماز پڑھ لی؟ لوگوں نے کہا جی ہاں! حضورﷺ نے پوچھا تمہیں کس نے نماز پڑھائی؟ لوگوں نے کہا حضرت ابوبکرؓ نے. حضورﷺ نے مسکراتے ہوئے فرمایا تم نے اچھا کیا، بہت خوب، جس قوم میں ابوبکرؓ موجود ہوں پھر اس کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ ان کے علاوہ کوئی دوسرا امامت کرے۔


No comments:

Post a Comment

ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟

https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...