Friday, 19 January 2018

میں نے اس صحافی سے اپنی کمپین کی کوریج کی درخواست کی تو اس نے کھانے پر بلالیا، ملنے گئی

https://goo.gl/wFytvF
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)میڈیا انڈسٹری کو پڑھے لکھے لوگوں کا شعبہ سمجھا جاتا ہے جس سے وابستہ لوگوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ عوام کو شعور دیں گے، لیکن اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہو گی کہ شعور دینے والے خود ہی گمراہی کے راستے پر چل پڑیں۔ اگرچہ کالی بھیڑیں ہر جگہ ہوتی ہیں لیکن حال ہی میں سامنے آنے والے انکشافات سے پتا چلتا ہے کہ میڈیا میں ان کی تعداد افسوسناک حد تک زیادہ ہے۔ اس کی ایک جھلک ویب سائٹ dawn.com کی ایک رپورٹ میں کئے جانےوالے شرمناک انکشافات ہیں، جہاں میڈیا سے وابستہ متعدد خواتین نے بتایا ہے کہ انہیں کام کے دوران ہراساں کیا گیا ہے۔

ایک خاتون نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کا احوال بیان کرتے ہوئے بتایا ”میں نے ایک انتہائی مشہور اور مقبول رپورٹر کو اپنی کمپین کی کوریج کیلئے بلایا۔ اس نے مجھے واٹس ایپ کے ذریعے پراجیکٹ کی معلومات بتانے کو کہا۔ بعد میں اس نے مجھے کال کی اور جب میں اسے پراجیکٹ کی تفصیلات بتارہی تھی تو وہ کہنے لگا ’پہلے تو مجھے یہ بتائیں کہ آپ کی واٹس ایپ تصویر میں کون ہے؟‘ میں نے حیران ہوتے ہوئے کہا کہ وہ میری ہی تصویر ہے، جس پر وہ کہنے لگا ’اگر وہ آپ ہی ہیں تو پھر تو میں آپ سے ضرور ملوں گا۔‘

میں نے اس کی ایسی باتوں کا مثبت ردعمل نہیں دیا، لیکن جب ہماری ملاقات ہوئی تو اس نے بات چیت کے دوران اچانک میرے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا اور کہنے لگا کہ ’میں نے اتنے پیارے منہ سے کبھی اتنی پیاری آواز نہیں سنی۔‘ اسے پراجیکٹ کے بارے میں بات چیت کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ وہ اس ملاقات کے بعد بھی میرے ساتھ روابط کی کوشش کرتا رہا لیکن میں نے اسے کوئی جواب نہیں دیا۔“
عوامی مقامات پر فرائض سر انجام دینے والی خواتین صحافیوں کی مشکلات بھی کم نہیں۔ انہیں بعض اوقات کیسی بے حیائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا، اس کا اندازہ ایک خاتون رپورٹر کے ساتھ پیش آنے والے واقعے سے کیا جا سکتا ہے۔ اس خاتون صحافی نے بتایا ”میں ایک میلے کی رپورٹنگ کیلئے ایک درگاہ پر گئی تھی۔ یہ رات کا وقت تھا اور وہاں پر لوگوں کا ایک بڑا ہجوم جمع تھا۔ اگرچہ میرے ساتھی میری حفاظت کی کوشش کر رہے تھے لیکن اس کے باوجود ایک شخص میرے جسم کو پیچھے سے چھورہا تھا۔ اس نے ایسا بار بار کیا، یہاں تک کہ میں ایک پتھر اٹھا کر اسے مارنے کیلئے پیچھے مڑی، لیکن وہ باآسانی ہجوم میں غائب ہوگیا اور میں کچھ بھی نہیں کر سکی۔

ہر چیز کے 2پہلو ہوتے ہیں ، مثبت بھی اور منفی بھی ۔ مثبت تو بڑے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے
کہ آج کل بہت کم دیکھنے میں آتا ہے تاہم آج کی نوجوان نسل چیزوں کا منفی پہلو بڑی جلدی تلاش کر لیتی ہے ۔

ایسا ہی کچھ ہوا روالپنڈی کی ایک کمسن نوجوان لڑکی ماہم معشوق کے ساتھ جس نے گھر والوں کے خلاف جا کر نہ صرف اپنی پسند کی شادی کی بلکہ اپنے والدین کیلئے مزید شرم کا باعث یوں بنی کہ انہیں کھلم کھلا چیلنج کر ڈالا

کہ آپ ہمارے پیچھے آ کر کچھ حاصل نہیں کرپائیں گے ، میں ایک بالغ لڑکی ہوں اور اپنی مرضی کی شادی کا اختیار رکھتی ہوں ۔ لہذا آپ لوگوں سے گزارش ہے کہ مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں اور مجھے تنگ مت کریں ۔

علی ظفر پاکستان کے ایک جانے مانے گلوگار ہیں جن کے مداحوں کی تعداد پاکستان اور انڈیا میں لاکھوں میں ہے جو انہیں ایک نظر دیکھنے اور ملنے کی خواہش لئے پھرتی ہیں۔ ایسی ہی ایک لڑکی کی خواہش جب پوری ہوئی تو اس نے چیخوں سے آسمان سر پر اٹھا لیا اور اگر یہ کہا جائے کہ علی ظفر نے لڑکی کی ”چیخیں“ نکلوا دیں تو غلط نہ ہو گا۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ علی ظفر کسی جگہ پر کنسرٹ کر رہے ہیں کہ اس دوران حاضرین میں موجود ایک لڑکی رکاوٹ عبور کر کے سٹیج کے قریب آنے کی کوشش کرتی ہے۔ جس پر سیکیورٹی پر مامور افراد اسے روکنے کی کوشش کرتے ہیں تاہم وہ علی ظفر کیساتھ ملنے پر بضد رہتی ہے۔

علی ظفر کا دل بھی پگھل جاتا ہے اور وہ اپنا ہاتھ لڑکی کی طرف بڑھا دیتے ہیں جسے تھامنے کے بعد لڑکی ہاتھ چھوڑنے سے انکار کر دیتی ہے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے علی ظفر اسے اپنے پاس سٹیج پر کھینچ لیتے ہیں۔جیسے وہ سٹیج پر پہنچی تو چیخوں کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ حاضرین بھی دم بخود رہ گئے اور اتنا شور مچا کہ کانوں پڑی آواز بھی سنائی نہیں دے رہی تھی۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے اور اب تک ہزاروں افراد اسے پسند اور شیئر کر چکے ہیں۔نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کیجئیے

علیم کی کمی معاشرے میں ان گنت مسائل کو جنم دے رہی ہے۔ ایسے کئی واقعات آئے روز میڈیا کی زینت بنتے رہتے ہیں جن میں جاہلیت کے ایسے مناظر دیکھنے کو ملتےہیں کہ عقل حیرن رہ جاتی ہے۔

ایسا ہی ایک واقعہ پنڈی بھٹیاں کے گائوں بھنگسیکا میں پیش آیا ہے جہاں صرف گھر کی جائیداد کو گھر تک محدو و رکھنے کےلئے ایک بے جوڑ اور غیر فطری رشتے کو قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کی اجازت شریعت دیتی ہے اور نہ ہی قانون۔ ایک 21سالہ لڑکی کی شادی اس کے دس سال کے کزن کے ساتھ کی جا رہی ہے۔

نجی ٹی وی چینل نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ 21سالہ مہوش کو اس کے دس سال کے کزن اللہ دتہ کے ساتھ صرف اس لئے بیاہا جا رہا ہے کہ کیونکہ دونوں آپس میں کزن ہیں ۔

اور اگر یہ بے جوڑ رشتہ نہ کیا گیا تو گھر کی جائیداد خاندان سے باہر کسی کو دینی پڑ جائے گی۔ اہل علاقہ نے واقعے پر حیرت اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔

قرآن شریف دنیا کا سب سے بڑا وہ ظاہر معجزہ ہے اور وہ الہامی کتاب ہے جس میں قیامت تک پیش آنے والے ہر واقعہ کی پیش گوئی کردی گئی ہے، کچھ باتیں
کھلی اور کچھ ڈھکی چھپی ہیں تاکہ سمجھنے والے اسے سمجھ سکیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ عقل والوں کے لیے اس میں کھلی نشانیاں موجود ہیں۔

آج دنیا زمین کے مسلسل بڑھنے والے درجہ حرارت سے پریشان ہے،جسے گلوبل وارمنگ کا نام دیا گیا ہے، سائنس دان بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ زمین کا درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے، اس ضمن میں قرآن شریف میں بہت واضح طور پر کم از کم دو بار اللہ تعالیٰ دنیا بھر کو خبردار کرچکے ہیں۔سورۃ الانبیا میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:بلکہ ہم نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو برتاوا دیا یہاں تک کہ زندگی ان پر دراز ہوئی تو کیا نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے آرہے ہیں تو کیا یہ غالب ہوں گے؟( سورۃ انبیاء، آیت 44)سورہ الرعد میں بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آتے ہیں اور خدا (جیسا چاہتا ہے) حکم کرتا ہے کوئی اس کے حکم کا رد کرنے والا نہیں اور وہ جلد حساب لینے والا ہے(سورۃ الرعد، آیت 41)ان دونوں سورۃ کی آیات کا ترجمہ دیکھیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اور ہم زمین کے کناروں کو گھٹاتے چلے آئے ہیں؟

کیسے؟؟زمین پر تین حصے پانی، ایک حصہ خشکی:ہماری زمین پر تین حصے پانی اور صرف ایک حصہ یا اس سے کم خشکی ہے، سائنس دانوں کے مطابق زمین پر 71 فیصد پانی اور 29 فیصد خشکی ہے۔اس خشک حصے کا 20 فیصد پہاڑوں پر مشتمل ہے اور 20 فیصد حصہ برف سے ڈھکا ہوا ہے جس میں پورا براعظم انٹار کٹیکا شامل ہے جہاں برف کے عظیم الشان گلیشیر بھی موجود ہیں۔زمین کا درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے:سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ زمین کا درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے
اس کی وجہ انسان خود ہے جو اپنی ایجادات،درختوں کے کٹاؤ اور دیگر اقسام کی ماحولیاتی آلودگی پھیلانے کے سبب زمین کے اطراف موجود اوزون کی تہہ ختم کررہا ہے جس کے باعث دھوپ کی شعاعیں چھن کر آنے کے بجائے براہ راست زمین پر پڑ رہی ہیں اور درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔برف کے پہاڑ پگھلنے لگے:درجہ حرارت بڑھنے کے سبب زمین موجود برف کے عظیم الشان پہاڑ متاثر ہیں اور حالیہ رپورٹس کے مطابق ان کے پگھلنے کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے

نتیجے میں سمندروں میں پانی کی مقدار مسلسل بڑھ رہی ہے اور سطح آب مسلسل بلند ہورہی ہے۔چند روز قبل ہی عالمی اداروں نے رپورٹ دی ہے کہ زمین کا درجہ حرارت بڑھنے کے سبب قطب جنوبی میں واقع براعظم انٹارکٹیکا میں 6 ہزار مربع کلومیٹر برفانی تودہ شگاف پڑ
جانے کے باعث ٹوٹ کر خطے سے علیحدہ ہوگیا۔دنیا کے کئی بڑے شہر غرق ہونے کی پیش گوئیاں:سطح سمندر بلند ہونے سے زمین کا خشک حصہ کم ہورہا ہے حتیٰ کہ کچھ اداروں نے برسوں بعد دنیا کے کئی بڑے شہر غرق آب ہونے کی پیش گوئی بھی کررکھی ہے جو کہ سمندر کنارے واقع ہیں۔یہ واقعی حقیت ہے کہ درجہ حرارت
Urdu Khabrain

No comments:

Post a Comment

ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟

https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...