Tuesday, 14 November 2017

فیس بُک الیکشن ہروا سکتی ہے

https://goo.gl/RrqZ4y
امریکی انتخابات میں روس کی مداخلت کے نتیجے میں پڑنے والے نتائج کی چھان بین ہوتی رہی ہے۔ اس سلسلے میں امریکی صدر نے ایف۔بی۔آئی کے ڈائریکٹر کو بھی فائر کردیا تھا۔ اسی دوران میں فیس بک نے چند ڈاکومنٹس شائع کیے جو یہ بتاتے ہیں کہ کس طرح سے الیکشن کے دوران ایک مہم چلائی جا سکتی ہے جو عام ووٹرز کو کفیوژ کرسکتی ہے۔ اور خاص کر جہا ں جیتنے کا مارجن قریب قریب ہو انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوا جاسکتا ہے۔



فیس بک نے حال ہی میں امریکی الیکشن میں مبینہ غیر ملکی مداخلت کی چھان بین کے لیے انجنئیرز ، تجزیہ نگاروں اور ڈیٹا سائنسدانوں کی ایک ٹیم تشکیل دی۔ انہیں جعلی گروپ اور کامنٹس ملے اور پوسٹنگز ملی جس کے پیچھے کوئی گمنام ہیکر گروپ تھا۔ مذکورہ رپورٹ کے مصنف نے امریکی ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل انٹیلی جینس کی رپورٹ کو رد نہیں کیا جس نے روس پر الزام لگایا ہے کہ اس نے امریکی الیکشن میں آن لائن مہم جوئی کی ہے۔
مذکورہ رپورٹ میں درج ہے کہ بہت بڑی تعداد میں فیک اکاوئنٹس کے ذریعے سیاسی پراپیگنڈا کیا جاتا ہے اور ووٹروں کو گمراہ کیا جاتا ہے۔ البتہ فیس بک کے اپنے پرائیویسی قوانین کی وجہ سے ساری تفصیل اور مواد امریکی انٹیلی جینس کو بھی نہیں دیا جا سکا۔

آزادی، انقلاب مارچ اور متاثرین

’اون گول‘ کے بعد واپسی کا راستہ کیا ہے
آکسفورڈ یونیورسٹی میں ایک پراجیکٹ پر کام کیا گیا اور اس بات کو بہتر طریقے سے سمجھا گیا کہ کس طرح مس انفارمیشن ٹویٹر کے ذریعے تبدیلی لاسکتی ہے۔ فرانس کے حالیہ الیکشن میں یہ دیکھا گیا کہ ایک پروفیشل صحافی کی نیوز پوسٹ پر کم از کم دو فیک پوسٹیں کی جاتی رہی ہیں۔ اسی طرح اسی سال جرمنی کے صدارتی الیکشن میں جو کسی بھی لحاظ سے متنازعہ نہیں تھا۔ جرمنی والے ہر چار سچی خبروں پر ایک فیک خبر شئیر کرتے رہے ہیں۔ امریکہ کی ریاست مچی گین میں امریکی صدارتی الیکشن کے ابتدائی مرحلے میں تقریباً ہر ایک سچی خبر کے ساتھ فیک یعنی جھوٹی خبر بھی پوسٹ ہوتی رہی ہے۔
فیس بک کو تو کوئی مسلہ درپیش نہیں ہے کہ معلوم کرے کہ کون سے اکاوئنٹس بنے ہیں؟ کہاں سے اپریٹ کیے گیے ہیں؟ اور مذکورہ یوزرز امریکی الیکشن میں کیا کچھ کرتے رہے ہیں؟ اس طرح کی سہولت انٹیلی جنس والوں کے پاس نہیں ہے۔ فیس بک کہتی رہی ہے کہ فیک اکاونٹس امریکی سیاسی سرگرمیوں کا بہت مختصر سا حصہ رہا ہے۔ لیکن فیس بک پر سیاسی سرگرمی اگرچہ بہت کم ہی کیوں نہ ہو۔ الیکشن پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ ان اکاؤنٹس سے ہوئی ہے جو روس سے اپریٹ ہوئے ہیں۔ یا الیکشن سے دو تین دن پہلے سے جعلی اکاؤنٹس اور جعلی خبروں نے کلوز مارجن کی سٹیٹس میں اپنا اثر دکھایا ہے؟
اگر صدر ٹرمپ کی الیکشن مہم اور روس کی مداخلت کے درمیان ربط ہے تو فیس بک اس کو بے نقاب کرسکتی ہے۔ یہ بات تو عام فہم ہے کہ بڑے پیمانے پر پراپیگنڈا مہم الیکشن میں مداخلت کہی جا سکتی ہے۔دنیا بھر میں الیکشن ہونے ہیں۔ اور جن ممالک میں تقریباً ہر شہری سوشل میڈیا استعمال کرتا ہے وہاں خاص کر سوال یہ ہے کہ جمہوریت کو سبوتاز ہونے سے کیسے بچایا جائے؟ تو فیس بک سے کہا جائے کہ وہ اس سلسلے میں راست اقدام کرے اور اس مسلے کا تدارک نہ سہی خاطر خواہ توڑ نکالے۔

ہاشم خان: سکواش میں پاکستان کا پہلا تعارف

ایس پی کی 85اسامیاں خالی ، ہر ین انور راجہ سابق وزیر مملکت
فیس بک والوں کو یورپ میں کچھ جرمانے ہوئے ہیں۔ لیکن جرمانے ملین ڈالرز کی مد میں ہوئے ہیں جو فیس بک کے سمندر میں تنکے کے برابر بھی نہیں ہے۔ باقی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی طرح فیس بک کی بھی اولین ترجیح گروتھ اور منافع ہے۔ ہر وہ اقدام جو فیس بک یوزرز کے لیے پیچیدگی اور رکاوٹ پیدا کرے گا۔ فیس بک کی مقبولیت اور استعمال کرنے والوں میں ڈرامائی ردو بدل کا سبب بن سکتا ہے۔ کمپنی سراسر ایک تجارتی کمپنی ہے جس کی کامیابی بزنس یا تجارت کے میدان میں دور حاضر کی غیر معمولی کامیابی کہی جاسکتی ہے۔رچہ تیسری دنیا کے ملکوں میں انٹرنیٹ کی سہولت کے محدود ہونے کی وجہ سے فیس بک یوزرز کی تعداد ترقی یافتہ ممالک کی نسبت کم ہے لیکن ترقی پذیر ممالک میں سوشل میڈیا سے گمراہ ہونے کا خدشہ اس لیے زیادہ ہے کہ خواندہ افراد جو فیس بک استعمال کرتے ہیں کے لیے فیک اور سچی خبر یا پوسٹ کے درمیان فرق کرنا نسبتاً زیادہ مشکل بات ہے۔ اور یہ بات مانی اور جانی جاتی ہے کہ سکرین کا اپنا ایک کرزمہ ہے۔ سکرین چاہے چھوٹی ہی کیوں نہ ہو دیکھنے اور پڑھنے والے کی رائے اور نقطہ ء نظر پر اثرات مرتب کرسکتی ہے۔ پراپیگنڈا ایک سائنس ہے جس کے اثرات دنیا کے ہر خطے میں مختلف ہیں۔ اگر عوام اعلٰی تعلیم یافتہ ہوں تو پراپیگنڈا سائنس کو سمجھنے میں کافی آسانی ہوسکتی ہے۔ اگر ترقی یافتہ ممالک میں عوام پراپیگنڈے کا اثر لیتے ہیں تو ترقی پذیر ممالک کا اندازہ کرلیں کہ وہاں عوام کو گمراہ کرنا کس قدر آسان ہوسکتا ہے۔



 


قالب وردپرس
Urdu Khabrain
الیکشن, امریکی انتخابات, امریکی صدر, فیس بُک, نیشنل انٹیلی جینس

No comments:

Post a Comment

ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟

https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...