https://goo.gl/3V4fmj
ڈی جی سول ایوی ایشن کے رویئے کے خلاف افسران و ملازمین کی بغاوت کے بعد انتظامی ڈھانچہ مفلوج ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔
ڈائریکٹر جنرل سول ایوی ایشن ایئر مارشل ریٹائرڈ عاصم سلیمان کے ملازمین کے ساتھ رویے کو سینئر افسران وملازمین نے ہتک آمیز قرار دیتے ہوئے سخت موقف اختیار کیا اور مشیر ہوا بازی کو خط تحریر کیا جس میں ادارے کے سربراہ کی دماغی حالت کو مشکوک قرا ر دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ ان کا طبی معائنہ کرایا جائے اور ان کی جگہ کسی سنجیدہ اور اہل آفیسر کا تقرر کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق آج مزید 32 ایڈیشنل ڈائریکٹرز نے ڈی جی سول ایوی ایشن کے خلاف ہتک آمیز سلوک کے معاملے پر درخواست دی جب کہ ڈی جی سی اے اے کے خلاف ایوی ایشن ڈویژن کو ارسال کیے گئے خطوط کی تعداد 3 ہوگئی اور ائیرٹریفک کنٹرولرگلڈ بھی ڈی جی کے خلاف افسران وملازمین کے مؤقف کی تائید کرچکا ہے۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے ایئر مارشل ریٹائرڈ عاصم سلیمان کو نومبر 2015 کو ڈی جی سول ایوی ایشن مقررکیا تھا اور اپنی تقرری کے بعد سے ہی ڈی جی تمام افسران و اہلکاروں کے خلاف انتہائی اقدامات اٹھارہے ہیں اور خاص طورپر توہین آمیز اور گندی زبان استعمال کرتے ہیں۔
Urdu Khabrain
Breaking Pakistani News, Daily Pakistan News, Online Pakistani News, Pakistan latest News, Pakistan News, Pakistan Urdu News, Pakistani Khabrain, Top Pakistani News, افسران, ایشن, ایوی, بغاوت, جی, خلاف, رویئے, سول, وملازمین, پاکستان, ڈی, کی, کے
Monday, 1 January 2018
ڈی جی سول ایوی ایشن کے رویئے کے خلاف افسران وملازمین کی بغاوت
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
ملائشیا جعلی خبروں کو روکنے والا قانون کیوں ختم کیا گیا؟
https://urdukhabrain.com.pk/2018/08/19/urdu-news-39725 ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قان...
-
https://goo.gl/jsbpLD لاہور ( نیوز ڈیسک) فلم پرچی کی مرکزی کاسٹ میں شامل حریم فاروق اور علی رحمان خان نے ٹرک اڈے پر فوٹو شوٹ کرایا جس کی تصا...
-
https://is.gd/3wsREo یہ جینز 1893ء میں ایک اسٹور کے مالک نے خریدی تھیں۔ فوٹو : گلف نیوز واشنگٹن: امریکا میں 125 سال پرانی جینز کی دو پتلونیں...
-
https://is.gd/Jbk441 دلہن کے والد نے جہیز کی بقیہ رقم کا فوری مطالبہ کیا جس پر دلہا غصے میں آگیا۔ فوٹو: انٹرنیٹ متحدہ عرب امارات کے ایک شہری...
No comments:
Post a Comment