Wednesday, 27 December 2017

’انسانوں کی تاریخ میں آج تک 80 فیصد شادیاں آپس میں۔۔۔‘ انسانی تاریخ میں شادیوں کے بارے میں ایسا حیرت انگیز انکشاف جسے جان کر ڈاکٹروں کے بھی ہوش اُڑجائیں

https://goo.gl/5wQhv1
واشنگٹن(نیوز ڈیسک)کزن میرج ایک ایسا معاملہ ہے جس کے خلاف مغربی دنیا میں بہت سخت رائے پائی جاتی ہے۔ اس رائے کی بنیادی وجہ وہ سائنسدان اور ڈاکٹر ہیں جن کے مطابق قریبی رشتہ داروں کے ساتھ شادی کی وجہ سے بچوں میں جینیاتی بگاڑ اور متعدد قسم کی بیماریوں کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ یہ رائے صرف جدید دور میں ہی نہیں بلکہ کسی نا کسی صورت میں قدیم دور میں بھی موجو دتھی۔ ویب سائٹ gizmodo.comکے مطابق کزن میرج پر پابندی زمانہ وسطٰی کے معاشروں میں بھی لگائی جاتی رہی ہے۔ مثال کے طور پر 506عیسوی میں رومن کیتھولک چرچ کی جانب سے کزن میج پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس کے بعد بھی تاریخ کے کئی ادوار میں کزن میرج پر یا تو پابندی عائد کی گئی یا معاشرے میں اسے ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا گیا۔

اس سب کے باوجود یہ انکشاف ہر کسی کے لئے، اور خصوصاً کزن میرج کے مخالف سائنسدانوں اور ڈاکٹروں کے لئے، یقینا شدید حیرت کا باعث ہے کہ انسانی تاریخ میں 80 فیصد سے زائد شادیاں فرسٹ یا سیکنڈ کزنز کے درمیان ہی ہوئی ہیں۔ دراصل، انیسویں صدی کے وسط تک مغربی دنیا اور خصوصاً یورپ میں بھی کزن میرج کا رواج بہت عام پایا جاتا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ’نیچرل سلیکشن‘ کے نظریے کی بنیاد رکھنے والے سائنسدان چارلس ڈارون کی اپنی شادی ان کی فرسٹ کزن ایما ویج ووڈ سے ہوئی تھی۔
انیسویں صدی میں کزن میرج کی مخالفت میں ایک بار شدت نظر آنا شروع ہوئی اور امریکہ کی متعدد ریاستوں نے کزن میرج پر قانونی پابندی عائد کردی۔ سب سے آخر میں کزن میرج پر پابندی ریاست ٹیکساس نے 2005ءنے لگائی اور اب امریکہ کی درجن بھر ریاستوں میں کزن میرج قانونی طور پر منع ہے۔

نئی تحقیق میں سامنے آنے والے حیران کن اعداد و شمار نے پہلی بار یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ آیا کزن میرج کے نقصانات واقعی ایسے سنگین ہیں جیسے کہ بیان کئے جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یقینا اس ضمن میںکوئی حتمی رائے دینے سے قبل سنجیدہ تحقیق کی ضرورت ہے۔
Urdu Khabrain

No comments:

Post a Comment

ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟

https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...