https://goo.gl/NeZR7W
ٹورنٹو: کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کا کہنا ہے کہ یہ بتانا حکومتوں کا کام نہیں کہ خواتین کیا پہنے اور کیا نہیں، ہماری حکومت قانون کے اثرات کا مطالعہ کر رہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے کیوبک میں نقاب کی پابندی کا قانون منظور ہونے پر درعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہ یہ بتانا حکومتوں کا کام نہیں کہ خواتین کیا پہنے اور کیا نہیں، میں ہمیشہ کینیڈین شہریوں کے حقوق اور آزادی کے لئے کھڑے رہوں گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ اس بارے میں بہت سے ہفتوں اور مہینوں پہلے سے بات چیت ہو رہی ہے، وفاقی حکومت کے طور پر ہم اپنی ذمہ داریاں سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور دیکھ رہے اس کا کیا اثر ہے۔
قانون کو چیلنج کرنے کے حوالے سے ٹروڈو کا بار بار صرف یہی کہنا تھا کہ اوٹاوا قانون کے اثرات پر مطالعہ کر رہی ہے۔
یاد رہے چند روز قبل کینیڈا کے صوبے کیوبک میں پبلک سروس فراہم کرتے ہوئے یا عوامی سہولت سے فائدہ اٹھانے والی خواتین پر نقاب پہننے پر پابندی عائد کردی گئی تھی، انون کے تحت بیوروکرٹس، پولیس اہلکاروں، اساتذہ، بس ڈرائیوروں، عوامی اسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹروں اور نرسوں سب کو کام کے دوران اپنا چہرہ دکھانا ہوگا۔
واضح رہےکہ فرانس،آسٹریا،بیلجیئم،ڈنمارک،روس،اسپین،سوئٹزرلینڈ اور ترکی میں پہلے ہی عوامی مقامات پر نقاب پہننے پر پابندی ہے جبکہ نیدرلینڈز میں بھی نقاب پر پابندی کا قانون زیرغور ہے۔
خیال رہے کہ کچھ سالوں میں کینیڈا کے صوبے کیوبک میں اسلام فوبیا کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے ، رواں سال جنوری میں کیوبک مسجد میں فائرنگ سے 6 نمازی شہید ہوگئے تھے۔
Urdu Khabrain
Pakistan World News, Pakistani News, Top World News, Urdu Khabrain, Urdu News, Viral World News, World Khabrain, World News, World Urdu News, انٹرنیشنل
No comments:
Post a Comment