https://goo.gl/oHAbef
آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان جاری تیسرے ایشز ٹیسٹ میں آسٹریلیا کی ٹیم فتح کی جانب گامزن ہے اور انگلینڈ پر اننگز کی شکست اور ایشز سیریز گنوانے کا خطرہ منڈلانے لگا ہے۔
پرتھ ٹیسٹ میں ڈیوڈ ملان نے 140 رنز کی اننگز کھیل کر اپنی ٹیم کو تباہی سے بچایا اور اس کے جواب میں آسٹریلین کپتان اسٹیون اسمتھ نے ڈبل سنچری اسکور کی جبکہ مچل مارش نے بھی 181 رنز کی اننگز کھیلی لیکن حیران کن طور پر ان تمام اننگز کے باوجود آسٹریلیا اور انگلش میڈیا میں مچل اسٹارک کی دھوم مچی ہوئی ہے۔
مچل اسٹارک نے انگلینڈ کی دوسری اننگز میں 55 رنز کی اننگز کھیل کر آسٹریلیا کیلئے خطرہ بننے والے جیمز ونس کو آؤٹ کر کے اپنی ٹیم کو چوتھی کامیابی دلائی اور ان کی اس شاندار گیند کو 'صدی کی بہترین گیند' قرار دیا جا رہا ہے۔
You won't find many players in world cricket who can keep this out...
— The Ashes on BT Sport (@btsportcricket) December 17, 2017
The delivery of the series so far 😳
James Vince could do nothing about this!
100-4
📺 BT Sport 1 HD pic.twitter.com/ILG2zvV8lg
بائیں ہاتھ کے مچل اسٹارک نے راؤنڈ دی وکٹ آ کر گیند پھینکی جو بیچ وکٹ میں پڑنے کے بعد لیگ اسپن کی طرح جیمز ونس کی آف اسٹمپ اڑا لے گئی۔
اس گیند کے سوشل میڈیا پر اسٹارک کی واہ واہ کی جانے لگی اور کرکٹ شائقین کے ساتھ ساتھ چند نامور کرکٹرز نے اس گیند کو 'صدی کی بہترین گیند' قرار دے دیا۔
انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل وان نے اپنی ٹوئٹ میں اسے صدی کی بہترین گیند قرار دیسوئنگ کے بادشاہ اور قومی ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم بھی اس گیند کی داد دیے بغیر نہ رہ سکے اور انہوں نے کہا کہ اسٹارک کی اس گیند انہیں اپنے باؤلنگ کے دنوں کی یاد دلا دی۔
That’s called a JAFFA! What a delivery @mstarc56 you reminded me of my bowling days and I enjoyed it to the hilt! You made left armers proud! @CricketAus
— Wasim Akram (@wasimakramlive) December 17, 2017
اس گیند کا شکار ہونے والے جیمز ونس بھی اسٹارک کی تعریف کیے بنا نہ رہ سکے اور انہوں نے کہا کہ اگر میں دوبارہ 20 سے 30 مرتبہ بھی اس گیند کا سامنا کرتا ہوں، تو بھی ہر مرتبہ آؤٹ ہو جاؤں گا۔
20ویں صدی کی بہترین گیند کرانے کا اعزاز رکھنے والے سابق عظیم لیگ اسپنر شین وارن نے بھی سوال کیا کہ کیا اسے صدی کی بہترین گیند قرار دیا جا سکتا ہے؟
Urdu Khabrain
No comments:
Post a Comment