Saturday, 7 October 2017

پشاور میں ڈینگی سے صورتحال بدستور تشویشناک

ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود صوبہ خیبر پختونخواہ میں ڈینگی کے مرض پر پوری طرح سے قابو نہیں پایا جا سکا ہے جب کہ اس دوران ڈینگی سے متاثرہ 45 مریض انتقال کر چکے ہیں اور ہزاروں اب بھی اس مرض میں مبتلا ہیں۔




محکمہ صحت کی بھرپور کوششوں کے باعث صوبے کے ایک درجن کے لگ بھگ اضلاع میں ڈینگی کو وبائی صورت اختیار کرنے سے تو روک لیا گیا لیکن ضلع پشاور میں صورتحال اب بھی تشویشناک ہے۔


حالیہ ہفتوں میں نوشہرہ، ہنگو، شانگلہ، بونیر اور صوابی سمیت 12 مختلف اضلاع سے ڈینگی کے قابل ذکر کیسز رپورٹ ہوئے تھے لیکن حکام کے بقول وہاں موسم تبدیل ہونے کے باعث صورتحال اب قابو میں ہے اور مزید لوگوںکے ڈینگی سے متاثر ہونے کے امکانات کم ہیں۔


اطلاعات کے مطابق پشاور سمیت 13 اضلاع سے 60 ہزار سے زائد افراد کے طبی تجزیے کیے گئے جن میں سے 12632 میں ڈینگی کی تشخیص ہوئی اور ان میں سے ساڑھے گیارہ ہزار سے زائد کا تعلق ضلع پشاور سے بتایا جاتا ہے۔


اس ضلع میں سب سے زیادہ متاثرہ علاقے تہکال اور پشتہ خرہ کے ہیں اور مرنے والے 45 مریضوں میں سے بھی اکثریت ان ہی دو علاقوں کے رہنے والوں کی تھی۔


صوبائی محکمہ صحت کی ایک عہدیدار ڈاکٹر شاہین نے ہفتہ کو میڈیا کو بتایا کہ 90 فیصد سے زائد کیسز اب بھی ضلع پشاور سے ہی رپورٹ ہو رہے ہیں جب کہ تمام متعلقہ محکمے صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے بھرپور کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔


"97.5 فیصد کیسز اب بھی پشاور میں ہی ہیں باقی اضلاع سے بھی کیسز آئے تھے لیکن موسم تبدیل ہو رہا ہے تو وہاں یہ رجحان کم ہو رہا ہے کم از کم ان اضلاع کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں جو مریض ہیں وہ تو ہیں لیکن مزید بڑھنے کا بہت زیادہ امکان نظر نہیں آتا۔"


ان کا کہنا تھا کہ محکمہ صحت کی ٹیمیں باقاعدگی سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کر کے وہاں صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور پشاور میں رونما ہونے والے ڈینگی کے مسئلے کے پیش نظر چھ ماہ کے لیے ایک منصوبہ تیار کیا گیا ہے جس کے تحت اس موجودہ صورتحال اور مستقبل میں ایسی کسی وبا کو پھیلنے کے لیے اقدام کیے جائیں گے۔


پنجاب کے محکمہ صحت کی طرف سے بھی ڈینگی کے مریضوں کے علاج کے لیے طبی ٹیم پشاور آئی تھی جس نے ہزاروں افراد کے طبی تجزیے کیے اور ان میں ادویات بھی تقسیم کیں۔


محکمہ صحت نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ڈینگی پر قابو پانے کے لیے متعلقہ محکموں کی مدد کریں اور اپنے گھروں سمیت گردوپیش کو صاف رکھتے ہوئے حفاظتی تدابیر پر عمل کریں





























































































































































































































































قالب وردپرس

No comments:

Post a Comment

ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟

https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...