https://goo.gl/KKYgep
جنگلی حیات کے تحفظ کے ادارے انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (آئی یو سی این) کے مطابق ان جانوروں کو سب سے زیادہ خطرہ یورپ میں ہے۔ یورپ میں اس وقت جھینگر اور ٹڈی کی ایک ہزار سے زیادہ انواع پائی جاتی ہیں۔
یورپ کے جھینگروں پر کیے جانے والے ایک جامع جائزے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جھینگر اور ٹڈی (گراس ہاپر) کی نسلیں معدومی کا شکار ہو رہی ہیں۔
آئی یو سی این کا کہنا ہے کہ اگر فوری عمل نہ کیا گیا تو جھینگر اور ٹڈی ماضی کا قصہ بن کر رہ جائیں گے۔
یہ دونوں اقسام کے جانور آرتھوپٹیرا گروپ سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ گھاس کے میدانوں میں رہتے ہیں۔
یہ پرندوں اور رینگنے والے جانوروں کے لیے خوراک کا اہم ذریعہ ہیں، اور ان کی معدومی سے ماحولیاتی نظام کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
ان جانوروں کو جنگل کی آگ، زیادہ سے زیادہ زمین کا زراعت کے لیے استعمال اور سیاحت کے فروغ کی وجہ سے خطرہ لاحق ہے۔
آئی یو سی این کے ڈپٹی ڈائریکٹر ژاں کرستوف وائی نے کہا کہ ان جانوروں کے معدومی کے دہانے سے نکالنے کے لیے ان کے ماحول کا تحفظ ضروری ہے۔
انھوں نے کہا: ‘زراعت کے روایتی طریقے استعمال کر کے ایسا گھاس کے میدانوں کا تحفظ کر کے ایسا کیا جا سکتا ہے۔
‘اگر ہم نے ابھی عمل نہ کیا تو یورپ کے گھاس کے میدانوں سے جھینگر کی آواز آنا بند ہو جائے گی۔’
اس تجزیے پر دو سال کا عرصہ صرف ہوا اور اس میں 150 سائنس دانوں نے حصہ لیا۔
رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ یورپ بھر میں ان جانوروں کی آبادی کے رحجانات پر نظر رکھنے کے لیے پروگرام وضع کیے جائیں۔
Urdu Khabrain
Monday, 18 December 2017
جھینگر اور ٹڈی ماضی کا قصہ بن کر رہ جائیں گے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟
https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...
-
https://goo.gl/jsbpLD لاہور ( نیوز ڈیسک) فلم پرچی کی مرکزی کاسٹ میں شامل حریم فاروق اور علی رحمان خان نے ٹرک اڈے پر فوٹو شوٹ کرایا جس کی تصا...
-
https://is.gd/3wsREo یہ جینز 1893ء میں ایک اسٹور کے مالک نے خریدی تھیں۔ فوٹو : گلف نیوز واشنگٹن: امریکا میں 125 سال پرانی جینز کی دو پتلونیں...
-
https://is.gd/Jbk441 دلہن کے والد نے جہیز کی بقیہ رقم کا فوری مطالبہ کیا جس پر دلہا غصے میں آگیا۔ فوٹو: انٹرنیٹ متحدہ عرب امارات کے ایک شہری...
No comments:
Post a Comment