Saturday, 25 November 2017

جن کا خاتون اینکر پر حملہ ویڈیودیکھیں

https://goo.gl/qFzwm7
ماضی قریب میں صرف ایک صحافی ولی خان بابر کے قتل کے مقدمے کا فیصلہ نامساعد حالات میں سنایا گیا جس کے مجرموں کو سزا ملنا ابھی باقی ہے۔
حیات اللہ کے قاتل بھی گرفتار نہیں ہوئے، سلیم شہزاد کے قاتل بھی نہیں گرفتار ہوئے، پاکستان میں اگر ہم صحافیوں نے اپنے ساتھیوں کے لیے آواز نہ اٹھائی اور ان کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے احتجاج نہ کیا تو یاد رکھیں کہ کل تو یہ صحافی تھے جو آج اس دنیا میں نہیں اس کے بعد ہم سب کی باری بھی آ سکتی ہے۔
صحافی اور اینکر مطیع اللہ جان
مگر سوال یہ ہے کہ پاکستان میں صحافیوں کو درپیش بڑے خطرات کیا ہیں؟
صحافی اسد ملک نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’ایک تو یہ ہے کہ خفیہ ایجنسیاں صحافیوں کی بہت زیادہ نگرانی کرتی ہیں۔ آپ کی نقل و حرکت یہاں تک کے آپ کے موبائل فون ٹیپ ہو رہے ہوتے ہیں۔ سب سے زیادہ بڑا خطرہ تو ان سے ہے۔‘
اس کے علاوہ اسد ملک نے بتایا کہ حکومت سے جان کا خطرہ تو نہیں ہوتا مگر ’وہ یہ کرتے ہیں کہ آپ کو ملازمت سے برخاست کروا دیتے ہیں اور ایسی مثالیں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ شدت پسند تنظیمیں یا غیر ریاستی عناصر ہوتے ہیں ان سے بہت زیادہ خطرہ درپیش ہوتا ہے۔

Urdu Khabrain

No comments:

Post a Comment

ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟

https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...