Saturday, 25 November 2017

اینٹی بائیوٹکس استعمال کرنےوالےاحتیاط کریں

https://goo.gl/1FPXSY
لندن:برطانیہ کے طبی ماہرین کا کہناہے کہ زیادہ تر مریضوں کو اینٹی بائیوٹکس تجویز کرنے کے بجائے انھیں آرام کرنے کا مشورہ دیا جانا چاہیے
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق پبلک ہیلتھ انگلینڈ (پی ایچ ای) کا کہنا ہے کہ اینٹی بائیوٹکس کا ہر پانچ میں سے ایک نسخہ غیر ضروری ہوتا ہے کیونکہ کئی بیماریاں خود بخود دور ہوجاتی ہیں۔پی ایچ ای کا کہنا ہے کہ دواؤں کے زیادہ استعمال سے انفیکشنز کا علاج مشکل ہوجاتا ہے اور دوا کے خلاف مزاحمت کرنے والے سپر بگزپیدا ہوجاتے ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق برطانیہ میں ہر سال 5 ہزارافراد دوا کے خلاف مزاحمت کرنے والے انفیکشنز کا شکار ہو کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔پی ایچ ای کے مطابق کھانسی اور حلق کی سوجن خود سے ٹھیک ہونے میں تین ہفتے لگتے ہیں جبکہ اینٹی باییوٹکس اس دورانیہ کو کم کرکے ایک یا دو دن پہ لا سکتی ہے۔پی ایچ ای کے میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر پول کوسفورڈ نے بتایا کہ ہمیں عام طور پر اور عام علامات میں اینٹی باییوٹکس کی ضرورت نہیں ہوتی، ہم میں سے اکثر کو مخلتف اوقات میں انفیکشنز ہوتی ہیں اور ہم اپنے مدافعتی نظام کی وجہ سے ٹھیک ہوجاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مریضوں کو ڈاکٹر کے پاس اینٹی بائیوٹکس کی توقع لے کر نہیں جانا چاہیے۔جو انفیکشنز انسانی جسم برداشت کرسکتا ہے ان میں خوب آرام کرنے، پیرا سٹا مول جیسی درد کش ادوایات استعمال کرنے اورپانی یا جوس زیادہ استعمال کرنے کی تجویز دی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : خوش خوراکی نےبیماری کی دہلیز تک پہنچادیا

یہ بھی پڑھیں :یہ چھوٹی سی جڑی بوٹی کس طرح مردانہ کمزوری دور

پروفیسر کوسٹفورڈ کا کہنا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ اگر آپ اس وقت اینٹی بائیوٹکس استعمال کریں جب آپ کو اس کی ضرورت نہیں ہے تو اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ آنے والے مہینوں میں آپ کو وہ انفیکشن ہوجائے جس میں اینٹی بائیوٹیکٹس اثر نہیں کریں گی۔  اے پی پی.
Urdu Khabrain
Health Khabrain, Health News, Health Urdu News, News, Pakistan Health News, Pakistani News, Samaa, Top Health News, Urdu, Urdu Khabrain, Urdu News, Viral Health News, اینٹی, بائیوٹکس, صحت, کرنےوالےاحتیاط, کریں

No comments:

Post a Comment

ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟

https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...