Tuesday, 3 October 2017

جوان ملازمہ نے بچے کے ساتھ ایسا کیا کیا کہ بچہ بار بار اس کے پاس جانے لگا

جوان ملازمہ نے بچے کے ساتھ ایسا کیا کیا کہ بچہ بار بار اس کے پاس جانے لگا…

ہر صبح کی طرح آج بھی میں سو کر اٹھا تو میری نظر بلند بالا پہاڑوں پر پڑی، جو سر سبز شاداب اپنی خوبصورتی کا نظارہ پیش کر رہے تھے۔ لہ لہاتے پھول ہر روز کی طرح آج بھی میری نظروں کو خیرا کر رہے تھے۔ میں نے انگڑائی لی اور بیڈ سے اٹھ کر کھڑکی کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا۔ یہ میرا روز کا معمول تھا۔ پہاڑوں کی اوٹ سے سورج نکلنے کا نظارہ مجھے بچپن سے ہی دل کش لگا کرتا تھا اور میں ہر روز سورج کو ویلکم کیا کرتا تھا اسکے بعد تیار ہو کر سکول کے لئے نکل جایا کرتا تھا۔
میرا سکول گھر سے کافی دور تھا۔ اس لئے میں گھر سے ایک گھنٹہ پہلے نکلتا۔ اور آج بھی میں ناشتہ کر کے ایک گھنٹہ پہلے نکل گیا۔ گاّؤں کے انچے نیچے راستے سے ہوتا ہوا میں درختوں اور پودوں سے اٹکھیلیاں کرتا میں اس مقام پر پہنچ گیا جہاں سے وہ گزرا کرتی تھی۔ پر آج وہ نظر ہی نہیں آ رہی تھی، میں کچھ دیر وہاں رک گیا تو وہ دور سے آتی دیکھائی دی، میں اسے دیکھتے ہی کھڑا ہو گیا۔ وہ ہر روز کی طرح آج بھی بے حد حسین لگ رہی تھی جیسے کوئی ابسرا آسمانوں سے زمیں پر اتر آئی ہو۔ اسکے بالوں پر بچوں کی طرح بینڈ ہوتا تھا جس میں تازہ پھول ہوا کرتے تھے ۔ کشمیر کی وادیوں میں ایسے بینڈ بچے پہنا کرتے تھے مگر وہ ہمیشہ پہنا کرتی تھی اور وہ بینڈ اس پہ ججتا بھی بہت تھا، خیر وہ چلتی ہوئی میرے پاس سے گزری میں بھی ہر روز کی طرح اسکے ساتھ ہو لیا۔ پھر ہر روز کی طرح باتیں کرتے ہوئے سکول تک پہنچ گئے یہ پندرہ منٹ بہت جلدی ختم ہو جایا کرتے تھے جو ہم اکٹھے جاتے تھے ۔ پھر وہ اپنی کلاس اور میں اپنی ،،،
ہم ایسے ہی روز ملا کرتے تھے اور ان پندرہ منٹ میں ڈھیر ساری باتیں کیا کرتے تھے۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے کیسے موسم بدلتے گئے اور ہم میٹرک کے امتحان دینے کے قابل ہوگئے ۔ آج ہمارہ پہلا پیپر تھا انگلش کا اور وہ میرے سامنے معصوم سی شکل بنائے بیٹھی تھی۔ اور ہر روز کی طرح آج بھی تازہ پھولوں کا بینڈ اسکے بالوں کی خوبصورتی بھرا رہا تھا۔
“ ہارون مجھے کچھ نہیں آتا آج میں نے فیل ہو جانا ہے۔ “ اسنے چہرے پر بے حد معصومیت کو اکٹھا کر کے کہا۔
“ میں ہوں نہ میرے ہوتے ہوئے کیوں پریشان ہوتی ہو ؟ “ میں نے ہر بار کی طرح اسے دلاسہ دیا۔
پھر رول نمبر سلپ لگ گئی ہم دونوں اپنے اپنے رول نمبر دیکھ کر بیٹھ گئے اسکا نمبر میرے ساتھ والی جگہ پر آیا تھا یوں میں نے اسے سارا پیپر آسانی سے کروا دیا۔
پوری کلاس ہمارے پیار سے واقف تھی اور میرے گھر والے بھی جانتے تھے کہ میں دوسرے گاؤں کی کسی لڑکی کو پسند کرتا ہوں۔ اسکے گھر والے اس بات سے بے خبر تھے۔ جس دن آخری پیپر تھا تب اسنے اور میں نے خط پر رابطہ رکھنے کا وعدہ کیا اور اپنے اپنے کھر کی راہ لی۔
اسکے گاؤں میرا ایک دوست رہا کرتا تھا میں خط اسکے پتہ پر ارسال کرتا اور اسکی بہن جا کر اسے خط دے آتی۔ اور وہ خط لکھ کر اسکی بہن کو دے دیتی اور میرا دوست اسے مجھے پوسٹ کر دیتا یوں ہم مسلسل رابطہ میں رہے تھے

No comments:

Post a Comment

ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟

https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...